Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی یا لاہور، کس کے کھانے زیادہ اچھے؟ عامر خاکوانی کا کالم

لاہور کی روایتی چاولوں کی ڈش کشمیری دال چاول ہیں (فائل فوٹو: پکسابے)
ویسے تو میں شہروں کے موازنے کا کبھی قائل نہیں رہا۔ ہرشہر کا اپنا ایک فلیور اور مزاج ہوتا ہے۔ اس سے لطف اٹھائیں۔ ایک کا دوسرے سے موازنہ کیوں ہو؟ سیب اور آم کا موازنہ کرنے والا کبھی انصاف نہیں کر سکے گا۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ چونسہ آم اور انوررٹول کا موازنہ کرنا بھی دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ 
سوشل میڈیا پر کراچی لاہور میں سے کس کے کھانے بہتر ہیں کی بحث شائد فواد چودھری صاحب کے ایک بیان سے شروع ہوئی، جس میں انہوں نے کہا کہ لاہور میں تاریخ اور قدیم تہذیب ہے، اس کے کھانے زیادہ اچھے ہیں، کراچی سے زیادہ بہتر۔
ظاہر ہے اس پر اہل کراچی سے ردعمل آیا۔ یار لوگوں نے لاہور پر تنقید کے تیر بھی چلائے، سوشل میڈیا پر بھی بحثیں شروع ہوئیں۔ بہت سے کراچوی حضرات یہ کہتے پائے گئے کہ لاہور میں صرف چنے ہی تو ہیں، افسوسناک بات یہ کہ خود بعض لاہور میں مقیم لوگ بھی اس کی تائید کرتے پائے گئے۔ ظاہر ہے یہ بات تو سراسر غلط ہے۔ لاہور کی کئی بلکہ متعدد روایتی ڈشز لاجواب ذائقے کی حامل ہیں۔
ان لوگوں کے لئے زیادہ مسئلہ بنا ہے جو لاہور میں بھی رہتے رہے ہیں اور آج کل کراچی میں رہ رہے ہیں۔ وہ شائد کسی ایک شہر والے کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا کلپ دیکھا، انہوں نے درمیانہ راستہ نکالتے ہوئے کہا کہ ’لاہور کے کھانے مزے کے ہیں، مگر کراچی میں ورائٹی زیادہ ہے۔ وسیم اکرم نے شکوہ کیا کہ لاہور کی مشہور فوڈ سٹریٹ میں کھانا کھایا تو وہاں بہت مرچیں تھیں، لاہوری کھانوں میں مرچیں اور کریم کہاں سے آگئی؟‘
اس خاکسار کی زندگی کے کئی سال کراچی میں گزرے، لا کالج کے دنوں میں اور پھر تعلیم سے فراغت اور ملازمت کے درمیانی وقفے میں جب آدمی کے پاس وقت بھی ہوتا ہے اور وہ اپنی پسند کی چیزوں سے لطف لے سکتا ہے۔ میری دلچسپی دو ہی چیزوں میں ہمیشہ رہی، کتابوں اور کھانے پینے کی خوش ذائقہ ڈشز۔ کراچی کے بہت سے مشہور فوڈ سپاٹ ڈسکور کئے۔ اب بھی جب کراچی جانا ہو تو کوشش کرتے ہیں کہ پرانی یادیں تازہ ہوں۔
دوسری طرف اب لاہور میں مسلسل اکتیس برسوں سے مقیم ہوں۔ ایک دو بار پہلے بھی تذکرہ کیا کہ جن دنوں لاہور سے صحافت کا آغاز کیا، ایک دن انگریزی اخبار دی نیوز کا فل پیج ایڈیشن دیکھا جس میں لاہور کے مختلف ورائٹی کے مشہور کھانوں کے سپاٹس کا ذکر تھا۔
شادی ابھی ہوئی نہیں تھی، ہاسٹل میں رہتا تھا، کھانے پینے کے شوق کا پہلے ہی بتا چکا ہوں، ہر ویک اینڈ پر میں وہ صفحہ نکالتا اور کسی نہ کسی جگہ پہنچ جاتا۔
موچی دروازے میں سائیں کے کباب، ٹمپل روڈ پر ماما کباب، ماڈل ٹاؤن ڈی بلاک میں بھیا کے کباب، اسی طرح لاہور میں تین نہاری کے سپاٹ مشہور ہیں، مزنگ کی محمدی نہاری، پیسہ اخبار، انارکلی کی وارث نہاری اور لوہاری دروازے میں دلی والے بڑے حاجی صاحب کی نہاری۔ مچھلی، حلیم، ہریسہ، چنے، دال، گجریلا، فالودہ اور نجانے کس کس چیز کے سپاٹس تھے، الحمدللہ ہر جگہ گیا۔
اب ان میں سے کئی دنیا سے رخصت ہوگئے، جیسے موچی دروازے کا سائیں۔ بعض کے سپاٹ سڑکوں کی توسیع کی نذر ہوگئے، بعض کا معیار پہلے جیسا نہیں رہا۔

سوشل میڈیا پر بعض اہل کراچی یہ شکوہ کرتے پائے گئے کہ ہم لاہور گئے اور وہاں کے کھانے کھائے مگر مایوسی ہوئی (فائل فوٹو: پکسابے)

لاہور سے مایوس ہونے والے کراچوی حضرات

سوشل میڈیا پر بعض اہل کراچی یہ شکوہ کرتے پائے گئے کہ ہم لاہور گئے اور وہاں کے کھانے کھائے مگر مایوسی ہوئی، کسی کو پائے پسند نہیں آئے، کسی کو چنے بیکار لگے وغیرہ۔
یہی مسئلہ مجھے وسیم اکرم کا بھی لگ رہا ہے کہ وہ اب ایک بڑی سیلبریٹی ہیں، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اندرون لاہور کی گلیوں میں جا کر کسی فوڈ سپاٹ کو ٹرائی کریں یا ڈی بلاک ماڈل ٹاون میں بھیا کے کباب ہی کھانے چلے جائیں کہ وہاں تو گاڑی پارک کرنے کی جگہ نہیں۔
کئی ایسی جگہیں ہیں جہاں خود بے شمار لاہوری بھی نہیں جا سکے ہوں گے کیونکہ ان کے لئے باقاعدہ کشٹ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر لاہور میں بہترین چنے کے دو تین سپاٹ ایسے ہیں کہ آپ اتوار کے دن اگر دس گیارہ بجے تک نہ پہنچے تو پھر خالی دیگچے ہی ملیں گے۔
ان جگہوں پر بیٹھنے کے بھی معقول انتظام نہیں اور آدھا آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ وسیم اکرم ٹائپ لوگ تو فوڈ سٹریٹ کے کسی جگمگاتے ریسٹورینٹ یا روف ٹاپ پر بنے فوڈ سپاٹ کو ٹرائی کریں گے اور پھر شکوہ ہوگا کہ لاہوری ذائقے کہاں گئے؟ حضور لاہوری ذائقے تو وہیں ہیں، مگر اب آپ عام لاہوری نہیں رہے، ایلیٹ کلاس میں شامل ہو تو آپ خود ہی دور ہوچکے۔ 
دو تین باتیں سمجھ لینی چاہئیں، ایک تو یہ کہ لاہور میں کئی مشہور فوڈ سپاٹ ایسے ہیں کہ ان کے آس پاس اسی نام سے جعلی سپاٹ بن چکے ہیں۔ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی اصلی ہے۔ پہچاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ چکر لگا کر دیکھ لیا جائے، جہاں زیادہ رش ہو، وہاں چلے جائیں کہ لاہوریوں کو بے وقوف بنانا آسان نہیں۔ رش وہیں ہوگا جہاں اچھی چیز ملے گی۔

دو تین باتیں سمجھ لینی چاہئیں، ایک تو یہ کہ لاہور میں کئی مشہور فوڈ سپاٹ ایسے ہیں کہ ان کے آس پاس اسی نام سے جعلی سپاٹ بن چکے ہیں (فائل فوٹو: پکسابے)

دوسرا یہ کہ لاہور میں چنے کے بے شمار سپاٹ ہیں، سینکڑوں، ہزاروں لیکن اگر آپ نے نمائندہ قسم کے چنے کھانے ہیں، کبھی نہ بھولنے والے تو وہ دو چار سپاٹ ہی ہیں، وہاں تک جانا آسان نہیں، خاص کر کراچی سے آئے کسی شخص کے لئے، لیکن اگر آپ پہنچ گئے تو پھر وہ ذائقہ بھولیں گے نہیں۔
تیسرا یہ کہ لاہور کے کئی روایتی کھانوں، ڈشز کے سپاٹ یا اڈے دراصل ڈھابہ ٹائپ ہیں، صفائی وغیرہ کے بہت اچھے انتظامات نہیں، کئی جگہوں پر فیملی کو بٹھانے کا بھی زیادہ معقول انتظام نہیں۔ دراصل ان کا کام اتنا زیادہ چل رہا ہے کہ انہیں پروا ہی نہیں، یہ اپنی فوڈ چین بنانے کا نہیں سوچتے، ممکن ہے اگلی نسل میں ایسا ہوجائے۔
جیسا گوالمنڈی کے سردار مچھلی والوں نے کیا۔ میں جب لاہور میں آیا، چھیانوے، ستانوے میں تو گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ جا کر سردار کی بیسن والی بام مچھلی کھایا کرتا۔ تب انہوں نے لکھ کر لگایا ہوا تھا کہ ہماری کوئی اور برانچ نہیں ہے۔ آج سردار مچھلی کی شہر میں کم از کم بھی پچاس سو برانچیں ہوں گی۔ بابا جی رخصت ہوئے تو اولاد نے بزنس پھیلا دیا۔
میرا ماننا ہے کہ کراچی میں بہت مزے کے کھانے ملتے ہیں، ان کی ورائٹی بھی بہت ہے، اس لیے کہ کراچی منی پاکستان تھا، وہاں ہر جگہ کے لوگ اکھٹے ہوگئے۔ ملک بھر سے کھانے پکانے کے ماہرین بھی جمع ہوئے۔ پھر وہاں یوپی، دلی سے بہت سے گھرانے آئے جو لکھنو، دلی کی روایتی ڈشز کی لیگیسی لے کر آئے۔ یہ کراچی کا امتیاز ہے۔
وہاں بنگالی مٹھائی کی دکانیں ملیں گی، ان کی خاص وضع کی بنی ہوئی مشہور میٹھی دہی بھی۔ لاہور میں ظاہر ہے یہ نہیں۔ کوئٹہ چائے ہوٹل بھی اب لاہور پہنچے ہیں، کراچی میں تو وہ عشروں سے ہیں۔ مہاجروں کے علاوہ سندھی، پنجابی، پشتون، بلوچ، افغانی، بنگالی وغیرہ کراچی میں بڑی تعداد میں آباد ہوئے۔ ان کے ذائقے اور فوڈ سپاٹ بھی بنے۔

وہاں بنگالی مٹھائی کی دکانیں ملیں گی، ان کی خاص وضع کی بنی ہوئی مشہور میٹھی دہی بھی (فائل فوٹو: پکسابے)

مہاجروں میں بھی بہت تنوع ہے، یوپی والے، دلی والے، گجراتی، میمن وغیرہ بھی۔
کراچی میں سندھی ہوٹلوں میں سندھی ڈشز خاص کر بھے کا سالن بھی مل جاتا ہے۔ سینٹرل پنجاب میں اس کا تصور بھی نہیں۔ کباب کی بہت سی ورائٹیز وہاں ملتی ہیں، کراچی کی نہاری، حلیم کا بھی اپنا ایک خاص ذوق اور ذائقہ ہے۔ بریانی تو اصلاً ہے ہی کراچی والوں کی ڈش، پنجاب کی اصل چاولوں کی ڈش پلاو ہے، یخنی پلاو۔
لاہور کی روایتی چاولوں کی ڈش کشمیری دال چاول ہیں، سفید ابلے چاولوں کے ساتھ سپائسی دال۔ میرا خیال ہے کہ کراچی کو سوئٹ ڈشز کے حوالے سے تو واضح برتری حاصل ہے۔ دلی والوں کی ربڑی کا کوئی جواب نہیں، لاہور میں ویسی ربڑی نہیں ملتی۔ لب شیریں، دودھ دلاری، برنس روڈ کی لچھے دار کھیر، بنگالی رس گلے وغیرہ، ان کا لاہور میں متبادل نہیں۔ یہاں لب شیریں، دودھ دلاری سے سرے سے واقفیت نہیں۔
یہ کہنا البتہ درست نہیں کہ لاہور میں صرف چنے ہی چنے ہیں۔ نہیں بھیا جی لاہور ایک پرانا تہذیبی مرکز ہے۔ کراچی جیسا متنوع نہ سہی، مگر لاہور کی اوپن نیس نے کئی قوموں اور تہذیبوں کو یہاں اکھٹا کر دیا ہے۔ گوجرانوالہ کے کھابے ایکسپرٹس لاہور میں موجود ہیں، شہباز تکہ وغیرہ۔ سرائیکی علاقوں کے لوگ یہاں مقیم ہیں، پختون خوا سے بہت سے یہاں سیٹل ہوچکے۔ سب سے بڑھ کر لاہور کی قدیم کشمیری برادری، خاص کر امرتسری کشمیری جو خود کو امبرسری کشمیری یا امبرسریے کہلانا پسند کرتے ہیں۔ کئی شاندار، لاجواب ڈشز یہاں ملتی ہیں، جن کی اپنی انفرادیت ہے۔
زیادہ تفصیل میں جائے بغیر صرف لکشمی چوک کی بٹ کڑاہی کو لے لیں، اصلی بٹ کڑاہی پر دیسی گھی میں بنی دیسی مرغی کی بہترین کڑاہی کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ بٹ کڑاہی پر چاہے دیسی مرغ ہو یا مٹن، کڑاہی لاجواب بنتی ہے۔ یہ لاہور کی فخریہ پیش کش ہے۔

لکشمی چوک سے نسبت روڈ میو ہسپتال کی طرف جاتی ہے (فائل فوٹو: پکسابے)

بٹ یا نیو بٹ کڑاہی کے سامنے دو تین ڈھابے سے ہیں، بھٹی ٹکیوں کے۔ دال چکن کے آمیزے سے بنی یہ ٹکیاں مکھن میں تلی جاتی ہیں، ساتھ توے والی روٹیاں ملتی ہیں۔ کیا بات ہے۔ یہیں پر ٹکاٹک بھی ملتا ہے،دل گردہ، وغیرہ وغیرہ۔ ’کاکا‘ ٹکا ٹک والا مشہور ہے، اس کے دو تین سپاٹ ہیں۔ ویسے ٹکا ٹک میں سمن آباد چھوٹی مارکیٹ کا ریاض کیفے بھی پرانا اور مشہور ہے۔
ویسے باذوق لوگ تو ملک ہوٹل کے قورمے کے دلدادہ ہیں۔ بعض جگہوں پر دیگی سالن بھی ملتا ہے۔ جی پی او سے لکشمی جانے والی روڈ پر ایک بلڈنگ کے اندر دوپہر کو مٹن قورمے، قیمہ، پالک کا دیگی کھانا ملتا ہے۔ دیگی کھانے کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہوتا ہے۔
لکشمی چوک سے نسبت روڈ میو ہسپتال کی طرف جاتی ہے، نسبت چوک پر بائیں طرف ہریسے کی دوتین دکانیں ہیں، سب کا دعویٰ ہے کہ یہی اصل حاجی صاحب کی ہریسے کی دکان ہے جو ساٹھ سال سے قائم ہے۔ آپ نے صرف اسے چننا ہے جس پر بہت رش ہو، ویسے آخری دکان ہے وہ۔ ہریسہ معروف کشمیری ڈش ہے، جس نے نہیں کھائی، وہ محروم رہا۔ مٹن ہریسہ، بیف ہریسہ دونوں میں سے کوئی بھی ٹرائی کر لیں۔ ہریسہ کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ تلوں والے تازہ تازہ تنور سے اترے کلچوں کے ساتھ ہریسہ کھائیں ۔ اگر آپ خوش نصیب ہیں اور لاہور کی کسی اصلی کشمیری فیملی آپ کو اپنے گھر کا بنا ہریسہ کھلائے تو یوں سمجھ لیں ارضی جنت کا پکوان مل گیا، مگر گوالمنڈی نسبت چوک کا ہریسہ بھی اچھا ہے۔ 
لاہور میں بریانی کے نام سے کراچی والے ہرگز دھوکا نہ کھائیں۔ اہل پنجاب بریانی کی اصل شکل اور ریسیپی سے واقف ہی نہیں یا یہ کہہ لیں کہ وہ ہونا نہیں چاہتے۔ ان کے نزدیک تین چار قسم کے چاول ہیں۔ سادہ ابلے چاول جن پر پتلی پیلی دال ڈال کر کھائی جاتی ہے، دوسرا کم مرچ والا پلاؤ اور تیسرا بریانی یا پھر گڑوالے چاول، زردہ وغیرہ۔ ، وہ چاولوں میں مسالے ٹھوک کر اور اسے رنگین بنا کر سمجھتے ہیں کہ بریانی بنا دی۔ بہتر یہی ہے کہ بریانی اپنے شہر کراچی ہی سے کھائیں۔ لاہور سے دال چاول ٹرائی کر لیں، لکشمی سے تھوڑا پہلے منا کے دال چاول مشہور ہیں۔

کراچی والوں کو چاہیے کہ بریانی کی طرح نہاری بھی اپنے شہر ہی کی کھائیں (فائل فوٹو: پکسابے)

ہال روڈ میں ایک بہت مشہور جگہ ہے وقاص بریانی، وہ بریانی تو ہرگز نہیں پلاو ہے سیدھا سادا، مگر بہت مزے کا ہے اور جتنا اچھا نرم، خستہ چکن پیس اس کا ہے وہ شرطیہ آپ نے زندگی بھر نہیں کھایا ہوگا۔ وقاص بریانی پر بے پناہ رش ہوتا ہے، بے شمار دیگیں آتی ہین اور چند منٹوں میں ختم۔ اب تو وہاں بیٹھنے کی جگہ مل گئی ہے۔ ہال روڈ مشہور الیکٹرانکس کی مارکیٹ ہے، اس میں آگے کر کے یہ آتی ہے،بیڈن روڈ سے بھی راستہ آتا ہے۔ اسی نام سے ایک فیک دکان موجود ہے، اسے نظرانداز کر دیں، جہاں بے پناہ رش ہو، وہاں جائیں۔ یہ کھانا کبھی نہیں بھولیں گے۔
ماڈل ٹاون ڈی بلاک میں بھیا کے کباب ضرور ٹرائی کریں۔ ایسے عمدہ خستہ، شاندار بیف کباب آپ نے کبھی نہیں کھائے ہوں گے۔ خالص قیمہ بغیر کسی آمیزش کے۔ انگلی جتنے کباب ہوتے ہیں، آپ درجن آرام سے کھا سکتے ہیں، مجال ہے کہ ہلکا سا بھی بوجھ یا معدے پر گرانی محسوس ہو۔ یہ بھی لاہور کی ایک نمائندہ ڈش ہے۔ کراچی میں لاجواب کباب ملتے ہیں مگر لاہور میں بھیا کے کباب بھی بہرحال کم نہیں۔ 
کراچی والوں کو چاہیے کہ بریانی کی طرح نہاری بھی اپنے شہر ہی کی کھائیں، کیونکہ انہیں لاہوری نہاری پسند نہیں آئے گی۔ اس لیے نہیں کہ یہ اچھی نہیں بلکہ اس لیے کہ اہل کراچی کا نہاری کا ٹیسٹ الگ سے ڈویلپ ہوچکا ہے اور لاہوریوں کو کراچی والی نہاری پسند نہیں آتی۔ میرے حساب سے مزنگ کی محمدی نہاری نمبر ون ہے، ان کا شیرمال اور تافتان بھی شاندار ہے۔ وارث نہاری مشہور ہے، بعض کو وہ زیادہ پسند ہے، کچھ لوگ لوہاری دروازے میں جا کر دلی والے حاجی صاحب کی نہاری بھی کھاتے ہیں۔ ہمارا مشورہ کراچوی حضرات کے لئے وہی ہے جو اوپر دیا۔
تکہ باربی بی کیو کی بھی خاصی ورائٹی ہے۔ گوجرانوالہ کا مشہور شہباز تکہ جوہر ٹاون میں ہے، کئی جگہوں پر غنی شنواری ہوٹل وغیرہ بھی۔ اصلی الیاس کا ٹرک اڈے دبنہ کڑاہی کے سپاٹ بھی دو تین جگہوں پر ہیں۔ ٹرک اڈے غنی کا روش بھی مشہور ہے۔

لاہوری ناشتہ بہرحال کمال ہے۔ یہاں پر کئی جگہوں پربہت عمدہ حلوہ پوری ملتی ہے اور خاص کر پٹھورے (فائل فوٹو: پکسابے)

لاہور کے بعض اور ضرب المثل قسم کے مشہور کھابے ہیں۔ منٹگمری روڈ پر شیفے کا قیمہ، لکشمی کے قریب نشاط کی چانپیں، پیرا ڈآئز کا مرغ مسلم اور جوائنٹ، مغل پورہ چوک پر حاجی کا مٹن جوائنٹ، پنجاب تکہ کی ملائی بوٹی، حادق فوڈز مغلپورہ کی گرل فش اور بہت سی دیگر چیزیں، ہیرے کا باربی کیو، طباق کا چرغہ، پنجاب تکہ کی ملائی بوٹی، کالج روڑ پر طارق بھائی کے سیخ کباب وغیرہ وغیرہ۔
مچھلی بھی کراچی کی زیادہ بہتر ہے کہ وہاں سمندری مچھلی عام مل جاتی ہے۔ لاہور میں بشیر دارالماہی مزنگ چونگی (اب قذافی سٹیڈیم میں اسلم کے نام سے بھی ہے)، صدیق گڑھی شاہو اور سردار مچھلی گوالمنڈی۔ ان میں صرف سردار بیسن والی بھی بناتا ہے۔
لاہوری ناشتہ بہرحال کمال ہے۔ یہاں پر کئی جگہوں پربہت عمدہ حلوہ پوری ملتی ہے اور خاص کر پٹھورے۔ یہ پٹھورے وہی ہیں جنہیں انڈین فلموں والے چھولے بٹھورے کہتے ہیں۔ پٹھورے بھی امرتسری ڈش ہے، لاہور میں ان کا بہت رواج ہے، کئی جگہوں سے ملتے ہیں، ساتھ چنے، اچار، سلاد وغیرہ ہوتا ہے۔ لاہور کے بعض باذوق لوگ اپنی گھر کی شادیوں میں تازہ پٹھورے لگوانے کا اہتمام کرتے ہیں، تازہ تازہ کڑاہی سے نکلے پٹھورے کھانے کا الگ لطف ہے۔ نان چنے یا کلچہ چنے بھی ہر جگہ پر ملے گا۔ تلوں والے نان کو کلچہ کہتے ہیں۔ 
چوہٹہ مفتی باقر اندرون لاہور کی مشہور جگہ ہے، وہاں پر عارف کا ناشتہ مشہور ہے۔ شاہی قلعہ کے باہر، رنجیت سنگھ کی مڑھی کے قریب تاج محل سوئٹ والوں کی پوریاں کھا کر دیکھیں دنگ رہ جائیں گے، ایوارڈ جیتے ہیں فوڈ مقابلوں میں۔ پوریوں میں پاک سوئٹ کا پوری حلوہ، چاند شہاب کی کچوری۔
پائے میں پھجا لاہور کی شناخت ہے، یہ چھوٹے پائے ہیں، مزنگ میں حنیفا کے پائے بھی مشہور ہے، مجھے ویسے دھرم پورہ میں حیدری کے پائے زیادہ پسند ہیں۔

واچھو والی بازار میں تاری کی لسی کی تعریف سنی، مگر ٹرائی نہیں کر سکا (فائل فوٹو: پکسابے)

لاہور میں بہترین چنے کے دو تین سپاٹ ہیں، مگر وہ دور ہیں اور جانا آسان نہیں۔ سب سے آسان ہے کہ نیلا گنبد انارکلی میں غلام رسول کے چنے کھا لیں، مٹن چنے، سادہ چنے دونوں ملتے ہیں، سردیوں میں مٹن یخنی بھی۔ یہاں پر گرمیوں میں ٹھنڈی یخ چاٹی کی لسی بھی ملے گی، بہت عمدہ دیسی گندم کی روٹی، رائتہ سلاد سب سپیشل، آخر میں شرقپور کے گلاب جامن بھی مل سکتے ہیں۔ لاہور میں گوگا نقیبہ وغیرہ مشہور ہے مگر وہ بات نہیں۔ ابیٹ روڈ لکشمی کے شاہی اور طوبیٰ کے چنےمشہور ہیں، شاہی چنوں کی کئی دکانیں ہیں۔
اگر جا سکیں تو چوبرجی سے اندر اسلام نگر روڈ پر امین کے کھوئے والے چنے بہت ہی مشہور ہیں۔ شمالی لاہور میں فاروق گنج کے چنے بھی مشہور ہیں۔ ہال روڈ کے باہر سلیم کے چنے بھی کمال ہیں، ہمارے فرخ سہیل گوئندی کو اس کے چنے پسند ہیں، وہ حامد میر اور دیگر دوستوں کو یہی چنے محبت سے کھلاتے ہیں۔
لاہور میں دنیا کی بہترین لسی ملتی ہے۔ دودھ اور دہی دونوں یہاں بہت اچھے مل جاتے ہیں، اس لئے بعض اوقات عام سی جگہ پر بھی بہترین دودھ دہی کی لسی مل جائے گی۔ گوالمنڈی میں فیکا کی لسی مشہور ہے، جیدے کی لسی بھی کمال ہے۔ نیو بٹ سوئٹ گڑھی شاہو کی لسی بھی مشہور ہے، لال پل پر غوثیہ کی لسی بھی کمال ہے۔ واچھو والی بازار میں تاری کی لسی کی تعریف سنی، مگر ٹرائی نہیں کر سکا۔

بیڈن روڈ کی چمن آئس کریم بھی مشہور ہے (فائل فوٹو: پکسابے)

اگر آپ خرچہ کرنے کے موڈ میں ہیں اور شاندار کبھی نہ بھولنے والا روایتی کھانا چاہتے ہیں تو چوبرجی پر خان بابا ہوٹل کا رخ کریں۔ یہ قیام پاکستان سے بھی شائد پہلے کا ہوٹل ہے۔ اسکی بعض ڈشز کمال ہیں۔ دیسی گھی میں بنی کڑاہی وغیرہ۔ یہاں کا مٹن پلاؤ شاندار ہے، مٹن کا قورمہ بھی خوب ہے، صرف قورمے کا مسالہ بھی مل جاتا ہے، حیران کن ذائقہ۔ قیمہ بھرے کریلے بھی خوب ہیں۔ اور بھی بہت کچھ ۔ لسی بھی مل جاتی ہے۔ البتہ یہاں پر فی ڈش ہزاروں والا معاملہ ہوگا، مگر ذائقہ آپ زندگی بھر نہیں بھول سکیں گے۔
لاہور میں موڑ ایمن آباد والوں کی برفی ملتی ہے، آنکھیں بند کر کے لیں۔ سلیمان سوئٹس کے حیران کن قلاقند، برفی، رس گلے وغیرہ۔ اندرون لاہور کے خلیفہ کی نان خطائی تو اب پاکستان سے باہر بھی بہت مشہور ہوچکی۔ لال پل کی کھوئے والی باداموں والی برفی۔ اچھرہ میں چاچے بسے کی برفی بھی مشہور ہے۔
لاہور میں قلفی بھی مشہور ہے۔ شاہ عالمی والے بابے کی قلفی کئی جگہوں پر ملتی ہے، حیران کن ذائقہ ہے۔ رائل قلفی بھی اچھی ہے۔ بیڈن روڈ کی چمن آئس کریم بھی مشہور ہے۔
آخر میں ان کے لئے جو سٹوڈنٹس ہیں اور پنجاب یونیورسٹی ان کا چکر لگتا ہے، وہاں دوست ہیں تو وہ یونیورسٹی ہاسٹلز میں منظور کا پی سی ڈھابہ کا کھانا ٹرائی کریں۔ وہاں کی دال، چکن وغیرہ کمال ہے۔ ہر چیز نہایت مناسب نرخ اور اعلیٰ زائقے کے ساتھ ملے گی۔

شیئر: