واٹس ایپ صارفین اب 'ناپسندیدہ' گروپس میں شامل ہونے سے بچ سکیں گے

سماجی رابطوں کی معروف ایپلی کیشن واٹس ایپ ایک ایسا فیچر متعارف کرا رہی ہے جس کے بعد بہت سے صارفین اپنی دلچسپی کے بغیر مختلف گروپوں میں شامل کیے جانے کی کوفت سے بچ سکیں گے۔
واٹس ایپ کے نئے فیچر کے تحت اب صارفین اس بات کا فیصلہ کر سکیں گے کہ کون انہیں کسی وٹس ایپ چیٹ گروپ میں شامل کر سکتا ہے۔
اس سے قبل کوئی بھی وٹس ایپ صارف گروپ بنا کر کسی بھی دوسرے فرد کو چیٹ گروپ میں شامل کر سکتا تھا۔ ایسا کرنے کے لیے کسی سے پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔
واٹس ایپ کے نئے فیچر میں اب صارفین کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ کسی کو بھی یہ اجازت دے دیں کہ وہ انہیں چیٹ گروپ میں شامل کر لے، وہ چاہیں تو صرف ان لوگوں کو یہ اجازت دے سکتے ہیں جن کے نمبرز ان کے پاس محفوظ ہوں اور اگر چاہیں تو تمام وٹس ایپ صارفین کو ایسا کرنے سے روک سکتے ہیں۔
واٹس ایپ نے 'اینی ون' کے ساتھ 'کانٹیکٹس اونلی' اور 'نو ون' کے ناموں سے یہ سہولت فراہم کی ہے۔
قبل ازیں سامنے آنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ وٹس ایپ اپنے اینڈرائڈ صارفین کے لیے ایپلی کیشن کا 'ڈارک' ورژن متعارف کرا رہا ہے۔ نئے فیچر سے متعلق اطلاع میں ایک بار پھر ڈارک ورژن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ میسیجنگ ایپلی کیشن صارفین کے لیے متعدد نئے فیچرز پیش کر رہی ہے۔
واٹس ایپ نے جعلی اطلاعات کی روک تھام کے لیے حال ہی میں ایک فیچر متعارف کرایا ہے جس کے تحت کسی بھی فارورڈ کیے گئے میسیج کے ساتھ 'فارورڈنگ انفو' کے تحت یہ تفصیل درج ہو گی کہ اسے کتنی مرتبہ دیگر صارفین کو فارورڈ کیا گیا ہے۔
واٹس ایپ پر ہونے والی گفتگو کو مزید محفوظ بنانے کے لیے وٹس ایپ نے کچھ عرصہ قبل انگلیوں کے نشان کا فیچر بھی متعارف کرایا ہے۔ اس فیچر کے تحت صارف کے فون میں وٹس ایپ کو اس وقت تک کھولا نہیں جا سکے گا جب تک اس کا فنگر پرنٹ استعمال نہیں ہو گا۔
 

شیئر: