Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض می ورلڈ ڈیفنس شو، پاکستانی وزیرِ دفاع سعودی عرب پہنچ گئے

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اس ہفتے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے، جہاں وہ پانچ روزہ سعودی ورلڈ ڈیفنس شو نمائش میں شرکت کریں گے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق میڈیا کے مطابق اس نمائش میں 700 سے زائد نمائش کنندگان اپنے مصنوعات اور ٹیکنالوجی پیش کریں گے۔
اس نمائش کا انعقاد سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی فار ملٹری انڈسٹریز (GAMI) کے زیرِ اہتمام 8 سے 12 فروری تک ریاض میں کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر سرکاری وفود، حکومتی ادارے اور دفاع و سلامتی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی صفِ اوّل کی بین الاقوامی کمپنیاں شریک ہوں گی۔
جی اے ایم آئی کے گورنر احمد العوہلی کے مطابق، اس ایونٹ میں ایک جامع پروگرام پیش کیا جائے گا، جس میں فضائی اور زمینی شعبوں میں براہِ راست مظاہرے، جامد نمائشیں اور نئے قائم کردہ زونز شامل ہوں گے، جس سے سعودی حکومتی اداروں اور قومی و عالمی دفاعی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری اور تعاون کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
پاکستان ٹیلی وژن نیوز (پی ٹی وی) نے بتایا کہ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف حکومتِ مملکتِ سعودی عرب کی سرکاری دعوت پر ورلڈ ڈیفنس شو میں شرکت کے لیے ریاض پہنچ گئے ہیں۔
پی ٹی وی کے مطابق، ریاض پہنچنے پر خواجہ محمد آصف کا استقبال اعلیٰ سعودی حکام اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے کیا۔
حالیہ برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی اور دفاعی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اور شدت پسند تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
دونوں ممالک نے 17 ستمبر 2025 کو سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور دہائیوں پر محیط عسکری و سلامتی تعاون کو باضابطہ شکل دینا ہے۔
یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف کے سرکاری دورۂ ریاض کے دوران طے پایا، جہاں انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔
ایک ماہ بعد، دونوں ممالک نے دفاعی معاہدے کو اقتصادی تعاون کے فریم ورک کے ذریعے مزید تقویت دی، جس کا مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان سعودی عرب کو ایک اہم اتحادی سمجھتا ہے، جہاں 25 لاکھ سے زائد پاکستانی تارکینِ وطن مقیم ہیں۔ اس وجہ سے سعودی عرب عالمی سطح پر پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جو مالی دباؤ کا شکار ملک کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

شیئر: