’پیر پِھسل گیا‘، انڈیا میں سوشل میڈیا کے لیے رِیل بناتی خاتون کو پھانسی لگ گئی
’پیر پِھسل گیا‘، انڈیا میں سوشل میڈیا کے لیے رِیل بناتی خاتون کو پھانسی لگ گئی
اتوار 8 فروری 2026 12:39
پولیس کے مطابق 27 سالہ موہینی ساڑھی کو پھندے کی طرح گلے میں ڈال کر سٹول پر کھڑی ہوئی تھیں (فوٹو: این ڈی ٹی وی)
انڈیا میں ایک خاتون کو سوشل میڈیا کے لیے گلے میں پھندہ ڈال کر ریل بناتے ہوئے پیر پھسلنے سے سچ میں پھانسی لگ گئی۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش کے ضلع باندا کے علاقے بابیرو ٹاؤن میں سنیچر کو پیش آیا۔ پولیس کے مطابق 27 سالہ موہینی نے ایکٹنگ کے لیے ساڑھی کو پنکھے کے ساتھ باندھا اور پھندے کی طرح گلے کے گرد لپیٹا۔
اس وقت ان کی چار سالہ بیٹی بھی کمرے میں موجود تھی۔
سرکل افسر سورابھ سنگھ نے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ ’وہ اپنا توازن کھو بیٹھیں اور گرتے ہوئے گردن پھنس گئی، لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی گئی ہے۔‘
خاتون کے موبائل کے ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں گوگل اور فیس بک پر چھت سے لٹکنے کی کئی ویڈیوز سرچ کیں۔
واقعے کے بعد موقع پر موجود چار سالہ بیٹی نے پولیس کو بتایا کہ وہ ویڈیو ریکارڈ کر رہی تھیں۔
ان کے شوہر جگدیش نے بھی اسی صورت حال کی تصدیق کی ہے اور پولیس کو بتایا کہ انہوں نے اپنی ساڑھی کو پھندے کی طرح استعمال کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق خاتون نے ساڑھی کو پنکھے میں پھنسایا اور سٹول پر کھڑے ہو نیچے کے حصے کو پھندے کی شکل دیتے ہوئے گلے میں ڈالا، تاہم اس دوران وہ توازن کھو بیٹھیں اور پیر پھسل گیا جس رہ چھت کے ساتھ لٹک گئیں۔
جس پر بیٹی نے رونا شروع کر دیا اس کی آواز سن کر پڑوسی وہاں پہنچے تو اوپر لٹکی خاتون کو نیچے اتار۔
خاتون کو فوری طور پر قریبی ہسپتال لے جایا گیا اور ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ وہ مر چکی ہیں۔
سوشل میڈیا ریلز بناتے ہوئے انڈیا سمیت کئی ممالک میں پہلے بھی ہلاکتوں کے کئی واقعات ہو چکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعہ ایک حادثہ تھا تاہم مزید تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔
خیال رہے سوشل میڈیا کے ریلز بناتے ہوئے انڈیا میں پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔
ایسا ہی دہلی کے پچھلے برس اکتوبر میں شانتی نگر میں ایک 14 سالہ لڑکے کے ساتھ بھی ہوا تھا اور وہ ریل بناتے ہوئے پنکھے کے ساتھ لٹک کر جان سے گزر گیا تھا۔
جس پر اس کی فیملی کو سخت نفسیاتی دھچکا لگا تھا اور اس کے گھر والوں کو اس واقعے کے اثرات سے نکلنے کے لیے نفسیاتی کاؤنسلنگ لینا پڑی تھی۔
حکام کی جانب سے پہلے بھی لوگوں اور خصوصاً والدین کو ہدایت کی جا چکی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور ریلز کے لیے خطرناک سٹنٹس سے باز رکھیں۔
انڈیا کے علاوہ دیگر ممالک میں ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں جہاں کئی افراد ٹک ٹک ریلز بناتے ہوئے حادثات کا شکار ہوئے۔