سعودی عرب میں اقامہ و لیبر قانون کی خلاف ورزیاں، ایک ہفتے میں 8 ہزار غیرملکیوں کی واپسی
ایک ہفتے میں مزید 21 ہزار320 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی مزید 21 ہزار320 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 8 ہزار 104 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 5 سے 11 مارچ 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 15 ہزار 339 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار687 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 2 ہزار 249 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار683 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 62 فیصد ایتھوپین، 36 فیصد یمنی اور 2 فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 72 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 22 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر21 ہزار 573 تارکین جس میں 19 ہزار 965 مرد اور ایک ہزار 608 خواتین شامل ہیں اس وقت ضوابط پر عملدرآمد کے پروسیجر سے گزر رہے ہیں۔ ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 14 ہزار 363 پر حراست میں لیا گیا۔

انہیں سفری دستاویز ات کے لیے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے، 2 ہزار 206 کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ 8 ہزار 104 کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
