سرزمین سعودی عرب پر پہلے انسان کے قدموں کے نشان

زاہی حواس (مصر کے سابق وزیر آثار قدیمہ) ۔ الشرق الاوسط
سعودی عرب کے شہرہ آفاق ریگستان” صحرا ءالنفود “ میں 85ہزار برس پرانے انسانوں کے قدموں کے نشانات کی دریافت کی صدائے باز گشت پوری دنیا میں سنی جارہی ہے۔ ہر علاقے کے ماہرین آثار قدیمہ یہ سن کر پرجوش ہوگئے ہیں۔ 
میرے اپنے نقطہ نظر سے سعودی صوبے تبوک میں صحراءالنفود کی جھیل کے کنارے انسانی قدم کے نشان دریافت ہونے کا واقعہ نادر الوقوع ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اسے اسکا حق نہیں دیا گیا۔ خودمجھے بھی اسکا علم سعودی محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ کے سابق سربراہ شہزادہ سلطان بن سلمان کے ذریعے ہوا تھا۔ اس وقت وہ محکمہ کے سربراہ تھے۔ اب وہ سعودی خلائی علوم کے محکمے کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے مجھے مذکورہ دریافت کی اطلاع ٹوکیو کے دورے کے موقع پر اس وقت دی تھی جب وہاں وہ قومی عجائب گھر میں سعودی عرب کے منتخب نوادر کی نمائش کے افتتاح کیلئے پہنچے تھے۔
 شہزادہ سلطان بن سلمان نے نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے صحراءالنفود میں انسانی قدم کے نشان دریافت ہونے کا اعلان کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے کبھی سوچا تک نہ تھا کہ 85ہزار برس قبل کسی انسان نے جزیرہ عرب میں قدم رکھا ہوگا۔ ہمارا خیال تھا کہ بنی نوع انساں کے ابتدائی سفر کا آغاز افریقہ سے ہوا ہے۔ اسکا دائرہ وہیں تک محدود ہے۔ سعودی اور غیر ملکی ماہرین آثار قدیمہ نے النفود جھیل کے قریب تاریخی کھدائیاں کرتے ہوئے مذکورہ دریافت کا اعلان کرکے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالدیا۔
شہزادہ سلطان نے جاپان میں بیان دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ اس دریافت کے پہلو بہ پہلو تیماءکمشنری کے قریب ایک گڑھے سے ایک اور شے دریافت ہوئی ہے۔ بعض ماہرین آثار قدیمہ کے بقول یہ انکشاف جزیرہ عرب کی عظمت رفتہ کے پہلے نشان کا غماز ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ احساس اس وجہ سے بھی ہے کیونکہ النفود کا صحراءجھیلوں ، آبی ذخائر اور جانوروںسے معمور تھا۔ اسی تناظر میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پہلا انسان کھانے کی تلاش میں وہاں پہنچا ہوگا۔
میں یہاں یہ بات بھی اجاگر کرنا چاہوں گا کہ مذکورہ تاریخی انکشاف کی اہمیت کا بڑا پہلو یہ ہے کہ اسے دریافت کرنے والے معمولی لوگ نہیں۔ جن لوگوں نے صحراءالنفود میں انسان کے قدم کے نشان دریافت کئے ہیں وہ عالمی سطح پر اپنا ایک نام اور مقام رکھتے ہیں ان میں جرمنی سے ”میکس بلینک“ انسٹی ٹیوٹ، برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان اور سعودی ماہرین آثار قدیمہ شامل ہیں۔ایسے بہت سارے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ مذکورہ نشان 85ہزار برس پرانے ہیں۔
جاپانی اخبارات نے شہزادہ سلطان بن سلمان کے بیان کو غیر معمولی شکل میں شائع کیا۔ جاپانی سائنسدانوں نے مذکورہ دریافت کی اطلاع پر صحراءالنفود کے دورے کی خواہش ظاہر کی۔ میں خود بھی مذکورہ مقام کا دورہ کرکے ماہر آثار قدیمہ کی حیثیت سے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کوشاں ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اسی پہلو نے شہزادہ سلطان کو یہ اعلان کرنے کا حوصلہ دیا کہ پہلے انسان کے قدم سعودی سرزمین ہی پر پڑے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام کا سورج سعودی عرب سے ہی طلوع ہوا اور مملکت ہی وہ مقام ہے جہاں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی گزاری اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے اسلام پوری دنیا میں پھیلا۔ 
میں اس بات کو ضروری سمجھتا ہوں کہ مذکورہ دریافت کی بابت مزید چشم کشا حقائق دریافت کرنے کیلئے ماہرین آثار قدیمہ وسیع البنیاد مطالعات کریں اور ہمیں بتائیں کہ انسانی قدموں کے جو نشان صحراءالنفود سے دریافت ہوئے ہیں وہ کس دور کے ہیں۔ ہمیں سائنٹفک دلائل کی روشنی میں یہ بات ثابت کرکے بتائیں۔ میں نے جو تصاویر دیکھی ہیں ان سے لگتا ہے کہ ٹھوس زمین پر بھی ہمیں نشانات ملیں گے۔ جن سے ثابت ہوگا کہ دنیا کا پہلا انسان کس علاقے میں بسا ہوا تھا۔ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ مذکورہ دریافت اور اسکے بعد ہونے والے مزید انکشافات کو عالمی رائے عامہ کے سامنے لانے کیلئے بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے۔ پوری دنیا کو اس دریافت کی اہمیت سے احسن شکل میں آگاہ کیا جائے۔اس امر کو بھی نمایاں کیا جائے کہ تیما کمشنری کی خشک جھیل میں ملنے والی انسانی ہڈی کس قدر اہم ہے۔ ممکن ہے یہ جزیرہ عرب میں بسے ہوئے قدیم ترین انسانوں میں سے کسی ایک کی ہڈی ہو۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ صحراءاپنے بطن میں بہت سارے اسرار سموئے ہوئے ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

شیئر: