اسرائیل میں” دنیا کا سب سے بڑا نمک کا غار دریافت“

اسرائیل میں محققین نے دنیا کا سب سے بڑا نمک کا غار دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ غاربحیرہ مردارکے قریب واقع ہے۔جو دنیا کی سب سے بڑی نمکین جھیل کے حوالے سے معروف ہے۔
’مالہم‘ نامی اس غار کی دریافت کے بعد ایران میں موجود غار کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے جسے دنیا کا سب سے بڑا نمک کا غار سمجھا جاتا تھا۔ 
یادرہے کہ ایران میں نمک دان نامی غار کو دنیا کا سب سے بڑا نمک کا غار قرار دیاتھا۔’نمکدان ‘ایران کے جنوب میں واقع جزیرے قیشم پر پایا جاتا ہے جس کی لمبائی 6580میٹر ہے ۔
اسرائیل میں غاروں کے مہم جووں نے جمعرات کوبتایاکہ اسرائیل میں دریافت کردہ غار مالہم کی لمبائی 10کلومیٹر ہے، جو اسرائیل کے بحیرہ مردار کے جنوب مغربی حصے میں واقع سب سے بڑے پہاڑ ’کوہ سدوم‘ سے لے کر بحیرہ مردار کے جنوب مغربی کناروں تک پھیلی ہوئی ہے۔
پہاڑ سے آتا پانی قطروں کی شکل میں غار کی چھت سے ٹپکنے لگتا ہے، اس پانی میں نمکیات شامل ہوجاتے ہیں اوروہ اسی حالت میں جم جاتا ہے اور چھت سے نمک کی زردی مائل لڑیوں کی صورت میں لٹکتا ہوا نظر آتا ہے۔ 
بحیرہ ِمردارکیا ہے؟
یہ اردن، فلسطین اور اسرائیل کے درمیان واقع ایک سمندر ہے جہاں پانی میں نمک اور معدنیات کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔پانی میں نمک کی کثافت کے حوالے سے یہ دنیا کا سب سے گہرا مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے اور اب اس کی تہہ میں صرف معدنیات اور نمکیاتی مادہ ہی رہ گیا ہے جو اتنا نمکین ہو چکا ہے کہ اس میں جاندار چیزوں کا رہنا ناممکن ہے۔ اسی وجہ سے اسے بحیرہ مردارکہاجاتا ہے۔ 
مالہم کی دریافت کیسے ہوئی؟
ہیبریو یونیورسٹی میں غاروں سے متعلق تحقیقاتی سینٹرکے بانی اور ڈائریکٹر اموس فرمکن کے تحقیقاتی کام سے محققین کو مالہم کے بارے میں معلوم ہوا، اموس فرمکن نے 1980میں ابتدائی طور پر اس غار کے پانچ کلو میٹر تک حصے کی نقشہ کشی کی تھی۔ لیکن سنہ 2006 میں محققین نے ایران کے جنوب میں واقع جزیرے قیشم پرN3غار کے چھ کلو میٹر تک کے حصے کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے دنیاکے سب سے طویل غار کا درجہ دے دیا۔ 
دو سال قبل غاروں کے مہم جو یوایو نیگونے فرمکن کے کام کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا، اوراس مہم جوئی کے لیے پہاڑوں کے حوالے سے مشہور ملک بلگیریا کے غار وں کے محققین کی خدمات حاصل کیں۔
’اسرائیل کیو ایکسپلورر کلب ‘کے بانی نیگیونے غاروں پر تحقیق کرنے والے آٹھ یورپی اور 20مقامی محققین پر مشتمل ایک وفد تشکیل دینے کے لیے یو نیورسٹی کے ریسرچ سینٹر میں ایک محقق بواز لینڈ فورڈ کوساتھ ملالیا۔ 
انہوں نے 2018 میں 10روز غار کی نقشہ کشی میں صرف کیے۔ 80مقامی اور بین الاقوامی محققین نے 2019میں 10روزہ مہم جوئی کے دوران لیزر کی مدد سے غار کی پیمائش اور نقشہ کشی مکمل کرتے ہوئے غار کی 10کلومیٹر لمبائی کا تعین کیا۔ 
’مالہم خوبصورت اور مسحورکن غاروں میں سے ایک ہے‘
’کوہ سدوم‘ دراصل نمک کا ایک بڑا پہاڑ ہے جو کیپ روک کی ہلکی سی تہہ سے ڈھکاہوا ہے۔ صحرا میں غیر معمولی بارشوں کا پانی ان چٹانوں میں موجود دراڑ وں سے گزرکر نمکیات کو جذب کرلیتا ہے اور چھوٹی سی غار بناتا ہے جو بحیرہ مردار میں گرجاتے ہیں۔ حتیٰ کہ فرمکن کی نقشہ کشی کے مختصر عرصے میں بھی غار کی ساخت تبدیل ہوئی اور بتدریج بدلتی رہی۔
غار کا اندرونی حصہ مٹی کی تہہ سے ڈھکا ہوا تھا جو صحرا میں چلنے والی ہواو¿ں کی وجہ سے اندر آتی ہے۔ نمک کے بڑے بڑے ٹکڑے جو مٹی اور معدنیات کی وجہ سے امبررنگ (زردنارنجی رنگ )کے دکھتے ہیں ،باہر کی طرف نکل آتے ہیں اور یہ غار پر جَڑے ہوئے بڑے دلکش لگتے ہیں۔ 
نیگیو کے مطابق مالہم کا شمار’ اپنی نوعیت کی منفردکیٹیگری میں ہے۔‘ ان کادعویٰ ہے کہ’ اسرائیل میں اس جیسا کوئی نہیں ‘۔ 
نیگیو نے بتایا کہ یہ ’اسرائیل کے انتہائی متاثر کن اور پیچیدہ، خوبصورت اور مسحورکن غاروں میں سے ایک ہے جن کا مجھے ابھی تک دیکھنے کااتفاق ہوا ہے۔‘
اپنے مرکزی دشمن ایران سے یہ اعزاز چھیننے کو نیگیو نے کچھ خاص اہمیت نہیں دی ،ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور پیشے سے متعلق کانفرنسز کے ذریعے ایران کے غاروںکے مہم جووں سے ان کے بہترین تعلقات ہیں ۔
ایران اور وہاں کے غاروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نیگو کا کہنا تھا کہ ’ میری خواہش ہے کہ میں وہاں جاسکتا۔ ‘ 

 

شیئر: