Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بالی وڈ اداکار راجپال یادو چھ ماہ کے لیے جیل منتقل، تنازع کیا ہے؟

اداکار راجپال یادو نے فلم بنانے کے لیے پانچ کروڑ روپے کا قرض لیا تھا جو فلم فلاپ ہونے کے بعد وہ ادا نہ کر پائے۔ (فوٹو: انسٹاگرام، راجپال یادو)
اپنی بے مثال مزاحیہ اداکاری اور شاندار کامک ٹائمنگ کے باعث ناظرین کو ہنسانے والے بالی وڈ اداکار راجپال یادو ان دنوں قانونی مشکلات کا شکار ہیں۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق ایک دہائی پرانا مالی تنازع بالآخر انہیں تہاڑ جیل پہنچا چکا ہے۔
یہ تنازع سنہ 2010 میں اس وقت شروع ہوا جب راجپال یادو نے دہلی کی کمپنی مرلی پراجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے اپنی بطور ہدایت کار پہلی فلم اٹا پٹا لاپتا (2012) بنانے کے لیے 5 کروڑ روپے کا قرض لیا۔ فلم باکس آفس پر ناکام رہی، جس کے نتیجے میں قرض کی واپسی ممکن نہ ہو سکی اور معاملہ قانونی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔
اپریل 2018 میں ایک مجسٹریٹ عدالت نے اداکار اور ان کی اہلیہ رادھا کو قابلِ ادا نہ ہونے والے چیکس کے معاملے میں قابلِ سزا قرار دیتے ہوئے نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی دفعہ 138 کے تحت مجرم ٹھہرایا۔
شکایت کنندہ کو دیے گئے سات چیکس باؤنس ہونے پر عدالت نے راجپال یادو کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی، جسے ابتدائی 2019 میں سیشن کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔
سزا کی معطلی اور وعدوں کی خلاف ورزی
بعد ازاں اداکار نے دہلی ہائی کورٹ میں نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی۔ جون 2024 میں ہائی کورٹ نے ان کی سزا عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے انہیں ہدایت دی کہ وہ بقایا رقم کی ادائیگی کے لیے سنجیدہ اور خلوص پر مبنی اقدامات کریں۔ اس وقت تک واجب الادا رقم تقریباً 9 کروڑ روپے ہو چکی تھی۔
تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ وعدوں کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ سامنے آتا گیا۔ اکتوبر 2025 میں اگرچہ راجپال یادو نے دو ڈیمانڈ ڈرافٹس کے ذریعے 75 لاکھ روپے جمع کروائے، مگر عدالت نے نوٹ کیا کہ اصل رقم کا بڑا حصہ ابھی تک ادا نہیں کیا گیا۔ دسمبر 2025 میں 40 لاکھ روپے اور باقی رقم 2026 کے اوائل تک ادا کرنے کے وعدے بھی پورے نہ کیے جا سکے، جس پر عدالت نے ان کی عدم سنجیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
فروری 2026 کے آغاز میں جسٹس سورنا کانتا شرما نے اداکار کو سرنڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی معروف کیوں نہ ہو، کو لامحدود نرمی نہیں دی جا سکتی۔
4  فروری 2026 کو عدالت نے راجپال یادو کی جانب سے ایک ہفتے کی مہلت کے لیے دائر کی گئی آخری رحم کی اپیل بھی مسترد کر دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اداکار گزشتہ برسوں میں تقریباً 20 مختلف عدالتی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کر چکے ہیں۔ جج نے واضح کیا کہ قانون اطاعت کی قدر کرتا ہے، عدالتی احکامات کی توہین کی نہیں، اور یہ کہ اداکار نے عدالتی احکامات کے لیے انتہائی کم احترام دکھایا۔
تہاڑ جیل میں خود سپردگی
5 فروری 2026 کو عدالت میں آخری پیشی کے دوران راجپال یادو کے وکیل نے 25 لاکھ روپے کا نیا چیک اور ادائیگی کا نیا شیڈول پیش کرنے کی کوشش کی، مگر عدالت نے سرنڈر کے حکم کو واپس لینے سے انکار کر دیا۔ جسٹس شرما نے کہا کہ عدالت ہمدردی اور نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم رکھنے کی پابند ہے اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کے لیے خصوصی حالات پیدا نہیں کیے جا سکتے۔
بالآخر، اسی روز شام 4 بجے راجپال یادو نے تہاڑ جیل حکام کے سامنے خود کو پیش کر دیا، جہاں وہ اپنی چھ ماہ کی سزا کاٹیں گے۔ ہائی کورٹ نے اس سے قبل رجسٹرار جنرل کے پاس جمع کرائی گئی رقم شکایت کنندہ کمپنی کو جاری کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

 

شیئر: