تحریک تحفظ آئین کی اپیل پر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، قومی شاہراہیں بند
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر آج اتوار کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں اور اہم قومی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے۔
تحریک انصاف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔
جناح روڈ، پرنس روڈ، کندھاری بازار، لیاقت بازار سمیت کوئٹہ شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز بند ہیں، جبکہ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
سیاسی جماعتوں کے کارکنان شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس موقع پر شہر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
پولیس کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے اور زبردستی دکانیں بند کرانے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ ہڑتال سے ایک روز قبل کوئٹہ اور چمن سمیت مختلف شہروں سے پولیس نے اتحاد کے کئی رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا۔
کوئٹہ کے علاقوں مشرقی بائی پاس، میاں غنڈی، مغربی بائی پاس اور کچلاک میں کارکنوں نے سڑکوں اور اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں بند کر رکھا ہے۔
کوئٹہ کے علاوہ پشین، قلعہ سیف اللہ، ژوب، لورالائی، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللہ، چمن، زیارت، سبی اور صحبت پور سمیت بلوچستان کے کئی دیگر شہروں میں بھی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے یارو، مسلم باغ سمیت مختلف مقامات پر کوئٹہ کو چمن، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ملانے والی شاہراہوں کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور مسافر پھنس گئے ہیں۔
