انسانی سمگلرز یا’ ’خوابوں کے سوداگر‘‘

 
 انسانی سمگلنگ ایسا گھناؤنا کاروبار ہے جس نے نہ جانے کتنی ہی زندگیوں کو داؤ پر لگایا اور ان سے جڑے رشتوں کو زندگی بھر کے لیے انتظار کے بھنور میں دھکیل دیا۔یہ سمگلرز لوگوں کو روشن مستقبل کے خواب دکھا کر انہیں بیرون ملک جانے پر قائل کرتے ہیں اور ان سے رقم بٹورنے کے بعد انہیں غیرقانونی طریقہ سے دوسرے ملک بھجواتے ہیں۔ 
 کئی دہائیوں سے جاری اس دھند ے سے منسلک افراد کا نیٹ ورک ہر ملک میں موجود ہے جس کی روک تھام کے لیے حکام کی جانب سے منظم کارروائی کی جاتی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے اس ضمن میں انسانی سمگلنگ کے انسداد کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے۔  
  • سمگلرز کا طریقہ واردات کیا ہے؟
 اس جرم میں ملوث افراد کا نیٹ ورک مختلف طریقوں سے اپنے شکار کواپنے جال میں پھانستا ہے۔ عموماً گروہ کے کارندے بھیس بدل کر کیفٹیریا، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر موجود ہوتے ہیں۔یہ افراد لوگوں کے ہمدرد بن کر ان سے دوستی کرتے ہیںاور یقین دہانی کرواتے ہیں کہ بیرون ملک جانا ہی ان کی تمام مالی مشکلات کا واحد حل ہے۔ سادہ لوح افراد ان کی باتوں میں آکر اپنی تمام جمع پونجی ان کے حوالے کردیتے ہیں جس کے بعد ان کی بربادی کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔ 
 80کی دہائی میںجب پاکستان میں دبئی جانے کا رجحان بڑھا تو انسانی سمگلروں کے ہاتھوں دسیوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بچ جانے والے خوش قسمت افراد میں سے بعض کے بیانات ریکارڈ پرموجود ہیں جن میں کہاگیا تھا کہ انہیں کراچی کے ساحل سے ایک لانچ میں بھر کر 3 دن سمندر میں گھمایا گیا، چوتھے دن لانچ نے لوگوں کودبئی کے بجائے پاکستانی ساحل پر اتارا اور فرار ہو گئے۔

اگرچہ دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ سمگلرز انتہائی ہوشیاری سے اپنا دھندہ جاری رکھنے کے لیے ایسے ایسے طریقہ کار اختیار کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
سعودی عرب میں عام رواج ہے جس گاڑی میں خواتین سوار ہوتی ہیں انہیں شہر کے باہر یا ہائی ویز پر قائم عارضی چیک پوسٹ پر تفصیلی طور پرچیک نہیں کیا جاتا ۔ سمگلروں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے اس رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی تارکین کو مختلف شہروں میں منتقل کرنے کے لیے برقعوں کا استعمال شروع کر دیا۔
مکہ ریجن کے پولیس ترجمان نے اردونیوزکو بتایا کہ اقامہ قوانین کی خلاف ورزی قانونی جرم ہے جس کے مطابق غیر قانونی تارکین کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے والو ں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جاتی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ متعدد چیک پوسٹوں سے غیر قانونی تارکین کو گرفتار کیا گیا جنہیں برقعہ پہنایا گیا تھا۔ 
  •  ناقابل یقین واقعات 
لوگوں کوغیرقانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے کے لیے یہ سمگلرز ایسے ایسے حربے استعمال کرتے ہیں کہ بعض اوقات یقین کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ 
ایسے ہی ایک واقعے میں میکسیکو سے امریکہ جانے کے خواہشمند شخص کو سمگلر نے گاڑی کے سیٹ کور میں اس طرح سمایا کہ وہ بغور دیکھنے پر بھی سیٹ ہی دکھائی دیتی تھی۔

 ایک اور واقعے میں سمگلر نے گاڑی کے ڈیش بورڈ کو خصوصی طور پر اس طرح ڈئزائن کیا کہ ایک آدمی اس میں سماجاتا۔ آدمی کو ڈیش بورڈ میں لٹا کر مخصوص حصہ فٹ کر دیا جاتا جس سے یہ اندازہ لگانا ناممکن ہو جاتا کہ وہاں کوئی زندہ انسان بھی ہو سکتا ہے۔
 فضائی ذریعے سے بھی انسانی اسمگلنگ کے عجیب و غریب واقعات رپورٹ ہوئے ۔سمگلر وں نے سوٹ کیس میں زندہ انسان کو چھپانے کی کوشش کی مگر ائیر پورٹ پر اسکینر مشین نے ان کی کوشش ناکام بنادی۔ بولڈ اسکائی نیوز کے مطابق 2015 میں اسپین کے ایک ایئر پورٹ پر ایک 19 سالہ لڑکی کو گرفتار کیا گیا جو سوٹ کیس میں 8 سالہ بچے کو اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
 گزشتہ دنوں فرانسیسی پولیس نے ایک عراقی پناہ گزین کو حراست میں لیا جسے انسانی سمگلر ز نے انوکھے طریقے سے یورپ پہنچانے کے لیے استعمال کیا تھااور اس ضمن میں عراقی باشندے سے 5 ہزار یورو لیے گئے تھے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمالی فرانس کی سرحدی چوکی پر متعین اہلکاروںنے ایک ٹرک کو روکا جو میت کو منتقل کرنے کے لیے مخصوص تھا۔ ٹرک میں رکھے تابوت کو دیکھ کر ہرگز یہ شبہ نہیں ہوتاتھا کہ اس میں زندہ انسان موجود ہو گا۔ چیک پوسٹ پر موجود اہلکاروں نے جب ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو تابوت کھولنے کا کہا تو انہوں نے اہلکاروں کویہ کہہ کر قائل کرنے کی کوشش کی کہ اس میں نعش ہے جسے برطانیہ لے جانا ہے۔ اہلکاروں کے کہنے پر تابوت کھولا گیا تو اس سے زندہ انسان برآمد ہوا۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر کے انہیں عدالت پہنچا دیا جہاں انسانی اسمگلنگ کے جرم میں انہیں 14 ماہ کی سزاسنا دی گئی۔ 
 

شیئر: