Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

العلا کے قریب قدیم تجارتی شہر ’قرح‘ جس کا تعلق ابتدائی اسلامی دور سے ہے

العلا کے جنوب میں تقریباً 20 کلو میٹر کے فاصلے پر، قدیم شہر قرح کے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی یہ مقام تجارت اور ثقافت کا پھلتا پھولتا مرکز ہوا کرتا تھا۔
ایس پی اے کے مطابق آثارِ قدیمہ کی یہ سائٹ تاریخی وادی القریٰ میں ہے جو مغیرہ کے گاؤں کے قریب واقع ہے۔ اس کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کا ایک سلسلہ بھی ہے۔
آثارِ قدیمہ کی یہ سائٹ اسلامی دور کے آغاز میں انسانی بستیوں کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ریجن میں سب سے اہم سائٹ سمجھی جاتی ہے۔
اس کے ایک سٹریٹیجک مقام پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کاروانوں کے ان راستوں کے لیے اہم ترین جگہ تھی جو جزیرہ نما عرب کے شمالی اور جنوبی حصوں کو جوڑتے تھے۔
قرح میں آثارِ قدیمہ کی باقیات سے اس زمانے کی عمارتوں، بازاروں اور سڑکوں کے ایک نیٹ ورک کا علم ہوتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ شہر کبھی تجارتی اور سماجی زندگی میں بہت متحرک تھا۔
یہاں پائے جانے والے فنِ تعمیر کے نمونے ابتدائی زمانۂ اسلام سے جا ملتے ہیں، جس سے یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ اپنے عروج کے دور میں یہ شہر چہل پہل اور زندگی سے بھرپور کردار کا حامل تھا۔
تاریخی طور پر مشہور بخورات کے تجارتی راستے سے جڑا ہوا شہر قرح، کاروانوں کے راستوں کا ایک جال تھا جہاں سے لُوبان اور دیگر بخورات و عطریات کے علاوہ قیمتی چیزیں پورے عرب میں پہنچائی جاتی تھیں۔

وادی القریٰ سے گزرنے والے کارروانوں نے اس شہر کو ایک بڑے کمرشل مقام میں تبدیل کر دیا جہاں مسافر اور کارروان کچھ دیر قیام کیا کرتے تھے۔ یہی مقام، تاجروں اور مسافروں کے باہمی میل جول کی جگہ بھی تھی۔
بارہویں صدی کے آخر تک، قرح رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہوگیا جبکہ اس کے شمال میں واقع العلا بتدریج اس وادی کے نئے شہری مرکز کے طور پر ابھرنا شروع ہوا۔
العلا کا رائل کمیشن آج بھی وادی القریٰ میں آثارِ قدیمہ کے سروے اور کھدائی کے کام میں مصروف ہے۔ اس کام میں بین الاقوامی ریسرچ کے ادارے، رائل کمیشن کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

اس کا مقصد اس شہر کی تاریخ کو دستاویزی شکل میں لانا ہے اور ان نئی دریافتوں سے پردہ اٹھانا ہے جو علاقائی تجارت اور ثقافت کے پہلوؤں سے متعلق اس مقام کے کردار پر نئے سرے سے روشنی ڈالیں گی۔
تحقیق کار کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں جاری کوششوں سے قرح کی ثقافتی میراث کو تحفظ ملے گا اور آثارِ قدیمہ اور ثقافتی اور سیاحتی مقام کے طور پر دنیا میں العلا کی بڑھتی ہوئی شہرت کو مزید تقویت ملے گی۔

 

شیئر: