Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور میں برطانوی شہری کے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی تحقیقات

***رائے شاہنواز***
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس حکام کے مطابق مبینہ طور پر پر غیرت کے نام پر برطانوی شہری کو قتل کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ 
حکام کا کہنا ہے کہ برطانوی شہری کے قتل کے واقعے پولیس کے ایک اہلکار اور ان کی منگتر کو حراست میں لیا گیا ہے۔ 
پولیس حکام نے اس واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ چار مارچ کو چوہنگ کے علاقے میں وائن البرٹ نامی برطانوی شہری کو اغوا کیا گیا۔
19 مارچ کو ان کی تشدد زدہ لاش شیخوپورہ کی خان پور نہر سے ملی۔
ڈی پی او شیخوپورہ عمران کشور نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک غیر ملکی کی تشدد زدہ لاش ملی تو اس کے ورثا کے نہ ملنے پر مقدمہ درج کر کے اس کو دفنا دیا گیا۔ جبکہ ایک روز بعد ہی پتا چلا کہ یہ لاش لاہور سے اغوا ہونے والے برطانوی شہری وائن البرٹ براگنزہ کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چونکہ اغواہ کا مقدمہ لاہور میں پہلے ہی درج ہو چکا تھا اس لیے قانونی کاروائی کے بعد قبر کشائی کی گئی اور لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی باقی کی تفتیش اب لاہور میں ہو رہی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی اس واقعے میں شیخوپورہ پولیس ہی کے ایک افسر احتشام الہی اور ان کی منگیتر ڈاکٹر عائشہ کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ احتشام نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے البرٹ کو غیرت کے نام پر قتل کیا کیونکہ ان کی ڈاکٹر عائشہ سے دوستی تھی۔
وائن البرٹ برگنزہ کون ہیں؟

سفید فام وائن البرٹ براگنزہ سے متعلق جان کاری کے لئے ان کے قریبی دوستوں سے رابطہ کیا گیا تو ان کے ایک دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ آئی ٹی کے ماہر تھے اور لاہور کی ایک نجی آئی ٹی کمپنی میں بطور کنسلٹنٹ کام کرتے تھے اور وہ گذشتہ کئی دہائیوں سے لاہور میں ہی مقیم تھے اور پاکستانی شہریت رکھتے تھے۔ جبکہ ان کے والد وی آر براگنزہ تقسیم ہند کے بعد اپنے ملک واپس نہیں گئے تھے اور پاکستان کی دوہری شہریت اختیار کر لی تھی۔ جبکہ تھانہ چوہنگ میں دی جانے والی اغوا کی درخواست ان کے بھائی جیسی براگنزہ کی طرف سے دی گئی جس میں انہوں نے اپنا پاکستانی قومی شناختی کارڈ نمبر درج کیا ہے۔
اغوا اور قتل کیسے کیا گیا؟
مقدمے کے تفیشی افسر اعجاز رسول نے اردونیوز کو بتایا کہ اغوا کی درخواست کے بعد پولیس نے مختلف نکات پر تفتیش شروع کی تو وائن کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔ جس میں ان کے ایک خاتون ڈاکٹر عائشہ سے لگاتار رابطے نظر آئے۔

جب خاتون کو حراست میں لیا گیا تو انہوں نے اقرار کیا کہ وائن کے اغوا میں انہوں نے اپنے منگیتر(پولیس افسر)  احتشام کی مدد کی اور ان کو لاہور سے اغوا کرکے شیخوپورہ لے گئے۔ جہاں کئی روز تک انہوں نے وائن پر تشدد کیا اور ان کے جسم کے اعضا کاٹے اور قتل کرنے کے بعد لاش نہر میں پھینک دی۔ تفتیشی افسرکے مطابق دونوں افراد اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔

شیئر: