Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈین فلم انڈسٹری بالی وُڈ ’پروپیگنڈا فلمیں‘ کیوں بنا رہی ہے؟

’سیارہ‘ نے انڈٰین سینما کی تاریخ میں ریکارڈ ساز بزنس کیا ہے (فوٹو: سکرین گریب)
انڈیا کی فلم انڈسٹری بالی وُڈ تیزی سے ایسے سینما کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ایکشن، تھرل، سیاست، حب الوطنی اور نظریاتی کرداروں کے گرد گھومتی کہانیاں بنائی جا رہی ہیں۔
فلم ساز دلچسپ کہانیوں کے بجائے تاریخی واقعات اور نظریات کے گرد گھومتی فلموں پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سینما گھروں کا رخ کریں۔
خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس رجحان نے بالی وڈ میں ’ایونٹ سینما‘ کو فروغ دیا ہے، جس کے تحت بڑے بجٹ، سپر سٹارز اور شاندار مناظر کے ذریعے فلم بینوں خصوصاً سمارٹ فون سے جڑی جنریشن زی کو دوبارہ سینما گھروں کی طرف لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ حکمتِ عملی بظاہر کامیاب بھی دکھائی دے رہی ہے۔ معروف فلم نمائش کار اکشے راٹھی کے مطابق رواں سال ہندی باکس آفس کی خالص آمدن میں 45 سے 50 فیصد اضافہ جبکہ نوجوان سینما بینوں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سال بالی وُڈ کے لیے تاریخی ثابت ہو سکتا ہے۔‘
کورونا وبا کے دوران بالی وُڈ کا مالی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا تھا، اسی عرصے میں سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے فروغ اور گھریلو تفریح کے رجحان نے سینما انڈسٹری کو نئی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 2026 میں ریلیز ہونے والی فلمیں زیادہ تر جنگی ڈراموں، جاسوسی تھرلرز، ساطیری کہانیاں (قدیم روایات پر مبنی کہانیاں) اور قوم پرستانہ بیانیے کے گرد موضوعات پر بنیں ہوں گی۔

پروپیگنڈا کے الزامات

ناقدین کا کہنا ہے کہ بالی وُڈ میں ایسی فلموں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو وزیرِاعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے نظریات سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں اور سینما کی وسیع عوامی رسائی کو رائے عامہ متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
فلم تجزیہ کار اور ’کمپلیٹ سینما‘ میگزین کے ایڈیٹر اتل موہن کا کہنا ہے کہ ’آج کل فلموں کے موضوعات اس بات پر بھی منحصر ہیں کہ مرکز میں کون سی حکومت ہے۔‘
ان کے مطابق ’ہندوتوا اور پروپیگنڈا جیسے عوامل پر فلم ساز سرمایہ کاری کر رہے ہیں، مگر ہر ایسی فلم کامیاب نہیں ہوتی۔‘
انہوں نے 2022 کی بلاک بسٹر فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کی مثال دی جس میں 1989-90 کے دوران انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر سے ہندوؤں کی ہجرت کو موضوع بنایا گیا تھا، جبکہ 2025 کی فلم ’دی بنگال فائلز‘، جس میں مشرقی انڈیا میں مبینہ سیاسی تشدد دکھایا گیا، تجارتی طور پر ناکام رہیں۔

ناقدین نے ’کشمیر فائلز‘ کو پروپیگنڈا قرار دیا تھا (فوٹو: روئٹرز)

ماہرین کے مطابق جغرافیائی سیاسی تنازعات، اندرونی دشمنوں اور مردانہ ہیرو ازم پر مبنی فلمیں اب مرکزی ہندی سینما پر حاوی ہو چکی ہیں، جو سیاسی فضا اور سینما کی بقا کی معاشی ضرورت دونوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
گزشتہ سال ریلیز ہونے والی پُرتشدد ایکشن فلم ’دھورندھر‘ جس میں پاکستانی پس منظر سے جڑے دشمنوں کے خلاف انڈین ایجنٹس کو دکھایا گیا، 2025 کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شامل رہی۔ یہ فلم پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے فوراً بعد منظرِعام پر آئی تھی۔
اس کا سیکوئل ’دھورندھر ٹو‘ مارچ میں ریلیز ہونے جا رہا ہے۔

’بے جا تشدد‘ پر تنقید

دہلی سے تعلق رکھنے والے سینئر فلم کریٹک ارنب بنرجی کا کہنا ہے کہ ’آج کے دور میں فلم کا معیار نہیں بلکہ سیاسی پیغام اس کی کامیابی کا فیصلہ کر رہا ہے۔‘ ان کے مطابق ’قوم کا مجموعی مزاج ایسا ہے کہ پاکستان اور دوسرے دشمن ممالک کے مخالف بیانیے بغیر سوال کے قبول کیے جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے فلموں میں ’بے جا تشدد‘ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اب فلموں کی قسمت کا فیصلہ سوشل میڈیا کی ہائپ کر رہی ہے۔ انہوں نے جنوری میں ریلیز ہونے والی 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ پر مبنی فلم ’اکیس‘ کی مثال دی، جو مثبت ریویوز کے باوجود باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی۔
دوسری جانب ہدایت کار احمد خان کا کہنا ہے کہ ’بالآخر فلم کی کامیابی کا دارومدار اس کے معیار پر ہوتا ہے چاہے صنف کوئی بھی ہو۔‘ انہوں نے اپنی آنے والی فلم ’ویلکم ٹو دی جنگل‘ اور 2025 میں کامیاب ہونے والی رومانوی فلم ’سیّارہ‘ اور ایکشن فلم ’دھرندھر‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا مزاج کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔

شیئر: