Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کے تجارتی معاہدے میں انڈیا کے زراعت کے شعبے کے لیے کیا داؤ پر لگا ہے؟

انڈین کسانوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نئی دہلی نے واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے نئے تجارتی معاہدے میں حد سے زیادہ رعایتیں دے دی ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک نے ٹیرف میں کمی پر اتفاق کیا ہے۔
ہفتے کے روز جاری ہونے والے دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق، انڈیا امریکی صنعتی اشیا اور دیگر غذائی و زرعی مصنوعات پر عائد ٹیرف ختم یا کم کرے گا۔
اس کے برعکس، امریکہ انڈیا سے درآمد ہونے والی اشیا پر 18 فیصد باہمی (ریسی پروکل) ٹیرف عائد کرے گا، جن میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتے، پلاسٹک اور ربڑ، نامیاتی کیمیکلز اور بعض مشینری شامل ہیں۔
یہ شرائط اس وقت سامنے آئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند دن پہلے انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کیا اور کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے روسی تیل کی خریداری روکنے کا وعدہ کیا ہے۔
بعد ازاں وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں نئے تجارتی معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے مواقع پیدا ہوں گے اور روزگار میں اضافہ ہوگا۔
تاہم انڈین کسان یونینیں اس سے مطمئن نظر نہیں آئیں اور انہوں نے اس معاہدے کو امریکی زرعی اجارہ دار کمپنیوں کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔
متعدد کسان تنظیموں کے اتحاد، سمیوکت کسان مورچہ (ایس کے ایم)، نے اعلان کے بعد جاری بیان میں کہا کہ انڈین صنعت اور زراعت اب سستی درآمدات کے شدید خطرے سے دوچار ہیں، جو انڈین منڈیوں میں ڈمپ کی جائیں گی۔
اس اتحاد نے 12 فروری کو ملک گیر احتجاج کی کال بھی دی ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق انڈیا امریکی غذائی اور زرعی مصنوعات کی 'وسیع رینج' پر ٹیرف ختم یا کم کرے گا۔
ان میں درختوں سے حاصل ہونے والے خشک میوے، کچھ تازہ پھل، سویا بین کا تیل، شراب، سپرٹس اور دیگر مصنوعات شامل ہیں، جن کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔
وزارتِ زراعت کے سابق اعلیٰ عہدیدار سراج حسین نے کہا کہ انڈین صارفین اب زیادہ مقدار میں خشک میوے خرید رہے ہیں، 'اس لیے ان کی درآمد سے مقامی پیداوار پر شاید زیادہ اثر نہ پڑے، بلکہ یہ زیادہ طلب پوری کرنے میں مدد دے گی۔'
تاہم مقامی کاشتکاروں کو سیب جیسی اشیا کی سستی درآمدات پر شدید تشویش ہے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ مقامی پیداوار کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
ایس کے ایم نے کہا سیب جیسے تازہ پھلوں کی درآمد… کسانوں کو برباد کر دے گی۔
حکام کو امید ہے کہ معاہدے میں شامل حفاظتی اقدامات، جیسے درآمدی کوٹے یا کم از کم درآمدی قیمتیں (مثلاً سیب کے لیے)، غیر ملکی مسابقت کے اثرات کو کم کر سکیں گے۔
جانوروں کی خوراک کے لیے ڈرائیڈ ڈسٹلرز گرینز اور سرخ جوار پر درآمدی ڈیوٹی کم کرنے کا انڈیا کا وعدہ مقامی سویا بین میل کی طلب کو بھی کم کر سکتا ہے۔
اپوزیشن رکنِ پارلیمان جے رام رمیش نے کہا کہ ڈرائیڈ ڈسٹلرز گرینز اور سویا بین آئل کی درآمد میں نرمی سے مہاراشٹرا اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں لاکھوں سویا بین کسانوں” کو نقصان پہنچے گا۔
کیا شامل نہیں کیا گیا؟
خدشات کو کم کرنے کے لیے انڈیا کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے کسانوں کو یقین دلایا کہ ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا، اور کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے کھینچی گئی اہم سرخ لکیریں عبور نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ  'شعبوں' جیسے اناج، مصالحہ جات، ڈیری، پولٹری، گوشت اور کئی سبزیاں اور پھل، جن میں آلو، سنگترے اور اسٹرابیری شامل ہیں، میں کوئی رعایت نہیں دی گئی۔
وزیرِ تجارت نے یہ بھی واضح کیا کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) فصلیں اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔
ان میں جی ایم سویا بین بھی شامل ہے، جس کے لیے امریکہ طویل عرصے سے نئی منڈیوں کی تلاش میں ہے۔
چھوٹے کسان ‘مقابلہ نہیں کر سکتے
اگرچہ زرعی شعبہ انڈیا کی مجموعی قومی پیداوار میں صرف 16 فیصد حصہ ڈالتا ہے، لیکن یہ 45 فیصد سے زائد آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے۔
اسی وجہ سے یہ شعبہ ایک اہم ووٹ بینک سمجھا جاتا ہے، جسے سیاسی جماعتیں اکثر اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ کسان گروہوں نے متعدد مواقع پر ثابت کیا ہے کہ وہ سڑکوں پر طاقتور دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
2021  میں حکومت نے زرعی اصلاحات کے منصوبے اس وقت واپس لے لیے تھے جب کئی ماہ تک شدید احتجاج جاری رہا، جس کے دوران دارالحکومت کی شاہراہیں بند رہیں اور دہلی کے تاریخی لال قلعے میں ٹریکٹر داخل ہو گئے تھے۔
سراج حسین نے کہ کہ 'انڈین کھیت چھوٹے ہیں اور وہ انتہائی سبسڈی یافتہ امریکی زراعت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔'
انڈیا اور امریکہ کی تجارت
جنوری تا نومبر 2025 کے دوران، جب نئی دہلی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا، امریکہ سے انڈین زرعی درآمدات میں 34 فیصد اضافہ ہوا، جو تقریباً 2.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اہم درآمدات میں کپاس، سویا بین آئل، ایتھانول اور مختلف خشک میوے جیسے بادام شامل تھے۔
یہ اضافہ تجارتی معاہدے سے پہلے ہی ہو چکا تھا، اگرچہ اس کی ایک وجہ انڈیا کی جانب سے بعض امریکی اشیا پر ٹیرف میں کمی بھی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سویا بین آئل جیسی مصنوعات پر مزید ڈیوٹی میں کمی، جس کا ذکر مشترکہ اعلامیے میں کیا گیا ہے، مستقبل میں امریکہ سے انڈیا درآمدات میں نمایاں اضافے کا سبب بنے گی۔
 

شیئر: