’مسجد التنعیم‘ مکہ مکرمہ میں عمرہ زائرین کے لیے ایک تاریخی مقام
بہت سے زائرین عمرے کی ادائیگی کے لیے احرام باندھتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام سے تقریبا سات کلو میٹر دور واقع مسجد التنعیم جس کی زیادہ شہرت ’عمرہ کی مسجد‘ کے طور پر ہے، مکہ میں ایک نمایاں ترین سنگِ میل ہے۔
اس مسجد کے نام کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سے زائرین اس مسجد میں آ کر عمرے کی ادائیگی کے لیے احرام باندھتے ہیں کیونکہ یہ مکہ کے رہائشیوں کے لیے بنیادی میقات بن جاتا ہے۔
اس مسجد کو اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے نام کی نسبت سے ’عائشہ مسجد‘ کے طور پر بھی شہرت حاصل ہے۔
یہ مسجد 240 ہجری میں اس مقام پر تعمیر کی گئی تھی جہاں اُم المومنین حجۃ الوداع کے موقع پر احرام میں آئی تھیں۔
اپنے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں، حضرت عائشہ کے بھائی عبد الرحمن ابنِ ابی بکر انھیں اِس مقام پر لے کر آئے تھے تاکہ وہ عمرہ ادا کر سکیں۔ اس تاریخی واقعے کے بعد سے یہ مقام، زائرین کے لیے امتیازی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کا احوال ’مکہ کے تاریخی اور آثاریاتی سنگ ہائے مِیل‘ جیسے تاریخی ریکارڈ میں بھی ملتا ہے۔
مسجدالحرام سے سات کلو میٹر دوُر یہ مسجد، التنعیم کے ضلعے میں واقع ہے جہاں مستقل طور پر زائرین سال بھر آتے رہتے ہیں۔ ایامِ حج اور عمرے کے سیزن میں یہاں زائرین کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے۔
اس کمپلیکس کا کُل رقبہ تقریباً 84000 سکوائر میٹر ہے جبکہ مسجد کی عمارت چھ ہزار سکوائر میٹر پر مشتمل ہے اور اس کا ڈیزائن مستند تاریخی اور جدید اسلامی طرزِ تعمیر کا ملاپ ہے۔
اس مسجد میں بیک وقت 15000 نمازیوں کے جمع ہونے کی گنجائش ہے۔
