Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی: بھتیجی کی تدفین کے لیے گھوٹکی جانے والے دو بھائی ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل، ’تدفین کے اخراجات کی رقم بھی لے گئے‘

پولیس کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے (فوٹو:اے ایف پی)
کراچی میں رہنے والے لاکھوں افراد کے لیے سفر صرف ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نام نہیں رہا، بلکہ اُن کے لیے  یہ ایک ایسا صبر آزما مرحلہ بن چکا ہے جس میں ہر موڑ پر خوف، بے یقینی اور خطرے کا احساس موجود رہتا ہے۔
روزگار کی تلاش میں گھر سے نکلنے والے نوجوان ہوں، طالب علم ہوں یا اپنے پیاروں کے دُکھ سکھ میں شریک ہونے والے لوگ، شہر کی سڑکیں ان کے لیے بسا اوقات میدان جنگ کا منظر پیش کرتی ہیں۔
پاکستان کے اس سب سے بڑے ساحلی شہر میں جہاں زندگی کی رفتار کبھی تھمتی نہیں، ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف ایک خاندان کو اُجاڑ دیا بلکہ کراچی میں بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز کے بارے میں کئی تلخ سوالات بھی دوبارہ پیدا ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ سہراب گوٹھ کے پنجاب بس اڈے کے قریب پیش آیا، جہاں ایک نوجوان اپنی چھ ماہ کی بیٹی کی تدفین کے لیے کراچی سے سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقے گھوٹکی روانہ ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔
پولیس کے مطابق اتوار کے روز سچل تھانے کی حدود میں پیڈسٹرین برج کے قریب نامعلوم افراد نے دو مسافروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جنہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

کراچی میں سٹریٹ کرائمز گزشتہ کئی برسوں سے شہریوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں (فائل فوٹو )

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو بھائی 27 سالہ منصور احمد اور 23 سالہ راشد علی بس اڈے پر موجود تھے۔ دونوں کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ایک دکان پر کام کرتے تھے اور وہیں رہائش پذیر تھے۔
نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بننے والے زخمی مسافر راشد کے مطابق ان کی چھ ماہ کی بھتیجی انتقال کر گئی تھی اور وہ دونوں بھائی بچی کی تدفین کے لیے گھوٹکی جانے کے لیے بس اڈے پہنچے تھے۔ ان کے پاس سفر کے اخراجات اور تدفین کے انتظامات کے لیے رقم موجود تھی۔
اسی دوران مسلح افراد نے انہیں لوٹنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق منصور نے جب مزاحمت کی تو ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی۔ گولی لگنے سے منصور موقع پر ہی شدید زخمی ہو گیا، جبکہ راشد بھی زخمی ہوا۔ ان دونوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے منصور کی موت کی تصدیق کر دی۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے ہیں اور کرائم سین یونٹ کو طلب کیا گیا۔ ایس ڈی پی او سہراب گوٹھ ڈی ایس پی اورنگزیب خٹک کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے اطراف کے علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے۔
لیکن کراچی کے شہریوں کے لیے یہ صرف ایک اور خبر نہیں۔ یہ ایک ایسے المیے کی علامت ہے جو مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔
کراچی میں سٹریٹ کرائمز گزشتہ کئی برسوں سے شہریوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ موٹر سائیکل چھیننا، گاڑیاں چوری کرنا اور مزاحمت پر فائرنگ کرنا اب روزمرہ کے واقعات بن چکے ہیں۔

سندھ حکومت نے شہر میں نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سیف سٹی منصوبے کے دوسرے مرحلے کی بھی منظوری دے دی ہے (فوٹو: ٹائمز آف کراچی)

شہریوں اور پولیس کے درمیان رابطے کے لیے قائم ادارے سی پی ایل سی کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے دوران کراچی میں 1,265 موبائل فون چھینے گئے۔ اسی ماہ 3,027 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں جبکہ 440 موٹر سائیکلیں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں۔ 140 کاریں چوری اور 17 گاڑیاں چھیننے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ اسی مہینے قتل کے 44 مقدمات درج کیے گئے۔
یہ اعداد و شمار صرف رجسٹرڈ مقدمات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے متاثرین پولیس رپورٹ درج نہیں کرواتے یا ان کی درخواستیں باقاعدہ مقدمات میں تبدیل نہیں ہوتیں۔
جرائم کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ جامعہ کراچی کے شعبۂ کرمنالوجی کی سربراہ ڈاکٹر نائمہ سعید معاشی مشکلات، بے روزگاری، منشیات کے استعمال، غیر قانونی اسلحے کی دستیابی، کمزور تفتیشی نظام اور عدالتی تاخیر کو اہم عوامل قرار دیتی ہے۔ ان کے مطابق گرفتار ملزموں کا جلد ضمانت پر رہا ہو جانا جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند کرتا ہے۔
کراچی پولیس متعدد بار دعوی کرتی رہی ہے کہ سٹریٹ کرائمز میں کمی آئی ہے اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر سرچ آپریشنز، سنیپ چیکنگ اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
سندھ حکومت نے شہر میں نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سیف سٹی منصوبے کے دوسرے مرحلے کی بھی منظوری دی ہے جس کے تحت جدید کیمروں اور نمبر پلیٹ شناختی نظام کی تنصیب کی جا رہی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تک پولیسنگ، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، صرف کیمروں کی تنصیب سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا۔

جامعہ کراچی کی ڈاکٹر نائمہ سعید معاشی مشکلات سمیت متعدد عوامل کو جرائم میں اضافے کی وجہ قرار دیتی ہیں (فوٹو: پرو پاکستانی)

سہراب گوٹھ کا واقعہ بھی اسی بڑے بحران کی ایک کڑی ہے۔ شہر کے اس داخلی و خارجی راستے سے روزانہ ہزاروں مسافروں کا گزر ہوتا ہے اور دور دراز علاقوں کے لیے بسیں روانہ ہوتی ہیں اور مزدور، طلبہ اور خاندان بڑی تعداد میں سفر کرتے ہیں۔ ایسے مقامات پر جرائم کی وارداتیں شہریوں کے احساس تحفظ کو مزید کمزور کر دیتی ہیں۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ شہری آخر کب تک اپنی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لیے خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے۔ بعض صارفین نے یہ بھی لکھا کہ کراچی میں اب لوگ صرف اس فکر میں گھر سے نکلتے ہیں کہ بخیریت واپس آ سکیں۔
نائمہ سعید کا کہنا ہے کہ ’اس مسئلے کا حل صرف پولیس مقابلے یا آگاہی مہم نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی پر عملدرآمد ہے۔ اس میں بہتر انٹیلی جنس، مؤثر پراسیکیوشن، فوری عدالتی کارروائی، غیر قانونی اسلحے کے خلاف سخت اقدامات اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت شامل ہونی چاہیے۔‘
کراچی کی سڑکوں پر ہونے والی ہر واردات ایک پوری کہانی بیان کرتی ہے۔ کسی بچے کا باپ چھن جاتا ہے، کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی۔ مگر جب یہ واقعات معمول بن جائیں تو معاشرہ آہستہ آہستہ ان سانحات کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے، اور یہی شاید سب سے خطرناک بات ہے۔

شیئر: