داعشی کی شہریت ختم نہیں ہوگی، نیوزی لینڈ

ویلنگٹن۔۔۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا ہے کہ شام میں داعش میں شمولیت کے الزام میں گرفتار شہری کی شہریت منسوخ نہیں کی جائے گی بلکہ اس کے خلاف وطن واپسی پر فوجداری الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ وزیراعظم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارک ٹیلر نے غیر قانونی طور پر داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔اسے اس کے قانونی مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان کی حکومت اگر ممکن ہوا تو اس کو سفری دستاویزات مہیا کرے گی۔انھوں نے کہا کہ ٹیلر کے پاس صرف نیوزی لینڈ کی شہریت ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو بے ریاست نہ کرے۔انھوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے چند ایک اور افراد نے بھی داعش میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن انھوں نے ان کی حقیقی تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔ حکام نے ٹیلر کو مطلع کیا ہے کہ اسے کسی ایسے ملک میں جانا ہوگا جس کے نیوزی لینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار ہیں۔ شام کے نزدیک ترین ایسا ملک ترکی ہوسکتا ہے اور وہاں ٹیلر کو ہنگامی سفری دستاویزات فراہم کی جاسکتی ہیں ۔ فی الوقت اس کیلئے ایسا کرنا مشکل ہوگا کیونکہ وہ زیر حراست ہے۔
 

شیئر: