تین سال میں ایک لاکھ ملازمتیں، پنجاب میں مصنوعی ذہانت کا پہلا جامع ’روڈمیپ‘ منظور
تین سال میں ایک لاکھ ملازمتیں، پنجاب میں مصنوعی ذہانت کا پہلا جامع ’روڈمیپ‘ منظور
ہفتہ 14 مارچ 2026 17:23
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
’مصنوعی ذہانت کے روڈمیپ کے ذریعے اکتوبر میں دُھواں کنٹرول کرنے کا نظام فعال ہو جائے گا‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کا پہلا جامع ’روڈمیپ‘ منظور کیا ہے۔ وزیراعلٰی مریم نواز شریف نے جمعرات کو اس کی منظوری دی ہے جبکہ اس روڈمیپ کا واضح ہدف 2029 تک پنجاب کو مصنوعی ذہانت میں جنوبی ایشیا کا سب سے آگے والا صوبہ بنانا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے تین سال کے اندر صوبے میں ایک لاکھ سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی جبکہ مجموعی معیشت میں پانچ سے دس فیصد اضافہ ہو گا۔
مصنوعی ذہانت کا روڈمیپ کیسے کام کرے گا؟ پنجاب کی وزیر اطلاعات اعظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ ’یہ روڈمیپ صوبے کی ترقی کے لیے ایک منظم اور مرحلہ وار حکمت عملی ہے جس کے تحت دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت ڈیلیوری یونٹ قائم کیا جائے گا۔‘
’اس یونٹ کی سربراہی خود وزیراعلٰی مریم کریں گی جو اس کی نگرانی بھی کریں گی۔ یونٹ کا بنیادی کام حکومت کے تمام محکموں میں مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کروانا ہے تاکہ روزمرہ کے انتظامی کام تیز اور شفاف ہو جائیں۔‘
ان کے مطابق ’اس کے ساتھ ایک تکنیکی مشاورتی بورڈ بھی بنایا گیا ہے جس میں اعلٰی سطح کے ماہرین شامل ہوں گے جو پالیسیاں بنانے اور عمل درآمد میں رہنمائی کریں گے۔‘
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس روڈمیپ کے چھ اہم ستون ہیں جن پر یہ پوری طرح عمل ہو گا۔ ان میں مصنوعی ذہانت کی بنیادی تنصیبات، انتظامیہ کو جدید بنانا، شہریوں کی سہولیات، نوجوانوں کی نوکری کی مہارتیں، معیشت کی ترقی اور حکمرانی کے اصول شامل ہیں۔
اس کے ذریعے نوجوانوں کو مفت تربیت دی جائے گی تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کی مہارت سیکھ کر نئی ملازمتیں حاصل کر سکیں۔
اعظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ’مثال کے طور پر ابھی 100 سکولوں میں مصنوعی ذہانت کا نصاب شروع ہو چکا ہے اور اپریل سے مزید 150 سکولوں میں یہ نصاب متعارف کر دیا جائے گا۔‘
کسان مصنوعی ذہانت بورڈ سے اپنی فصل اور پانی کے بارے میں مشورے لے سکیں گے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’کسانوں کے لیے الگ سے کسان مصنوعی ذہانت بورڈ بنایا جائے گا جس سے وہ اپنی فصل، پانی اور مارکیٹ کے بارے میں فوری مشورے لے سکیں گے۔‘
اعظمیٰ بخاری نے بتایا کہ ’اسی طرح صحت کے شعبے میں ایک ایپ لانچ کی جائے گی جو مریضوں کو فوری رہنمائی دے گی جبکہ ماحولیاتی مسائل جیسے دُھواں کنٹرول کے لیے بھی مصنوعی ذہانت کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔‘
’حکومت نے اس سارے عمل کی نگرانی کے لیے چار الگ الگ ٹیمیں بنائی ہیں جو خاص پروجیکٹس، ڈیٹا کا انتظام، حکمت عملی اور رابطہ کاری پر کام کریں گی۔ رواں ماہ کے آخر میں روڈمیپ کا منشور جاری کیا جائے گا جبکہ جون میں ڈیلیوری یونٹ کا آغاز ہوگا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جولائی میں حکمرانی کی پالیسی، اگست میں شہری پورٹل اور گلوبل ٹیک پارٹنرشپ، ستمبر میں صحت ایپ، اکتوبر میں دُھواں کنٹرول کرنے کا نظام اور نومبر میں کسان بورڈ فعال ہو جائیں گے۔‘
’اس طرح یہ روڈمیپ نہ صرف حکومت کی کارکردگی بڑھائے گا بلکہ عام لوگوں کی زندگی آسان بنائے گا، نوجوانوں کو روزگار دے گا اور پنجاب کی معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دے گا۔‘