تحریک انصاف کی کال پر بلوچستان کے مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، دوسرے صوبوں میں کاروبارِ زندگی معمول پر
اتوار 8 فروری 2026 11:48
زین الدین احمد، -اردو نیوز، کوئٹہ
سیاسی جماعتوں کے کارکنان شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر آج اتوار کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں اور اہم قومی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے۔
تحریک انصاف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔
جناح روڈ، پرنس روڈ، کندھاری بازار، لیاقت بازار سمیت کوئٹہ شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز بند ہیں، جبکہ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
سیاسی جماعتوں کے کارکنان شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس موقع پر شہر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
پولیس کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے اور زبردستی دکانیں بند کرانے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ ہڑتال سے ایک روز قبل کوئٹہ اور چمن سمیت مختلف شہروں سے پولیس نے اتحاد کے کئی رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا۔
کوئٹہ کے علاقوں مشرقی بائی پاس، میاں غنڈی، مغربی بائی پاس اور کچلاک میں کارکنوں نے سڑکوں اور اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں بند کر رکھا ہے۔
کوئٹہ کے علاوہ پشین، قلعہ سیف اللہ، ژوب، لورالائی، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللہ، چمن، زیارت، سبی اور صحبت پور سمیت بلوچستان کے کئی دیگر شہروں میں بھی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے یارو، مسلم باغ سمیت مختلف مقامات پر کوئٹہ کو چمن، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ملانے والی شاہراہوں کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور مسافر پھنس گئے ہیں۔
بعد میں پولیس نے کوئٹہ سمیت مختلف شہروں سے 100 سے زائد کارکنوں کو گرفتارکرکے بند سڑکیں دوبارہ کھلوادی ہیں- کوئٹہ پولیس کے ایک افسر کے مطابق شہر کے مختلف مقامات سے 76 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں اکثریت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی ہے-
کوئٹہ میں ایک بار پھر موبائل فون نیٹ ورک بھی بند کردیا گیا - نیٹ ورک کی بندش کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم بظاہر احتجاج کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے-
اسلام آباد، راولپنڈی میں شٹر ڈاؤن اور احتجاج کی صورتحال
اردو نیوز کے نامہ نگار صالح سفیر عباسی کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے ملک گیر شٹر ڈاؤن اور احتجاج کی کال کے دوران راولپنڈی اور اسلام آباد کی مارکیٹس معمول کے مطابق کھلی رہیں اور کہیں بھی بڑے پیمانے پر شٹر ڈاؤن یا احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔
اسلام آباد کے بڑے تجارتی مراکز، بلیو ایریا، آبپارہ، جی نائن سمیت دیگر مارکیٹس کھلی رہیں اور کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں، بھارہ کہو، ترامڑی اور چٹھہ بختاور میں بھی دکانیں کھلی رہیں اور کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے۔
راولپنڈی کی بیشتر مارکیٹس کی صورتحال بھی یہی ہے، تاہم آج انتظامیہ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر راولپنڈی اسلام آباد میں میٹرو بس سروس بند کر رکھی ہے۔
آل پاکستان انجمنِ تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے اس حوالے سے اردو نیوز کو بتایا کہ تاجر کسی سیاسی جماعت کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال پر عمل درآمد نہیں کرتے۔
اسی طرح اسلام آباد کی بلیو ایریا مارکیٹ کے تاجر ریحان کلیم نے اردو نیوز کو بتایا کہ آج بلیو ایریا میں تمام دکانیں کھلی ہیں، سوائے ان دکانوں کے جو اتوار کے روز بند ہوتی ہیں۔
اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ کے تاجر ادریس عباسی کا کہنا ہے کہ نہ صرف ان کی ذاتی دکان بلکہ پوری مارکیٹ مکمل طور پر کھلی ہے اور کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے۔
تاجروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے حوالے سے نہ تو کسی نے انہیں قائل کیا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی مؤثر آگاہی دی گئی۔
خیبر پختونخوا میں جزوی ہڑتال
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے باوجود پی ٹی آئی کی 8 فروری کی کال پر شٹرڈاون ہڑتال پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ پشاور سمیت بڑے شہروں میں جزوی ہڑتال ہے بیشتر مارکیٹیں اور بازار معمول کے مطابق کھلے ہیں۔ اندرون شہر کی کچھ مارکیٹیں بند ہیں جبکہ صدر بازار سمیت رنگ روڈ بازار میں تاجروں نے دکانیں بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کیا۔
پشاور سے اردو نیوز کے نامہ نگار فیاض احمد کے مطابق کوہاٹ، ہنگو اور بنوں لکی مروت سمیت ملاکنڈ کے بیشتر بازاروں میں ہڑتال کی گئی جبکہ سوات کے مرکزی بازار مکمل طور پر بند کیے گئے اسی طرح چترال میں کھلی دکانوں کو بند کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریلی نکالی جس کے بعد بازار کو بند کر دیا گیا۔
پشاور میں ٹرانسپورٹ سروس کو بند کرنے کی کال کو مسترد کر دیا گیا، شہر کے بڑے بس اسٹینڈ معمول کے مطابق کھلے ہیں، جبکہ بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ سروس بھی مکمل فعال ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق کچھ اضلاع میں زور زبردستی کر کے اڈوں کو بند کیا گیا ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ متاثر ہوئی۔
پاکستان تحریک انصاف پشاور ڈویژن کی جانب سے ہشتنگری، حیات آباد سے ریلیاں نکالی گئی ہیں جو رنگ روڈ سے گزر کر قلعہ بالاحصار پر اختتام پذیر ہوئیں۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ شٹر ڈاون کی کال پر عمل درآمد کے لیے کسی دکاندار پر زور نہیں دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب بعض علاقوں میں شہریوں کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے پمفلٹ تقسیم کر کے مارکیٹیں زور زبردستی بند کروائیں جن کے ساتھ پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔
لاہور میں ہڑتال کی کال پر ردعمل
لاہور سے اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنواز کے مطابق اپوزیشن کی اتوار کے روز دی گئی ہڑتال کی کال اور شہر میں حکومت کی طرف سے کی جانے والی تین دن کی چھٹیاں ایک ساتھ رہیں۔ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ لاہور میں ان کی کال پر شہر بند رہا۔ تاہم تاجر تنظیموں نے اس ہڑتال سے اعلان لاتعلقی کر رکھا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ لاہور کے مرکزی تجارتی مراکز جمعہ سے ہی بند ہیں۔ اندرون لاہور میں شاہ عالم مارکیٹ، برینڈرتھ روڈ، بادامی باغ آٹو پارٹس مارکیٹ، منٹگمری روڈ اور اردو بازار سمیت تمام بڑے تجارتی مراکز بسنت کے باعث بند ہیں۔ البتہ لکشمی سمیت کھانے پینے والے تمام کاروبار کھلے ہیں اور اتوار کے روز بھی کھلے رہے۔
دوسری طرف لاہور میں کسی بھی قسم کا احتجاج نہیں دیکھا گیا، حکومت نے صوبے میں دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا ہے۔ اسی طرح بڑے شاپنگ مالز بھی اتوار کے روز کھلے رہے۔
