’’ عمرانی شکنجہ‘‘

***شہزاد اعظم***
تمام تر ہوش و حواس مجتمع کر کے اگر اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے کہ ’’فیشن کیا ہے ؟‘‘ توجوابی رد عمل یہی ملے گا کہ کسی بھی انسان کے ذہن میں ابھرنے والے بے سروپاخیالات کی تلبیس کو فیشن کہتے ہیں۔‘‘ہر فیشن شروع شروع میں تو یکدم عام ہوتا ہے مگر جیسے جیسے بات لوگوں کی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ تو ایک فرد کے ذہن کے بے سروپا خیالات کو اوڑھایا جانے والا لبادہ تھا، وہ اس سے جان چھڑانے لگتے ہیں اور اسی اثناء میں کسی دوسرے شخص کے ذہن کی اُلٹی سیدھی سوچیں ، نئے انداز میں لباس کے اندر گھسنے پر آمادہ کر دیتی ہیں۔
ہمیں ماضی بعید آج بھی از بر ہے ۔ ہم ننھے سے تھے جب ایک فیشن عام ہوا، یہ شاید کسی قلاش، فقیر، بھکاری یا کنجوس کے ذہن کی سوچ تھی کیونکہ اس نے فیشن کے نام پر جو لباس متعارف کرایا وہ انتہائی چست تھا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ لباس کو وجودِ انسانی کے ساتھ اس انداز میں ملا دیا جائے کہ وہ لباس نہیں بلکہ انسانی جلد کے قائم مقام دکھائی دینے لگے ۔اسے ’’ٹیڈی‘‘ فیشن قرار دیا گیا تھا۔دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ٹیڈی فیشن والا لباس پہنا نہیں جاتا تھا بلکہ جسم پر ’’مڑھا‘‘ یا ’’چڑھایا‘‘جاتا تھا۔اس کامالی فائدہ یہ ہوتا تھا کپڑا قدرے کم خرچ ہوتا تھااورجمالی فائدہ یہ تھا کہ تمام’’ حقائق‘‘عیاں ہوتے تھے مگر نقصان ان فوائد سے کہیں زیادہ تھا کیونکہ ٹیڈی لباس میں ’’توند‘‘ چھپانا ناممکن ہوتا تھا۔ 
یہی وجہ ہے کہ ٹیڈی فیشن زیادہ عرصے جاری و ساری نہیں رہا اور کچھ عرصے کے بعدٹیڈی کے برعکس فیشن نے دھاوا بول دیا۔اس فیشن میں دھان پان وجود کے لباس کے لئے بھی کئی کئی گز کپڑا درکار ہوتا تھا۔ نئے فیشن میںکسی ایک ہستی کیلئے جو پتلون تیار ہوتی تھی ، اس کے پائنچے بہت کھلے یعنی چوڑے ہوا کرتے تھے۔اس اعتبار سے وہ پتلون،غرارہ تو نہیں ہوتی تھی تاہم غرارے کی عمزاد ضرور لگتی تھی۔اس پتلون کو ’’فلیپر‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس سے ٹیڈی قسم کی کم از کم 2.5پتلونیں تیار ہو سکتی تھیں۔
فلیپر کا فیشن، ٹیڈی کے مقابلے میں زیادہ دیرپا اور پسندیدہ ثابت ہوا ۔ ماہرین عروسیات کا کہنا ہے کہ فلیپر کی مقبولیت کا ایک سبب یہ تھا کہ یہ حقائق کی ’’پردہ پوشی‘‘ کرتا تھا مثلاًتوند والی ہستی فلیپرپہنتی تو اس کا یہ عیب مستور ہو جاتا۔ لوگ اسے ’’اسمارٹ‘‘ اور ’’بے توند‘‘ سمجھ کرنہ صرف اس کو ’’قبول‘‘ کر لیتے بلکہ اس کی ذات سے مرعوب ہو جاتے۔پھر جب حقیقت عیاں ہوتی تو جو کچھ ہونا چاہئے ، وہ ہوتاتھا۔
یہ فیشن کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہے کیونکہ ہمارے ہاں’’حقائق پر پردہ‘‘ ڈالنے کی ضرورت شاید دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔اس امر کا ثبوت ہم خود ہیں۔ اگر ہمیں ’’توند کی بنیادوں‘‘پرپرکھا جائے توہمارا شمار ’’توندیل‘‘ مردوں میں ہوتا ہے۔ ہم نے اپنے اس’’ عیب‘‘ کو چھپانے کیلئے گزشتہ کئی دہائیوں سے ’’فلیپرانہ طرزِ تلبیس‘‘اختیار کر رکھی ہے۔ہم ’’ٹیڈی پن‘‘ سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔کھلے پائنچوں کی ’’پا جامہ نما پتلونیں‘‘ ہمارا پسندیدہ’’ جامہ‘‘ہیں۔اپنے وجود کے بالائی حصے کو ہم ڈھیلی ڈھالی ’’شرٹ، ٹی شرٹ یا بوشرٹ‘‘ سے مزین رکھتے ہیں۔ یوں ہماری توند، مٹاپااور بڑھاپا، تینوں ہی دنیا و ما فیہا کی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کل ہم جیسے ’’عیب دار‘‘لوگوں کیلئے پاکستان میں قیام اپنی موت کو دعوت دینے یا کم از کم ’’آبیل مجھے مار‘‘ کے مصداق ضرور ہے ۔اس کا سبب یہ ہے کہ وہاں جب سے ’’پی ٹی آئی‘‘ کی حکومت آئی ہے ، وہی ’’ٹیڈی پن‘‘دوبارہ عود کر آگیا ہے۔ اس مرتبہ اس کا نام شروع تو ’’ٹ‘‘ سے ہی ہوتا ہے مگر وہ ’’ٹیڈی‘‘ نہیں بلکہ ’’ٹائٹ‘‘ کہلا رہا ہے ۔ 
حالت یہ ہے کہ بلا تخصیصِ صنف  ’’ٹائٹس‘‘اتنی مقبول و معروف ہیں کہ ہر طرف ’’ٹائٹ زدگان‘‘ دکھائی دیتے ہیں۔بعض ’’شرم و حیا‘‘ سے مغلوب ہستیاں ’’ٹائٹ‘‘ سے عیاں ہونے والے حقائق کو قمیص یا شرٹ وغیرہ کے ڈھیلے پن کی باہمی شراکت سے مستور کرنے کی کوشش کرتی ہیںجبکہ بعض ایسی’’باہمت ‘‘ ہستیاں کہ جن کی زبان پر یہ جملہ رہتا ہے کہ ’’پھر کیا ہوا‘‘ یا ’’سو واٹ‘‘ یا ’’فیر کی ہویا‘‘، وہ بے دھڑک انداز میں ’’ٹائٹ‘‘  کا استعمال کرتی ہیںمگر.......
عمرانی حکومت میںفیشن کے دلدادگان کیلئے خاصی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ ان کی راہوں میں ایسے غیر مرئی کانٹے بچھ گئے ہیں کہ ’’نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن‘‘۔اب زمینی حقیقت یہ ہے کہ جس نے فلیپر پہن رکھا ہے ، اس کوشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ’’ ہر ’’فلیپر پوش‘‘ عیب دارنہیں ہوتا لیکن ہر عیب دار، فلیپر پوش ضرور ہوتا ہے۔ ‘‘ 
واقعی اسے کہتے ہیں سیاست کہ عیب دار اپنا عیب چھپانے کیلئے ’’فلیپر پوشی ‘‘پر مجبور ہیں اور حکومت ان پر ہاتھ ڈال رہی ہے اور جو لوگ ’’ٹائٹ پوشی‘‘کا وتیرہ اختیار کئے ہوئے ہیں ، وہ حقائق پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ایسے میں بہتر یہی ہے کہ جب تک پاکستان میں  ’’فلیپر پوشی‘‘کے خلاف مارا ماری اور’’ٹائٹ‘‘ کا فیشن جاری ہے، بیرون ملک ہی قیام کیاجائے ۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ باہر ہیں وہ وطن جانے سے ڈر رہے ہیں اور جو وطن میں ہیں وہ باہر نکلنے کی تگ و دو کر رہے ہیں تاکہ’’ عمرانی شکنجے‘‘ سے محفوظ رہ سکیں۔
 

شیئر:

متعلقہ خبریں