شہزادہ ولیم کا ریاض کا پہلا دورہ، برطانوی و سعودی تعلقات کے لیے کیا پیغام رکھتا ہے؟
شہزادہ ولیم کا ریاض کا پہلا دورہ، برطانوی و سعودی تعلقات کے لیے کیا پیغام رکھتا ہے؟
پیر 9 فروری 2026 11:09
شہزادہ ولیم سعودی عرب کا پہلا سولو دورہ کر رہے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
برطانوی شہزادے ولیم کی آج ریاض آمد سعودی اور برطانوی بادشاہتوں کے درمیان اس خصوصی رشتے کی ایک پھر توثیق ہو گی جو کہ ان کی دادی ملکہ الزبتھ دوم کی حکمرانی کے ابتدائی ایام میں قائم ہوا تھا اور اب تک مسلسل فروغ پا رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق 43 سالہ شہزادے اور برطانوی تخت کے وارث اپنی آنجہانی والدہ شہزادی ڈیانا کے انہی نقش قدم پر چلیں گے جو انہوں نے 40 برس قبل 1986میں سعودی عرب کے دورے کے موقع پر اس وقت چھوڑے تھے جب وہ اپنے شوہر اور اس وقت کے پرنس چارلس کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کے نو روزہ دورے کے لیے آئی تھیں۔
یہ شاہی جوڑا 1981 میں رشتہ ازدواج میں بندھا تھا اور مشرق وسطیٰ کے اس دورے کے وقت شہزادی ڈیانا کی عمر 25 برس تھی جبکہ ان کے بڑے بیٹے ولیم اس وقت تین برس کے تھے تاہم وہ اس دورے میں شامل نہیں تھے۔
تاہم اس سے قبل 1983 میں وہ نو سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ہمراہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا سفر کر چکے تھے۔
شہزادہ ولیم کی عمر اس وقت 15 سال تھی جب ان کی والدہ شہزادی ڈیانا اگست 1997 میں پیرس میں گاڑی کے حادثے میں چل بسی تھیں۔
شہزادہ ولیم اس سے قبل بھی اس خطے کا دورہ کر چکے ہیں، ان کا پہلا دورہ ذاتی نوعیت کا تھا تاہم انہوں نے جون 2018 میں فلسطین اور اسرائیل کے دورے کیے تھے اور اسرائیلی وریراعظم بنجمن نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔
یہ برطانوی شاہی خاندان کے فرد کا اسرائیل اور فلسطین کا پہلا سرکری دورہ تھا۔
اگرچہ برطانیہ کی جانب سے اس دورے کو سختی سے غیر سیاسی قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہوں نے دورہ تینوں ابراہیمی مذاہب کے مقدس مقامات پر جانے کے لیے کیا تھا۔
ان کا وہ جملہ بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی ناراضگی کا باعث بھی بنا تھا جس میں انہوں نے عوامی سطح فلسطینیوں کو یقین دلایا تھا کہ برطانیہ ان کو نہیں بھولے گا۔
سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان تعلقات ایک صدی سے زائد کے عرصے پر محیط ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
یہ وہی خطہ ہے جہاں انہوں نے 1917 سے 1948 اور اسرائیل کے وجود میں آنے تک حکومت کی تھی۔
تاہم شہزادہ ولیم کے اس دورے میں ایک ذاتی نوعیت کا عنصر بھی شامل تھا، انہوں نے یروشلم میں بیٹن برگ اور یونان کی شہزادی ایلس کے مقبرے کا دورہ کیا تھا ان کی پردادی ایک عقیدت مند عیسائی تھیں اور انہوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران نازیوں سے بچنے میں یہودیوں کی مدد کی تھی۔
1968 میں انتقال کے بعد اسرائیل نے ان کی یروشلم میں ہی دفن کیے جانے کی خواہش کا احترام کیا تھا، شہزادہ ولیم نے یروشلم شہر کے پرانے حصے کے باہر پہاڑوں میں بنے اس روسی چرچ میں اس مقام کا دورہ بھی کیا تھا جہاں ان کی تدفین ہوئی تھی۔
کینسنگٹن پیلس نے شہزادہ ولیم کے پہلے سولو دورے کو ’تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری کے باہمی تعلقات‘ کے لیے انتہائی گرمجوش قرار دیا ہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ برطانیہ کی شاہی فضائیہ میں پائلٹ کے طور برسوں تک خدمات انجام دینے والے شہزادے کا دورہ ریاض میں ورلڈ ڈیفنس شو کے موقع پر ہو رہا ہے جبکہ برطانیہ کی یہ خواہش بھی ہے کہ سعودی عرب نیکسٹ جنریشن ٹیمپیسٹ لڑاکا طیاروں کے پروگرام کا شراکت دار بن جائے۔
مئی 2025 میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے لندن کا دورہ کیا تھا اور اپنے برطانوی ہم منصب جان ہیلی کے ساتھ باہمی تعاون پر تبادلہ خیال بھی کیا تھا جنہوں نے مملکت کو ’خلیج میں سلامتی و استحکام کے لیے برطانیہ کا اہم شراکت دار‘ قرار دیا تھا۔
برطانیہ کے اعلیٰ طبقات کی سرگرمیوں کا تجزیہ کرنے والے جریدے ’ٹیٹلر‘ نے شہزادہ ولیم کے دورے کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
جریدے نے برطانیہ کے سب سے اہم سفارت کاروں میں سے ایک شخصیت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس دورے کو ’تخت کے لیے ہونے والی تیاری کے اہم قدم‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ملکہ الزبتھ کی شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں (فائل فوٹوز: اے ایف پی)
اسی طرح دورے کو برطانیہ کے شاہی خاندان کے لیے اہم لمحہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
والد کنگ جارج ششم کے انتقال کے بعد 25 سال کی عمر میں ملکہ بننے والی الزبتھ دوم نے تقریباً 70 برس تک حکومت کی۔
آٹھ ستمبر 2022 کو 96 برس کی عمر میں ان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے بیٹے شہزادہ چارلس ان کے جانشین بنے۔
ان کے تخت سنبھالنے کے بمشکل نو مہینے کے بعد بکھنگم کی جانب سے اعلان سامنے آیا کہ شاہ چارلس کو کینسر کی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔
اگرچہ دسمبر 2025 میں 77 سالہ شاہ چارلس نے بتایا تھا کہ ’جلد تشخیص، موثر اقدامات اور ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل کرنے کی بدولت نئے سال کے دوران ان کے علاج کے شیڈول میں کمی لائی جا سکتی ہے۔‘
تاہم ان کی صحت کے بارے میں بیماری سامنے آنے کے بعد خدشات برقرار ہیں۔
بہرحال ممکنہ وارث شہزادہ ولیم کی مستقبل کی تمام ذمہ داریوں کو صورت حال کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔
رواں ہفتے ہونے والے اس دورے سے عیاں ہے کہ برطانیہ سعودی عرب کو ایک اہم تجارتی شراکت دار کے طور پر اہمیت دیتا ہے بلکہ یہ دورہ دونوں شاہی خاندانوں کے درمیان ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط ذاتی تعلق کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
برطانوی اور سعودی شاہی خاندانوں کے درمیان دوستی 1919 سے شروع ہوئی، جب شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان کے تیسرے اور 13 سالہ بیٹے اور مستقبل کے شاہ شہزادہ فیصل شاہی خاندان کے پہلے فرد کی حیثیت سے برطانیہ گئے تھے۔
برطانیہ کی جانب سے دعوت نامہ ان کے والد کو بھیجا گیا تھا جن کو مغرب میں ابن سعود کے نام سے جانا جاتا تھا اور پہلی عالمی جنگ میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد ان کو جزیرہ نما عرب میں ابھرتی ہوئی سیاسی قوت کے طور پر برطانوی حکومت نے تسلیم کیا تھا۔
1919 میں پھوٹنے والی وبا انفلوئنزا کے اپنے علاقوں اثرات سے نمٹنے کے دوران شاہ نے انگلینڈ میں ان کی نمائندگی کے لیے بڑے بیٹے شہزادہ ترکی کا انتخاب کیا تھا۔
ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 1987 میں سعودی عرب کے شاہ فہد کے ہمراہ (فوٹو: گیٹی امیجز)
اس وبا میں پہلی عالمی سطح پر پہلی جنگ عظیم سے بھی زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
انہی دنوں شہزادہ ترکی بھی اس وبا کا شکار ہو گئے جس پر شہزادہ فیصل کو ان کی جگہ لندن بھجوایا گیا۔
جنوری 2015 میں پرنس ولیم کے والد شہزادہ چارلس نے شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد تعزیت کے لیے ریاض کا دورہ کیا تھا جبکہ اس روز لندن میں شاہی اور سرکاری عمارتوں کو بھی سرنگوں رکھا گیا تھا۔
مارچ 2018 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے برطانیہ کا سرکاری دورہ کیا اور بکھنگم پیلس میں ملکہ الزبتھ کے ساتھ ظہرانے میں شریک ہوئے تھے اور اس موقع پر شاہ چارلس اور شہزادہ ولیم بھی موجود تھے۔
پرنس ولیم کی آمد پر دونوں شہزادے ملاقات بھی کریں گے اور دونوں ہی تخت کے وارث ہیں۔
منکسرالمزاج پرنس ولیم اپنے گھر کے علاوہ جب بیرون ملک بھی سفر کرتے ہیں تو عوام کے ساتھ گھلنے ملنے کے لیے مشہور ہیں۔