Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا اسلام آباد میں اب بغیر رجسٹریشن ٹیکسی اور بائیک سروسز چلانا ممکن نہیں؟

اسلام آباد میں چلنے والی نارمل ٹیکسی سروسز کی بھی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ٹیکسی یا بائیکیا سروس رجسٹریشن کے بغیر چلانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
پیر کو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’اسلام آباد میں تمام آن لائن ٹیکسی سروسز کی باضابطہ رجسٹریشن کا آغاز کل سے ہو جائے گا اور رجسٹریشن کے بغیر آن لائن ٹیکسی یا بائیکیا سروس چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
علاوہ ازیں، اسلام آباد میں چلنے والی نارمل ٹیکسی سروسز کی بھی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ بغیر رجسٹریشن ٹیکسی چلانے پر پابندی ہوگی۔ وہ بائیک سروسز جو کسی آن لائن کمپنی سے رجسٹرڈ نہیں ہیں تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ضلعی انتظامیہ کے ان اقدامات کے تحت نہ صرف ٹیکسی سروسز کی رجسٹریشن ہوگی بلکہ ان میں سفر کرنے والے مسافروں کا ڈیٹا بھی ایپ میں محفوظ رکھا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈرائیور کو مسافروں کے شناختی کارڈ نمبر کے اندراج کے بغیر سواری لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تمام غیر رجسٹرڈ چلنے والی گاڑیوں اور بائیکیا سروسز کی رجسٹریشن ڈیجیٹل آٹومیشن کے تحت کی جائے گی اور رجسٹریشن ایپ پر اسلام آباد پولیس کو بھی تمام ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگی۔ رجسٹریشن کے بعد ڈرائیورز کے لیے مسافروں کی تفصیلات اپ لوڈ کرنا بھی ضروری ہوگا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے اس حوالے سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو تمام ٹیکسی سروسز کے سی ای اوز سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سیکرٹری اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی غیر رجسٹرڈ بائیک سروس چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کریں گے۔
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ حالیہ دنوں میں سینیٹ سے ایک بل بھی منظور کیا گیا ہے جس کے تحت اسلام آباد میں آن لائن ٹیکسی سروسز کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا تھا تاہم اس بل کا قومی اسمبلی سے منظور ہونا ابھی باقی ہے۔
اردو نیوز نے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاننے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ شعبے یعنی اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے مزید معلومات حاصل کی ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے رجسٹریشن کے بغیر بائیک سروسز چلانے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اردو نیوز کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے سینیٹ سے بل منظور ہونے کے بعد آن لائن ٹیکسی سروسز، بائیکیا، ینگو اور اِن ڈرائیو کے سی ای اوز سے ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں یہ باور کروایا ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن کا سارا ڈیٹا انتظامیہ کے ساتھ شیئر کریں۔
 ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے آن لائن ٹیکسی سروسز کی گاڑیاں بھی پکڑی گئیں، جنہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا، اور اس کا مقصد یہی تھا کہ آن لائن ٹیکسی کمپنیاں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
ان اقدامات کے بعد کمپنیوں کے سی ای اوز ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں اور وہ اپنا تمام تر ڈیٹا دینے پر بھی رضامند ہو گئے ہیں۔
اسی طرح اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے رجسٹریشن کے بغیر بائیک سروسز چلانے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ انہیں بھی رجسٹریشن کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔
علاوہ ازیں، آن لائن ٹیکسی سروسز کے علاوہ عام ٹیکسیوں کے خلاف کارروائی کے دوران درجنوں ٹیکسیوں کو بند کیا گیا ہے، جبکہ ٹیکسی مالکان کو اپنی رجسٹریشن مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے
یعنی اب نہ صرف آن لائن ٹیکسی اور بائیک سروسز کی رجسٹریشن ہوگی بلکہ اسلام آباد میں چلنے والی نارمل ٹیکسیوں کی رجسٹریشن کا عمل بھی متعلقہ اداروں، جن میں اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اور اسلام آباد ٹریفک پولیس شامل ہیں، کے ذریعے شروع کیا جائے گا.

ایپ میں آن لائن ٹیکسی سروسز، ڈرائیورز اور مسافروں کا تمام تر ڈیٹا محفوظ رکھا جائے گا (فوٹو: اے ایف پی)

نارمل ٹیکسیوں سے مراد وہ روایتی ٹیکسیاں ہیں جو کسی آن لائن ایپ یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم (جیسے بائیکیا، اوبر، کریم یا اِن ڈرائیو) سے منسلک نہیں ہوتیں بلکہ ڈرائیور یا مالک آزادانہ طور پر سروسز فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔
’مسافروں سے شناختی کارڈ نمبر لیا جائے گا‘
مسافروں کے شناختی کارڈ نمبرز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آن لائن ٹیکسی سروس چلانے والا ڈرائیور رائیڈ کے دوران مسافر سے اس کا سی این آئی سی نمبر طلب کرے گا، جسے ٹیکسی سروسز کی ایپس میں درج کیا جائے گا، اور پھر یہ تمام ریکارڈ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، جس تک اسلام آباد پولیس کو بھی رسائی حاصل ہوگی۔
یہ ذکر کرنا بھی اہم ہے کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ خود سے بھی ایک ایپ تیار کر رہی ہے، جس میں آن لائن ٹیکسی سروسز، ڈرائیورز اور مسافروں کا تمام تر ڈیٹا محفوظ رکھا جائے گا، تاہم یہ ایپ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے۔
اسلام آباد میں مقیم سائبر اور انفارمیشن سکیورٹی کے ماہر محمد اسد الرحمن کے مطابق، آن لائن ٹیکسی سروسز کی رجسٹریشن ضروری ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف مسافر کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ کس ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا ہے، بلکہ انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو بھی یہ پتہ چل جائے گا کہ کون سی ٹیکسی سروس کس کے زیرِانتظام ہے اور اس پر کون سفر کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خدانخواستہ اگر کسی شہری کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جائے تو تمام ریکارڈ متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے پاس موجود ہونے کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مدد حاصل ہوگی۔‘

یہ سوال اہم ہے کہ ڈیٹا پرائیویسی اور سکیورٹی کو کیسے محفوظ بنایا جائے گا (فوٹوـ اِن ڈرائیو)

تاہم محمد اسد الرحمن نے ان اقدامات کے تحت حکومت کو درپیش چیلنجز پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ حکومتی اداروں کے پاس موجود ڈیٹا لیک ہوا اور بعد ازاں ڈارک ویب سائٹس پر فروخت کیا گیا۔‘
اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ ڈیٹا پرائیویسی اور سکیورٹی کو کیسے محفوظ بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہاں ایک تجویز بھی دی کہ ’ہر مسافر سے بار بار شناختی کارڈ نمبر لینے کے بجائے ایسا میکانزم بنایا جانا چاہیے کہ ایپ استعمال کرنے والے مسافر کا سی این آئی سی نمبر پہلے سے ہی سسٹم میں موجود ہو، کیونکہ بار بار ڈیٹا اپ لوڈ کرنا ہر شخص کے لیے آسان نہیں ہوتا۔‘
محمد اسد الرحمن نے مزید کہا کہ ’حکومت کو مسافروں کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ میکانزم تیار کرنا چاہیے، اور اس کے ساتھ مکمل آڈٹ ٹریل بھی برقرار رکھنی چاہیے۔‘

شیئر: