پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں جمعے کی نماز کے دوران ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ واقعہ ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں پیش آیا۔
مزید پڑھیں
-
افغانستان نے پاکستان کی قدر نہیں کی: وزیراعظم شہباز شریفNode ID: 899681
29 افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جمعے کی شب پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تصدیق کی اس خودکش دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 32 ہو گئی ہے۔ ’ پمز میں 28 جبکہ پولی کلینک میں چار ڈیڈ باڈیز کو لایا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’149 افراد کو پمز جبکہ 13 افراد کو پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پمز اور پولی کلینک لائے گئے 29 افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔‘
’پمز میں 25 جبکہ پولی کلینک میں چار زیر علاج افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔‘
عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟
اس واقعے کے عینی شاہدین نے اردو نیوز بتایا کہ حملہ آور نے پہلے داخلی راستے پر تعینات امام بارگاہ کی نجی سکیورٹی پر فائرنگ کی اور پھر تیزی سے آگے بڑھا۔
عینی شاہدین کے مطابق ’حملہ آور نے سکیورٹی پر مامور امام بارگاہ کی سکیورٹی پر فائرنگ کی، جس کے بعد وہ آگے بڑھا، دوسرا پوائنٹ بھی کراس کیا اور پھر تیسرے پوائنٹ پر، جو جمعہ کی نماز کی پچھلی صفوں کے قریب تھا، جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘
مقامی افراد نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ امام بارگاہ کے باہر پولیس کا کوئی اہلکار تعینات نہیں تھا اور تمام تر سکیورٹی انتظامات مقامی رضاکار ہی سنبھال رہے تھے۔

ہلاکتیں اور ہسپتالوں کی صورتحال
ترجمان ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں 10 سے 12 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ’دھماکے کے نتیجے میں اب تک مختلف ہسپتالوں میں 31 افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا ہے جبکہ 169 افراد زخمی ہوئے۔‘
شہر کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاہم زخمیوں کی بڑی تعداد اور لواحقین کے ہجوم کی وجہ سے انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔
’والد کی موٹر سائیکل یہاں ہے، وہ کہاں ہیں؟‘
ترلائی کلاں کی فضا اس وقت سوگوار ہے اور امام بارگاہ کے باہر درجنوں شہری اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ 26 سالہ رفعت حسین (فرضی نام) بھی انہی میں سے ایک ہیں جو اپنے والد کی شناخت کے لیے پریشاں حال کھڑے ہیں۔
رفعت حسین نے اردو بتایا کہ ان کے والد نماز کے لیے یہاں آئے تھے، ان کی موٹر سائیکل تو امام بارگاہ کے باہر کھڑی ہے لیکن ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ وہ اب ہسپتالوں کا رخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اپنے والد کا سراغ لگا سکیں۔
یہ کہانی صرف رفعت کی نہیں بلکہ درجنوں خاندان اس وقت اسی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا تھا: وزیر مملکت برائے داخلہ
حکومتِ پاکستان نے اس حملے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے امام بارگاہ کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ حملہ آور کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کر لی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’جس دہشت گرد نے اسلام آباد میں خودکش دھماکہ کیا، اس کے بارے میں معلومات مل چکیں۔ وہ افغان شہری تو نہیں لیکن اس کے افغانستان میں آنے جانے سے متعلق ہمیں معلومات ملی ہیں۔‘
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ دہشت گرد اب ’سافٹ ٹارگٹس‘ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’آج کے اس دھماکے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھی شہید ہوئے ہیں لیکن آئی جی اس وقت بھی اپنی وردی پہن کر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں داڑھی رکھ کر دہشت گردی کی جائے یا بی ایل اے کی طرح داڑھی کے بغیر، اس کے پیچھے انڈیا کی سپانسرشپ ہے۔‘

"ان دہشت گردوں کو ڈالرز میں تنخواہیں ملتی ہیں۔ اس واقعے سے متعلق جو بھی تفصیلات ہیں وہ 72 گھنٹے میں وزارت داخلہ دے گی۔‘
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندوستان اور طالبان کے گٹھ جوڑ کے تانے بانے مل رہے ہیں۔‘
انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور وطن دونوں کے دشمن ہیں۔ اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔‘
صدر اور وزیراعظم کی مذمت
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے دھماکے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے دامنی پھیلانے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔
افغانستان کا اظہارِ مذمت
افغانستان کی وزارت خارجہ نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان عبدالقہار بلخی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا:
"افغانستان کی وزارت خارجہ اسلام آباد کی ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے جس کے نتیجے میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان ایسے حملوں کی مذمت کرتا ہے جو مساجد اور مذہبی شعائر کے تقدس کی پامالی کرتے ہیں اور نمازیوں سمیت بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔"
اس وقت کیا صورتحال ہے؟
اس وقت جائے وقوعہ پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں اور ایلیٹ فورس کے جوانوں کو قریبی عمارتوں کی چھتوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔












