Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا عالمی طاقتوں سے ایران کی بحری گزرگاہ محفوظ بنانے کا مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث متاثر ہونے والی اہم بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے امریکہ کا ساتھ دیں۔ اسی دوران بغداد میں امریکی سفارت خانے اور متحدہ عرب امارات کی توانائی کی ایک بڑی تنصیب پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے دو ہفتے بعد بھی پورا خلیجی خطہ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جس کے جھٹکے عالمی معیشت تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
یہ تنازع لبنان تک بھی پھیل چکا ہے جہاں وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل ایک مرتبہ پھر ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ سے برسرِپیکار ہے۔
ایران کی جانب سے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور خلیجی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
سنیچر کو اماراتی شہر فجیرہ کے اوپر سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جہاں تیل کے ذخیرے اور برآمد کا ایک بڑا ٹرمینل واقع ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی فوج نے اماراتی شہریوں کو بندرگاہی علاقوں سے دور رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق عراق میں امریکی سفارت خانہ ڈرون حملے کی زد میں آیا، جو اس جنگ کے دوران دوسری مرتبہ نشانہ بنا ہے۔ اسی طرح عراقی کردستان میں اماراتی قونصل خانے پر بھی ایک ہفتے میں دوسری بار حملہ کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ جلد ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرے گی۔ سنیچر کو انہوں نے دیگر ممالک سے بھی اس مشن میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ کئی ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر جنگی جہاز بھیجیں گے تاکہ آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ اس اقدام میں شامل ہوں گے۔
امریکی افواج نے جمعے کو ایران کے جزیرے خارگ پر حملہ کیا، جہاں سے ایران کی تقریباً تمام تیل برآمدات ہوتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس حملے میں تمام فوجی اہداف کو تباہ کر دیا گیا تاہم توانائی کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
اس سے قبل ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس کی توانائی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو امریکہ سے وابستہ تیل اور توانائی کمپنیوں کو ’راکھ کا ڈھیر‘ بنا دیا جائے گا۔
امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے وابستہ تجزیہ کار ولی نصر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جزیرہ خارگ پر حملہ جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے کو جھکانے کے لیے کشیدگی بڑھا رہے ہیں۔

جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ حالیہ حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ جنگ ایک ’فیصلہ کن مرحلے‘ میں داخل ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ لڑائی ’جب تک ضروری ہو گا جاری رہے گی۔‘
دوسری جانب ایران نے بھی مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سنیچر کو یروشلم میں صحافیوں نے دھماکوں کی آوازیں سنیں جب فوج نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی۔
قطر نے شہر کے مرکزی علاقوں کو خالی کرا لیا اور دو میزائلوں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
حماس نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرے، تاہم اس نے ایران کے دفاع کے حق کی حمایت بھی کی۔
ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق سنیچر کو ملک کے مختلف صوبوں میں شدید بمباری جاری رہی۔ ادھر اسرائیلی فوج نے شمالی ایران کے شہر تبریز کے صنعتی علاقے میں رہنے والوں کو فوری انخلا کی ہدایت جاری کی، جس سے ممکنہ حملے کا عندیہ ملتا ہے۔
ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق تقریباً 32 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو ’مکمل طور پر شکست خوردہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران معاہدہ چاہتا ہے لیکن وہ اس پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکہ اور اسرائیل اب تک ایران میں 15 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف ابتدائی چھ دنوں میں امریکہ کو 11.3 ارب ڈالر کا خرچ برداشت کرنا پڑا جبکہ جنگ میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

 

شیئر: