شہزادہ ولیم کا ریاض کا پہلا دورہ، برطانیہ، سعودی تعلقات کے لیے کیا پیغام رکھتا ہے؟
شہزادہ ولیم سعودی عرب کا پہلا سولو دورہ کر رہے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
برطانوی شہزادے ولیم کی آج ریاض آمد سعودی اور برطانوی بادشاہتوں کے درمیان اس خصوصی رشتے کی ایک پھر توثیق ہو گی جو کہ ان کی دادی ملکہ الزبتھ دوم کی حکمرانی کے ابتدائی ایام میں قائم ہوا تھا اور اب تک مسلسل فروغ پا رہا ہے۔
تاہم یہ 43 سالہ شہزادے اور برطانوی تخت کے وارث کا مملکت کا یہ پہلا سرکاری دورہ خود ان کے لیے بھی جذبات سے بھرپور ہو گا۔
شہزادہ ولیم اپنی آنجہانی والدہ شہزادی ڈیانا کے انہی نقش قدم پر چلیں گے جو انہوں نے 40 برس قبل 1986میں سعودی عرب کے دورے کے موقع پر اس وقت چھوڑے تھے جب وہ اپنے شوہر اور اس وقت کے پرنس چارلس کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کے نو روزہ دورے کے لیے آئی تھیں۔
یہ شاہی جوڑا 1981 میں رشتہ ازدواج میں بندھا تھا اور مشرق وسطیٰ کے اس دورے کے وقت شہزادی ڈیانا کی عمر 25 برس تھی جبکہ ان کے بڑے بیٹے ولیم اس وقت تین برس کے تھے تاہم وہ اس دورے میں شامل نہیں تھے۔
تاہم اس سے قبل 1983 میں وہ نو سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ہمراہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا سفر کر چکے تھے۔
شہزادہ ولیم کی عمر اس وقت 15 سال تھی جب ان کی والدہ شہزادی ڈیانا اگست 1997 میں پیرس میں گاڑی کے حادثے میں چل بسی تھیں۔
شہزادہ ولیم اس سے قبل بھی اس خطے کا دورہ کر چکے ہیں، ان کا پہلا دورہ ذاتی نوعیت کا تھا تاہم انہوں نے جون 2018 میں فلسطین اور اسرائیل کے دورے کیے تھے اور اسرائیلی وریراعظم بنجمن نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔
یہ برطانوی شاہی خاندان کے فرد کا اسرائیل اور فلسطین کا پہلا سرکری دورہ تھا۔
اگرچہ برطانیہ کی جانب سے اس دورے کو سختی سے غیر سیاسی قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہوں نے دورہ تینوں ابراہیمی مذاہب کے مقدس مقامات پر جانے کے لیے کیا تھا۔
ان کا وہ جملہ بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی ناراضگی کا باعث بھی بنا تھا جس میں انہوں نے عوامی سطح فلسطینیوں کو یقین دلایا تھا کہ برطانیہ ان کو نہیں بھولے گا۔
یہ وہی خطہ ہے جہاں انہوں نے 1917 سے 1948 اور اسرائیل کے وجود میں آنے تک حکومت کی تھی۔
تاہم شہزادہ ولیم کے اس دورے میں ایک ذاتی نوعیت کا عنصر بھی شامل تھا، انہوں نے یروشل میں بیٹن برگ اور یونان کی شہزادی ایلس کے مقبرے کا دورہ کیا تھا ان کی پردادی ایک عقیدت مند عیسائی تھیں اور انہوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران نازیوں سے بچنے میں یہودیوں کی مدد کی تھی۔
1968 میں انتقال کے بعد اسرائیل نے ان کی یروشلم میں ہی دفن کیے جانے کا احترام کیا تھا، شہزادہ ولیم نے یروشلم شہر کے پرانے حصے کے باہر پہاڑوں میں بنے اس روسی چرچ میں اس مقام کا دورہ بھی کیا تھا جہاں ان کی تدفین ہوئی تھی۔
کینسنگٹن پیلس نے شہزادہ ولیم کے پہلے سولو دورے کو ’تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری کے باہمی تعلقات‘ کے لیے انتہائی گرمجوش قرار دیا ہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ برطانوی رائل ایئر فورس میں
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ برطانیہ کی شاہی فضائیہ میں پائلٹ کے طور برسوں تک خدمات انجام دینے والے شہزادے کا دورہ ریاض میں ورلڈ ڈیفنس شو کے موقع پر ہو رہا ہے جبکہ برطانیہ کی یہ امید بھی ہے کہ سعودی عرب نیکسٹ جنریشن ٹیمپیسٹ لڑاکا طیاروں کے پروگرام کا شراکت دار بن جائے گا۔
مئی 2025 میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے لندن کا دورہ کیا تھا اور اپنے برطانوی ہم منصب جان ہیلی کے ساتھ باہمی تعاون پر تبادلہ خیال بھی کیا تھا جنہوں نے مملکت کو ’خلیج میں سلامتی و استحکام کو بنانے کے لیے برطانیہ کا اہم شراکت دار‘ قرار دیا تھا۔
برطانیہ کے اعلیٰ طبقات کی سرگرمیوں کا تجزیہ کرنے والے جریدے ’ٹیٹلر‘ نے شہزادہ ولیم کے دورے کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔