Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان، بنگلہ دیش ایک دوسرے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک غیر معمولی موڑ آیا ہے۔ ایسا جس کی ماضی قریب میں مثال نہیں ملتی۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اور بنگلہ ایک دوسرے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ اس تعلق میں کیسے مضبوطی، گہرائی اور جینوئن نیس لائی جا سکتی ہے ؟
ہم سب جانتے ہیں کہ دونوں ملک ایک تھے، ناخوشگوار، تکلیف دہ واقعات کے بعدالگ ہوگئے۔ علیحدہ ہوئے بھی 54 سال ہونے کو ہیں، اس دوران برسوں تک بہت ہی کشیدہ، پریشان کن معاملات رہے۔ خاص کر حسینہ واجد کے ادوار میں۔ حسینہ واجد 20 سال تک بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں جن میں سے پچھلے 15 برس تو مسلسل تھے، پچھلے سال جولائی میں ان کا تختہ الٹا گیا اور اس کے بعد سے پاک بنگلہ دیش تعلقات میں ڈرامائی بہتری آئی۔
پروفیسر یونس جو پچھلے چند ماہ سے بنگلہ دیش کی حکومت چلا رہے ہیں، انہوں نے پاکستان سے سردمہری کا تعلق ختم کر کے خوشگوار تعلقات بنائے جن میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کرکٹ ڈپلومیسی کی کرشمہ سازی

اس بار ایک حیران کن کام کرکٹ ڈپلومیسی نے دکھایا اور عوامی سطح پر پاکستانی اور بنگلہ دیشی عوام قریب آئے ہیں۔ بنگلہ دیشی سوشل میڈیا پر پاکستان کے حق میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے ۔ یہ موقعہ ملا تو انڈین حکومت اور ان کے کرکٹ بورڈ کی حماقت سے ہے مگر پاکستان نے جس چابک دستی اور مستعدی سے فائدہ اٹھایا، اس کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی کو یہ کریڈٹ دینا پڑے گا۔
کوئی بھی نہیں سمجھ پا رہا کہ بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمن کو آئی پی ایل سے باہر کر کے انڈین کرکٹ بورڈ یا بی جے پی حکومت کو کیا ملا؟ صاف لگ رہا تھا کہ انڈیا بنگلہ دیش کی آنے والی حکومت سے خوشگوار تعلقات بنانے کا متمنی ہے۔ انڈین وزیرخارجہ خاص طور سے بیگم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شریک ہوئے، ان کے بیٹے طارق رحمن سے تعزیت کی۔ انڈیا ہمیشہ سے خالدہ ضیا کا مخالف رہا ہے، اب ان کے انتقال کے بعد اچانک سے یہ محبت کیسے جاگ اٹھی؟ واحد وجہ یہی نظر آ رہی ہے کہ طارق رحمن بنگلہ دیش کے آئندہ وزیراعظم ہوسکتے ہیں۔
ایک طرف تو انڈیا بنگلہ دیش سے تعلقات نارمل کرنے کے اتنے جتن کر رہا اور دوسری طرف ایک مقبول بنگلہ دیشی فاسٹ بولر کو بلاوجہ آئی پی ایل سے تذلیل آمیز انداز میں باہر کر دیا۔ فرعونیت آمیز تکبر کے سوا اور اس کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں۔
فرض کریں کہ واقعتاً بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت سے کہیں کچھ زیادتی ہوگئی تو اس میں مستفیض الرحمن بے چارے کا کیا قصور؟ وہ تو کرکٹر ہے، اس کا سیاست سے کیا لینا دینا؟ مستفیض تو ایک خالصتاً پروفیشنل اور غیر سیاسی کرکٹر کے طور پر مشہور ہیں، کبھی ایک سطر کا بھی سیاسی بیان انہوں نے نہیں دیا۔
مستفیض کو صرف بنگلہ دیشی ہونے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ ایسی صورت میں بنگلہ دیش سے ردعمل آنا فطری ہے۔ وہاں پر عوامی نفرت اور غم وغصے میں اضافہ ہونا ہی تھا۔ وہی ہوا۔ دوسری طرف پاکستان نے بنگلہ دیش سے جس طرح اظہار یک جہتی کیا ہے، اس نے بنگلہ دیشی عوام کے دل جیتے ہیں۔
آج کل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ پاکستان دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف آئی سی سی کا وفد بھی پاک انڈیا میچ کے بائیکاٹ پر بات کرنے پاکستان آیا ہے، ممکن ہے پاکستان کی کچھ شرائط مان لی جائیں اور پاک انڈیا میچ ہوجائے ۔ یہ میچ ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں ہمیں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو اپنے ساتھ ان ٹچ رکھنا چاہیے۔ جو بھی کریں انہیں اعتماد میں لے کر مشاورت کے ساتھ کریں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو مالی نقصان پہنچا ہے، پاکستان کو اس حوالے سے بھی کچھ سوچنا چاہیے۔ اچھا ہوگا کہ پی ایس ایل کے بعد اگر شیڈول میں کچھ سپیس ہے تو ایک مختصر سی ٹی20 سیریز بنگلہ دیش کے ساتھ وہاں جا کر کھیلی جائے یا انہیں یہاں بلایا جائے، جس بھی صورت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو زیادہ فائدہ ہو۔ کیا خوب ہو کہ ہر سال ایک باہمی سیریز کا معاہدہ کر لیا جائے۔ ایک سال ہم وہاں جائیں، ایک سال وہ یہاں آئیں۔اسی طرح اے ٹیموں، ویمنز ٹیموں کے دورے بھی ارینج کئے جائیں۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا اگر ہاتھ تھاما ہے تو اسے نبھایا جائے۔ انہیں مالی فائدہ پہنچنا چاہیے۔

بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کا پیکیج بنانا چاہیے

کرکٹ ایک زبردست چیز ہے، مگر ممالک کے باہمی تعلق کو کسی ایک حادثاتی واقعے سے بڑھ کر زیادہ وسیع اور متنوع انداز میں بڑھایا جاتا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ پاکستان بنگلہ دیش کے لئے کیا کر سکتا ہے؟

ماضی کو بھول کر آگے بڑھنا چاہیے:

پاکستان ماضی کے بوجھ کو دفاعی انداز میں اٹھانے کے بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے۔ پاکستان کو نہ مسلسل وضاحتوں میں الجھنا چاہیےنہ علامتی معذرتوں کو خارجہ پالیسی کا مرکز بنانا چاہیے۔ ماضی کو تسلیم کر کے تعلقات کو مستقبل کے مفاد سے جوڑنا زیادہ سودمند ہوگا۔
بنگلہ دیش کو انڈیا کے تناظر میں دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ڈھاکہ کے ساتھ براہِ راست، خودمختار اور دوطرفہ بنیادوں پر تعلقات استوار کیے جائیں۔

تجارت، معیشت، تعلیم اور ثقافت میں شراکت:

پاکستان کو بنگلہ دیشی مصنوعات کے لیے اپنی منڈیوں میں سہولت دینی چاہیے۔غیر ضروری تجارتی رکاوٹیں کم کر کے معاشی تعاون کو سیاسی تعلقات سے الگ رکھا جائے۔ پاکستان بنگلہ دیشی گارمنٹس، جیوٹ، فارما کے لیے سہولت دے۔ ترجیحی تجارتی فریم ورک پر سنجیدگی دکھائے۔ تجارتی تعلقات مضبوط ہوں تو باہمی تعلق بھی مستحکم ہوتا ہے۔
بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے پاکستانی جامعات میں وظائف اور نشستیں مختص کی جا سکتی ہیں۔ یہ ایک بڑا قدم ہوگا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں۔ یہ وہ سافٹ پاور ہے جس کااثر دیرپا رہتا ہے۔ طب، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنس کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے۔ صحافیوں، ادیبوں، اساتذہ اور محققین کے تبادلے وقتی نہیں بلکہ مستقل پروگراموں کے تحت ہوں۔ دونوں ملکوں کے تھنک ٹینکس اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط بڑھائے جائیں۔ اسی طرح فلم، ٹی وی، ڈیجیٹل میڈیا اور ثقافتی منصوبوں میں مشترکہ کام کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
سب سے بڑھ کر پاکستان کو بنگلہ دیش کی داخلی سیاست پر تبصرے یا صف بندی سے گریز کرنا چاہیے۔ خودمختاری کا احترام اور غیر مداخلت ہی اعتماد کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔ آج کل الیکشن ہو رہے ہیں، پاکستان نے مکمل غیر جانبدارانہ اپروچ رکھی ہے، جماعت اسلامی اور بی این پی کا مقابلہ ہے اور پاکستان اس سیاسی لڑائی سے باہر ہے۔ یہی طرزعمل اپنانا ہوگا۔

بنگلہ دیش پاکستان کے لیے کیا کر سکتا ہے؟

بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو یہ تاثر مضبوط کرنا ہوگا کہ ڈھاکہ کی خارجہ پالیسی دہلی کے تابع نہیں۔ وہ انڈیا کے ساتھ ضرور اچھے تعلق رکھیں، مگر پاکستان کی قیمت پر نہیں۔
پاکستان کی بنگلہ دیش کی نئی حکومت سے یہ توقع بھی ہوگ کہ وہ 1971 کو مستقبل میں کسی اور عدالتی مہم کا عنوان بنائے نہ سفارتی دباؤ کا ذریعہ۔ تاریخ اپنی جگہ، مگر مستقبل کی سیاست اس پر استوار نہ ہو۔
بنگلہ دیش کو پاکستان مخالف نیٹ ورکس سے فاصلہ رکھنا چاہیے۔ بنگلہ دیشی سرزمین پاکستان مخالف پروپیگنڈے اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کے لئے دستیاب نہ ہو۔ یہ اقدام خاموش ہوگا مگر اعتماد کی بنیاد بنے گا۔ او آئی سی اور دیگر فورمز پر پاکستان کے مؤقف کی مخالفت سے گریز کرتے ہوئے کم از کم خاموش غیرجانبداری ایک عمدہ حکمت عملی ہوگی۔ یہ خود بنگلہ دیش کو آزاد، خود مختار مسلم ریاست کے طور پر ابھارے گا۔
سب سے اہم تجارت کو سیاست سے الگ کرنا ہے۔ نئی حکومت نان ٹیرف بیریئرز کم کرے۔ پاکستانی مصنوعات کے لیے مارکیٹ کھولے۔ معاشی مفاد کو سیاسی اختلافات پر فوقیت دے۔ سافٹ ڈپلومیسی کو پالیسی بنائے۔ میڈیا، اکیڈمیا، تھنک ٹینکس کے تبادلے کو سرکاری سرپرستی دی جائے۔پاکستان کو صرف ماضی کے آئینے میں دیکھنے کے بجائےعلاقائی پارٹنر کے طور پر دیکھے۔

شیئر: