Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بھاٹی گیٹ کیس میں عدالت کا پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم

غلام مرتضیٰ نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے دوران حراست ان پر تشدد کیا (فوٹو: سکرین گریب)
لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں ماں اور اس کی کمسن بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر ہلاک ہونے کے کیس میں عدالت نے پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ضلع کچہری لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس کی عدالت میں مدعی نے آگاہ کیا کہ وہ ملزمان کے خلاف مزید کارروائی نہیں چاہتے، جس پر عدالت نے پانچ ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔
گرفتار ملزمان میں پراجیکٹ منیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج حنزلہ، اور سائٹ انچارج احمد نواز شامل تھے۔
یہ واقعہ 30 جنوری کو پیش آیا تھا، جب بھاٹی گیٹ کے قریب جاری تعمیراتی کام کے دوران ایک مین ہول کھلا چھوڑ دیا گیا تھا، جس میں خاتون اور اس کی 9 ماہ کی بیٹی گر کر ہلاک ہو گئیں۔ واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور ایئرپورٹ پر ہنگامی اجلاس طلب کیا اور متعلقہ افسران کو معطل کر دیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا۔ تاہم رات گئے خاتون کی لاش ملنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
غلام مرتضیٰ نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے دوران حراست ان پر تشدد کیا اور دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے لاپتہ ہونے کا ذمہ دار خود کو تسلیم کریں۔
ان الزامات کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کر دیا اور ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔
انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کی انکوائری رپورٹ میں ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او بھاٹی گیٹ کو قصور وار قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں افسران نے غلام مرتضیٰ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا اور ان پر تشدد کیا۔

انکوائری میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ غلام مرتضیٰ کو تقریباً پانچ گھنٹے غیرقانونی حراست میں رکھا گیا اور ان سے زبردستی بیانات لیے گئے۔
متاثرہ خاندان نے پولیس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ ان سے سادہ کاغذ پر انگوٹھے اور دستخط لیے گئے تاکہ متعلقہ محکموں کو ریلیف دیا جا سکے۔ پولیس نے وضاحت دی کہ یہ انگوٹھے مقدمے کی درخواست میں تصحیح کے لیے لیے گئے تھے، کیونکہ ابتدائی درخواست میں سیفٹی آفیسر کا نام غلط درج ہو گیا تھا۔
اس واقعے نے شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور عوامی سطح پر تعمیراتی منصوبوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی پر سوالات اٹھائے گئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ 

 

شیئر: