ایرانی عوام اپنا احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچنے والی ہے: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے کہا کہ ’وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں، اُنہیں مدد پہنچنے والی ہے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کو اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’ایرانیوں کو اپنا ملک گیر احتجاج جاری رکھنا چاہیے، وہ اداروں کا کنٹرول سنبھالیں اور ’قاتلوں اور ظالموں‘ کے نام یاد رکھیں۔‘
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران میں جاری مظاہروں کے دوران ایرانی قیادت کو فوجی مداخلت کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
انہوں نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’ایران کے محب وطنو! اپنا احتجاج جاری رکھو، مظاہرین کا قتلِ عام رُکنے تک میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کردی ہیں۔‘
انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق ایرانی حکومت کی جانب سے کیے گئے کریک ڈاؤن میں ممکنہ طور پر ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس پر عالمی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کیا اور قریباً پانچ روز سے جاری انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے ذریعے کریک ڈاؤن کی شِدت کو چُھپایا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جمعرات سے شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں پر کئی روز کے بعد قابو پا لیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں جاری حالیہ مظاہرے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ملک کی مذہبی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھے جا رہے ہیں۔ سنہ 1979 کے انقلاب کے ذریعے شاہ ایران کو معزول کردیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی نئی ویڈیوز میں تہران کے جنوب میں واقع کہریزک کے مُردہ خانے میں لاشوں کی قطاریں نظر آئیں۔ یہ لاشیں سیاہ تھیلوں میں لپٹی ہوئی تھیں جبکہ غمزدہ افراد اپنے رشتہ داروں کو تلاش کرتے نظر آئے۔
اُدھر یورپی ممالک نے بھی ایران کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایرانی سفیروں کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
یورپی کمیشن کی سربراہ ارزولا فان ڈیئر لائن نے کہا کہ ’ایران میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد خوفناک ہے، ذمہ دار افراد کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔‘
اے ایف پی کے ایک صحافی نے بتایا کہ ’ایران میں منگل کو صرف آؤٹ گوئنگ کالز کے لیے بین الاقوامی فون سروس بحال کر دی گئی، تاہم سروس کا معیار اب بھی خراب ہے اور اس میں بار بار خلل آرہا ہے۔‘
حکومت نے پیر کو اسلامی جمہوریہ کی حمایت میں ملک گیر ریلیوں کا اہتمام کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔
سرکاری ٹی وی نے دکھایا کہ دارالحکومت تہران کے انقلاب سکوائر میں ہزاروں لوگوں نے اکٹھے ہو کر قومی پرچم لہرائے۔ اس دوران مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے دعا کی گئی۔ حکومت مخالف مظاہروں کو حکام نے ’فسادات‘ قرار دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں غیرملکی سفیروں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں لیکن جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی اس تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں لیکن یہ مذاکرات منصفانہ، برابری کے ساتھ اور باہمی احترام پر مبنی ہونے چاہییں۔‘
