سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کا کاروبار

 سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ”الریاض“ کا اداریہ نذر قارئین ہے
  ماہرین اقتصاد کا کہناہے کہ سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کا کاروبار سعودی معیشت کے لئے کینسر جیسا ہے۔ برسہا برس سے یہ کینسر سعودی معیشت کے جسم کو اندر سے کھوکھلا کئے چلا جارہا ہے۔ یہی اقتصادی کینسر بے روزگاری، جعلسازی، بدامنی، خفیہ معیشت ، ناجائز مسابقت ، معیشت کو نقصان پہنچانے والے ترسیل زر ، لیبر مارکیٹ کی شکل بگاڑنے ، اقتصادی شعبوں کو قابو کرنے اور وطن و اہل وطن کو انکی آمدنی سے محروم کرنے کا باعث بنا ہوا ہے۔
وزیر تجارت و سرمایہ کاری نے اسی تناظر میں سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کے انسداد کے لئے قومی پروگرام کا عندیہ دیا ہے۔آئندہ اتوار کو اسکا اعلان ہوگا۔ یہ قومی تبدیلی پروگرام 2020کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسکے ذریعے سعویوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار اور تجارتی جعلسازی کے رواج کا خاتمہ ہوگا۔ اس پروگرام کے نفاذ میں وزارت داخلہ ، وزارت محنت ، وزارت بلدیات و دیہی امو ر، چھوٹے اور درمیانے سائز کے اداروں کی جنرل کارپوریشن ، محکمہ زکوٰة و مدنی، ساما اور ساجیا حصہ لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی حکومت اس رواج کے مکمل خاتمے کیلئے انتہائی پر امید ہوچکی ہے اور وہ سعودی وژن 2030سے ہم آہنگ اور پرکشش سرمایہ کاری کا ماحول مہیا کریگی۔ 
سرکاری ادارو ںکے درمیان اس حوالے سے ہم آہنگی اشد ضروری تھی۔ اس کا انتظام کیا جارہا ہے۔ سعودائزیشن کا سرکاری منصوبہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوگا جب تک کہ سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کا سلسلہ جاری و ساری رہیگا۔ شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اسے اقتصادی جرم کے طور پر لیں۔ اسے معمولی خلاف ورزی نہ گردانیں۔ محکمہ شماریات کے مطابق 923.5ہزار سعودی بے روزگار پڑے ہوئے ہیں۔ اسی اقتصادی کینسر کی وجہ سے بعض جائزوں کے مطابق ملک کو سالانہ 236ارب ریال کا نقصان ہورہا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: