پولیس کمشنر سی بی آئی کے سامنے پیش ہوں،گرفتار نہ کیا جائے، سپریم کورٹ

نئی دہلی۔۔۔۔۔سپریم کورٹ نےکہا کہ  کولکتہ پولیس کمشنرراجیوکمارکو پوچھ گچھ کے لئے سی بی آئی کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ اس پرممتا بنرجی حکومت کی طرف سے ابھیشیک منوسنگھوی نے دلیل دی کہ سی بی آئی سرینڈرکرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے سی بی آئی کوحکم دیا کہ راجیو کمارکوگرفتارنہ کیا جائے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ راجیوکمارنے کبھی ایسا نہیں کہا ہے کہ وہ سی بی آئی کے سامنےپیش نہیں ہونگے۔ اگرکوئی وضاحت چاہئے تو آپ اس پرتبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ 'عدلیہ پر ہمارا مکمل یقین ہے ہرریاست میں ایک منتخب حکومت ہے، ریاست اورمرکز کی اپنی الگ الگ سرحدیں ہیں۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے ڈی جی پی، چیف سیکریٹری اورراجیوکمارکے خلاف ہتک عزت کی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ پولیس کمشنرراجیوکمارکے پاس تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ عدالت کی توہین کے سلسلے میں بعد میں غور کیا جائے گا۔اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے سپریم کورٹ میں کہا کہ معاملہ سی بی آئیکے سپرد کیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے  2014 سے 2017 کے دوران تمام شواہد جمع کئے اس کے بعد گرفتاری کے اقدامات کئے گئے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم بنگال کے عوام اور ذرائع ابلاغ کی جیت ہے۔سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت20فروری تک ملتوی کرتے ہوئے  کہا کہ ڈی جی پی ، پولیس کمشنر اور چیف سیکریٹری کو اس دن عدالت میں حاضر رہنا ہوگا۔
مزید پڑھیں:- - - - -اے ٹی ایم اکھاڑ کرلے جانیوالے لٹیرے گاڑی میں چھوڑ کر فرار

شیئر: