ترکی میں بلدیاتی انتخابات،زندگی اور موت کا مسئلہ کیوں بن گئے؟

انقرہ ۔۔۔  ترک عوام آج مقامی وقت کے مطابق صبح 7بجے(گرینچ ٹائم  4بجے ) بلدیاتی انتخابات کیلئے مراکز پہنچنے لگے۔شام 5بجے انتخابی مراکز بند ہوجائیں گے اور آدھی رات تک نتائج کے نقوش واضح ہوجائیں گے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے ان انتخابات کو ملک کیلئے موت اور حیات کے مساوی قرار دیا ہے۔
اردگان 16برس سے زیادہ عرصے سے ترک سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ ترکی کی جدید تاریخ میں سب سے زیادہ متنازع صدر بننے کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔
رائے عامہ کے جائزے بتا رہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں رجب طیب اردگان کو زبردست ضرب لگ سکتی ہے۔ اسکائی نیوز کے مطابق حکمراں جماعت  انقرہ اور استنبول جیسے بڑے شہرو ںمیں انتخابات میں شکست کھاسکتی ہے۔ 
 آج کے انتخابات میں ترک عوام بلدیاتی کونسلوں کے سربراہوں اور ملک بھر میں بلدیاتی عہدیداروں کیلئے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ یہ گزشتہ برس رجب طیب اردگان کے وسیع البنیاد صدارتی اختیارات حاصل کرنے کے بعد اپنی نوعیت کے پہلے انتخابات ہیں۔ یہ ایک طرح سے اردگان کی اقتصادی پالیسیوں اور انسانی حقوق کے سلسلے میں ان کے ریکارڈ پر استصواب رائے کی حیثیت اختیار کرلیں گے۔
انقرہ یا استنبول میں شکست کی صورت میں حکمراں جماعت کے 25سالہ اقتدار کی بساط لپیٹ دی جائیگی۔
اپوزیشن رہنماؤں نے دہشتگردی کی سرپرستی سے متعلق رجب طیب اردگان کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی نکتہ چینی کی کہ ترک صدر بلدیاتی انتخابات کو موت و حیات کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ بحران کی طرف دھکیلنے کے ذمہ دار اردگان ہی ہیں۔ ری پبلکن پیپلز پارٹی کے رہنما کمال اوغلو نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ اردگان انتخابات کو موت و حیات کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ ہم لوگ بلدیاتی کونسلو ں کے سربراہ منتخب کررہے ہیں اس کا ملک کو بچانے یا تباہ کرنے سے کیا تعلق ہے۔
 
 

شیئر: