Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ملتان سلطانز ولی ٹیک نے 245 کروڑ روپے میں خرید لی، نیا نام ’راولپنڈی‘ ہو گا

ولی ٹیک اس وقت ملک بھر کے 300 سے زائد شہروں میں اپنی سروسز فراہم کر رہی ہے (فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز کو ولی ٹیک نے دو ارب 45 کروڑ روپے میں 10 سال کے لیے خرید لیا ہے۔
پیر کو لاہور کے ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی نیلامی کی تقریب میں ولی ٹیک نے پی ایس ایل کی تاریخ کی سب سے مہنگی ٹیم خریدی ہے۔
ولی ٹیک نے ٹیم خریدنے کے بعد فرنچائز کا نام بدل کر راولپنڈی کے نام پر رکھ دیا ہے۔
پی ایس ایل کی فرنچائز ملتان سلطانز کی نیلامی میں میں پانچ بولی دہندگان نے حصہ لیا تھا جبکہ ٹیم کی نیلامی کے لیے بیس پرائس 182 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔
پی سی بی کے مطابق مقررہ وقت کے اندر کُل چھ پروپوزلز موصول ہوئے جن کی تفصیلی اور شفاف جانچ کے بعد پانچ بلی دہندگان کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا جنہوں نے نیلامی میں حصہ لیا۔
واضح رہے کہ ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین اور پی ایس ایل انتظامیہ کے درمیان تنازعہ پیدا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے 10 سالہ ملکیت کے معاہدے کی تجدید سے انکار کیا تھا جس کے بعد پی سی بی نے پی ایس ایل 2026 میں ٹیم کو خود چلانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم حیدر آباد اور سیالکوٹ کی ٹیموں کی فروخت کے بعد پی سی بی نے وہ ملتان سلطانز کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ولی ٹیکنالوجیز کیا ہے؟

ولی ٹیکنالوجیز کی ویب سائٹ کے مطابق ولی ٹیکنالوجیز ایک معروف پاکستانی مارٹیک اور فِن ٹیک گروپ ہے جو 2019 میں قائم ہوا۔
یہ کمپنی انفلوئنسر مارکیٹنگ، سوشل کامرس اور جدید ڈیجیٹل سروسز کے شعبے میں خدمات فراہم کر رہی ہے اور پاکستان کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں ایک نمایاں نام بن چکی ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق ولی ٹیک اس وقت ملک بھر کے 300 سے زائد شہروں میں اپنی سروسز فراہم کر رہی ہے، جہاں اس کے پلیٹ فارم سے 1 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ انفلوئنسرز اور پانچ ہزار سے زائد کاروباری ادارے (مرچنٹس) منسلک ہیں۔ کمپنی کا مقصد برانڈز، کاروبار اور کریئیٹرز کو ڈیجیٹل دنیا میں مؤثر انداز میں آگے بڑھنے کے لیے جدید ٹولز اور حل فراہم کرنا ہے۔
ولی ٹیک کا پلیٹ فارم سوشل لسٹننگ، ڈیجیٹل پیمنٹس، ڈیٹا اینالیٹکس اور سوشل کامرس جیسے جدید فیچرز پر مشتمل ہے، جن کی مدد سے کاروبار اپنی آن لائن موجودگی بہتر بنا سکتے ہیں، صارفین کے رجحانات کو سمجھ سکتے ہیں اور ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

شیئر: