وزیر اعظم نے کیا ’’کسان سمّان اسکیم‘‘کا افتتاح ، کسانوں کے کھاتوں میں2ہزار روپے کی پہلی قسط جاری

گورکھپور۔۔۔  وزیر اعظم نریندر مودی آج گورکھپور پہنچے جہاں یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے انکا استقبال کیا۔انہوں نے’’کسان سمّان فنڈ اسکیم‘‘کا افتتاح کرتے ہوئےایک کلک میں 2021کروڑ روپے کی رقم ایک لاکھ سے زیادہ کسانوں کے کھاتوں میں2000روپےکے حساب سے پہلی قسط جاری کی۔باقی دیگر کسانوں کے کھاتوں میں آئندہ ہفتے رقم پہنچنے کی یقین دہانی کرائی۔اس اسکیم کے تحت 12کروڑ کسانوں کوفائدہ ہوگا۔مودی نے عوامی ریلی میں  ایک طرف کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئےاسکیم کے فوائد گنوائے تو دوسری جانب اپوزیشن پر تیکھے وار کئے۔انہوں نے کہا کہ’’ مہا ملاوٹی‘‘ لوگ ایسی افواہ پھیلانے میں مصروف ہیں کہ مودی نے ابھی 2000ہزا روپے دیئے ہیں جسےسال بھر بعد واپس لے لینگے۔ مودی نےکہا کہ اترا کھنڈ، اتر پردیش ، گجرات ، بہار اور مہاراشٹر جیسی حکومتوں کا خیر مقدم کرتا ہوں جنہوں نے کارکردگی کو سراہا۔ علاوہ ازیں دیگر کئی ریاستی حکومتیں خواب غفلت میں مبتلا ہیں انہوں نے کسانوں کی فہرست ابھی تک جاری نہیں کیں۔ انہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر انہوں نے فہرست نہیں دی تو کسانوں کی بددعائیں تباہ کردینگی۔وزیر اعظم نے کسانوں سے کہا کہ کوئی رقم واپس  نہیں لے سکتا نہ مودی اور نہ ہی ریاستی حکومتیں۔ ایسی افواہوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں۔بی جے پی کی علاقائی یونٹ نے دعویٰ کیا کہ اعظم گڑھ ، بستی اور گورکھپور سمیت10اضلاع سے تقریباً3لاکھ سے زیادہ کسان ریلی میں شریک ہوئے۔ریلی کے مقام کو بم سے اڑانے کی دھمکی کے بعد سیکیورٹی سخت کردی گئی تھی ۔موقع پر 4ڈی آئی جی،12ایس پی،18ایس ایس پی،48سی او،100انسپکٹرز،700داروغہ، 30خواتین داروغہ،250سپاہی ،140 خواتین سپاہی، پی اے سی کے 10دستے ،اور پیرا ملٹری فورس کی7بٹالین ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے تھے ۔وزیر اعظم مودی نے 9ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد اور نقاب کشائی کی۔  بہرائچ چینی مل اور بستی منڈیروا شوگر مل کی نقاب کشائی کی۔بالمیکی نگر بجلی اسکیم اور الیکٹرک لوکو شیڈ کا افتتاح کیا۔مودی جنگل کوڑیا سے کالیسر تک بائی پاس کی بھی افتتاح کیا۔واضح ہوکہ ’’کسان سمّان اسکیم ‘‘کے تحت 2ایکڑزمین رکھنے والے کسانوں کے کھاتوں میں یہ رقم جمع ہوگی۔اس اسکیم سے گورکھپور ڈویژن کے تقریباً5لاکھ کسان مستفید ہونگے۔
مزید پڑھیں:- - -  -رتلام میں بھی چلائی جاسکتی ہے’’ وندے بھارت‘‘ ٹرین ، گپتا

شیئر: