نجی اداروں میں سعودی ملازم رکھنے کا ٹھوس طریقہ

عبدالحمید العمری۔الاقتصادیہ
گزشتہ برسوں کے دوران سعودائزیشن کے بیشتر پروگراموں کے نتائج توقعات کے برخلاف آئے۔بے روزگاری کی شرح میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہوا۔ روزگار کے متلاشی سعودی خواتین و حضرات کی تعداد میں کمی نہیں ہوئی ،اضافہ ہی ہوا۔سعودیوں کو ملازمت کے سلسلے میں راحت نصیب ہونے کے بجائے بے چینی کا سامنا کرنا پڑا۔ کلیدی عہدوں پر سعودیوں کی تعیناتی کا معاملہ ہو یا نجی اداروں میں سعودی کارکنان کےلئے ملازمت کا ماحول بہتر بنانے کا معاملہ ہو یا افرادی قوت کی درآمد میں کمی کا ہدف ہو، کہیں بھی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ ایک سال کے دورن ہمیں جو بعض کامیابیاں ملتی ہیں اگلے سال وہی کامیابیاں ناکامیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ سعودائزیشن کے پروگراموں کے مطلوبہ نتائج کے برخلاف رکاوٹیں بڑھتی جارہی ہیں اور پیچیدگیوں میں زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔
کیا یہ سن کر بعض لوگ حیرت کا شکار نہیں ہونگے کہ 2018ءکے اختتام پر سعودی کارکنان کی تعداد 1.7ملین ریکارڈ کی گئی۔ یہ 2015ءکے اختتام پر ریکارڈ کی جانے والی تعداد سے کم ہے۔ اس وقت سعودی کارکنان کی تعداد 1.72ملین ہوگئی تھی۔ یہ تعداد 2017ءکے اختتام پر ریکارڈ پر آنے والی تعداد سے بھی کم ہے۔ 2017ءکے اختتام پر سعودی کارکنان کی تعداد 1.8ملین ریکارڈ کی گئی تھی۔ جی ہاں یہ تبدیلی حیرت انگیز ہے۔ ان لوگوں کیلئے جنہوں نے نجی اداروں کیلئے ماحول کی تفصیلات کا اچھی طرح سے مطالعہ نہ کیا ہو۔ جسے نجی اداروں کے سربستہ راز نہ معلوم ہوں۔
سچی بات یہ ہے کہ نجی اداروں میں سعودی ملازمین کی تعداد بڑھانے کا ٹھوس سنجیدہ راستہ کوئی نہیں۔ اسکا کوئی طے شدہ نسخہ نہیں بتایا جاسکتا۔ ہاں اس اہم قومی مقصد کے حصول کیلئے بنیادی نکات پر اتفاق ممکن ہے۔ ممکن ہے یہ نکات سعودی لیبر مارکیٹ کے موجودہ مفادات سے پوری طرح سے ہم آہنگ نہ ہوں۔ ممکن ہے یہ نکات قومی اقتصاد کے حوالے سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہ ہوں۔ دراصل نجی اداروں کے مالکان کی خواہشات اور مفادات کے ساتھ یہ مفادات میل نہیں کھاتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ خود غیر ملکی کارکن نجی اداروں کے کلیدی ایگزیکٹیو اور اعلیٰ درجے کی آسامیوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ ان دونوں پہلوﺅں سے فائدہ اٹھانے والے فریق اپنی جگہ پر ہیں۔ سعودی لیبر مارکیٹ میں لاکھوں غیر ملکی کارکنان اپنی جڑیں گہری کرچکے ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو سعودیوں کے نام سے اپنا کاروبار کررہے ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو دکانیں اور مکانات غیر ملکیوں کو کرائے پر دے رہے ہیں۔ اس زمرے میں آنے والے لوگوں کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ 
ہمیں بے روزگاری کی شرح کم کرنے ، افرادی قوت کی درآمد میں کمی لانے اورسعودی ملازمین کی تعداد بڑھانے کے اہداف حاصل کرنے کیلئے جامع عملی نظام تیار کرنا ہوگا۔ ہمیں اس سلسلے میں مکمل شفافیت لانا پڑیگی۔ اس حوالے سے جو بھی گڑبڑ سامنے آئے، اسے طشت از بام کرنا ہوگا۔ لیبر مارکیٹ کے تمام اعدادوشمار پیش کرنا ہونگے۔ ماہانہ منظم شکل میں ان کا اظہار کرنا ہوگا۔
نجی اداروں کے ردعمل سے نمٹنے کی حکمت عملی بھی تیار کرنا پڑیگی۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز غیر ملکی عہدیداروں ، آجروں ، تاجروں بالواسطہ اور بلاواسطہ استفادہ کرنے والے لوگوں کے ردعمل سے اچھی طرح سے نمٹنا ہوگا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کا بھی اہتمام کرنا ہوگا کہ جو بھی حقیقی حل یا پروگرام متعارف کرایا جائیگا اسکی مخالفت ہوگی۔ گزشتہ برسوں کے دوران سعودائزیشن کے بیشتر پروگرام اس وجہ سے فیل ہوئے کیونکہ زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کےلئے لوگ راضی نہیں۔ اسکے لئے وہ تیار نہیں۔ اس سلسلے میں تارکین فیس کی شدید مخالفت، اس کےلئے دلائل کا انبار، افرادی قوت کی درآمد کو محدود کرنے کی مخالفت ، اعلیٰ کلیدی عہدوں پر سعودیوں کی تعیناتی کی مخالفت وغیرہ اس کی روشن مثالیں ہیں۔
وزارت محنت اور دیگر سرکاری اداروں کے سامنے نجی اداروں میں سعودائزیشن کے مشن کو کامیاب بنانے کے حوالے سے بہت سارے مواقع میسر ہیں۔ انہیں ٹھوس آغاز کرنا ہوگا۔ مختلف بنیادوںپر کام کرنا ہوگا۔ فرضی ملازمتوں کی نشاندہی کرنا ہوگی۔ فرضی سعودائزیشن میں اس قسم کی ملازمتوں کو خوب استعمال کیا گیا ہے۔ 
وزارت محنت کو انتظامی درجہ بندی کے حوالے سے سعودائزیشن کے پروگرام متعارف کرانا ہونگے۔ وزارت نجی اداروں میں معمولی ، درمیانے درجے اور اعلیٰ درجے کی ملازمتوں کی زمرہ بندی کرے۔2019ءسے 2021ءکے درمیان تدریجی طور پر اعلیٰ عہدوں سے کم درجے کے عہدوں تک کی سعودائزیشن کا پروگرام نافذ کرے۔ تارکین فیس غیر ملکیوں کو دی جانے والی ماہانہ اجرت پر مقرر کرے۔ اجرت پر فیصد کے حساب سے فیس مقرر اور وصول کی جائے۔ایسے ملازم جن کی ماہانہ تنخواہ1500ریال سے زیادہ نہ ہو انہیں نہ چھیڑا جائے۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: