عبدالقادر پاکستان کرکٹ بورڈ پر برس پڑے

لاہور:سابق چیف سلیکٹر او رعظیم لیگ اسپنر عبدالقادر ایک بار پھر کرکٹ بورڈ پر برس پڑے اور کہا کہ پی سی بی بڑے سابق کرکٹرز کے مرنے کا انتظار نہ کرے ، بعد میں ان کی تعریفیں کرنے کی بجائے ان کی زندگی میں ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے جبکہ سپر لیگ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کی تشکیل کا معیار بنانا تباہ کن پالیسی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ احسان مانی کی جگہ ماجد خان کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا سربراہ ہونا چاہیے اوران کے ساتھ سلیم الطاف کو چیف آپریٹنگ آفیسر یا ایم ڈی لگا یا جاتا تو ہماری کرکٹ کے لئے زیادہ بہتر ہوتا۔سابق بولر کے مطابق پی سی بی کو چاہیے کہ وہ مینٹورز کیلئے باہر سے ویوین رچرڈز کی طرح بڑے نام ٹیموں کے ساتھ رکھے لیکن ملک کیلئے خدمات دینے والے معروف سابق کرکٹرز کا کوچز کے طور پرٹیموں کے ساتھ تقرر کرے۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ میں کوچنگ نہیں ہوتی لیکن اس سے آپ اپنے عظیم کرکٹرز کو عزت دے سکتے ہیں۔ سابق کھلاڑیوں کے ناموں پر اسٹیڈیمز کے انکلوژر بنانے کے بعد انہیں ڈیکوریشن پیس بناکررکھ دیا گیاہے۔ کرکٹ بورڈ قبروں پر پھول  چڑھانے کے بجائے زندوں کی قدر کرے۔ عبد القادر نے کہا کہ مکی آرتھر اور اظہر محمود پاکستانی ٹیم کے ساتھ پی ایس ایل ٹیموں کی بھی کوچنگ کررہے ہیں، اس طرح کی پالیسی پر بورڈ کے لیے اچھے الفاظ استعمال نہیں ہوسکتے ۔ بورڈ اچھاکام کرے گا تو تعریف کروں گالیکن کسی کی چاپلوسی کے لیے سچ بولنا نہیں چھوڑسکتا۔عبدالقادر نے پی ایس ایل کے کھلاڑیوں کو صرف ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ تک محدود رکھنے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ جو کھلاڑی جس فارمیٹ میں کارکردگی دکھائے اس کو اسی طرز کی کرکٹ میں موقع دینا چاہیے۔ٹی ٹوئنٹی کی بنیاد پر ٹیسٹ اورون ڈے ٹیم بنانے کا تجربہ پہلے کی طرح پھر ناکام ہوگاکیونکہ ہر فارمیٹ میں کھیل کے تقاضے با لکل مختلف ہوتے ہیں، اس انوکھی پالیسی کی وجہ سے ہماری ٹیسٹ ٹیم خراب ہورہی ہے۔ عبدالقادر نے پی سی بی حکام کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل کا کریڈٹ نجم سیٹھی سے نہیں چھینا جاسکتا، اس میں موجودہ انتظامیہ کا کوئی کمال نہیں۔
 کھیلوں کی  مزید خبریں اور تجزیئے پڑھنے کیلئے واٹس ایپ گروپ " اردو  نیوز اسپورٹس" جوائن کریں
 

شیئر: