سعودی عرب میں جعلی ادویات اور غافل ڈاکٹرز، مریضوں کے لیے خطرہ

سعودی عرب میں جعلی ادویات فروخت کرنے اورعلاج میں غفلت کے باوجود ڈاکٹروں کو کنگ عبد اللہ ہسپتال میں کام کرنے کی اجازت دینے جیسے معاملات نے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ 
عربی اخبارعکاظ کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ عسیر کے شہر بیشہ کے کنگ عبد اللہ جنرل ہسپتال کے 25فیصد ڈاکٹروں پر علاج میں غفلت کے الزام کے تحت سفری پابندی عائد کی گئی ہے لیکن انہیں ہسپتال میں کام کرنے کی اجازت ہے۔ 
بیشہ محکمہ صحت کی طرف سے متاثرہ مریضوں کی شکایات کا ازالہ کرنے اور ان کے کیسز کو تاخیر سےعدالت میں پیش کرنے پر شہریوں میں شدید غم وغصہ ہے۔ بعض لوگوں نے ڈاکٹروں کی سنگین غلطی سے مریض کے فوت ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق شہریوں کی شکایت پر تفتیشی کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔ الزام ثابت ہونے تک ڈاکٹروں کو کام سے نہیں روکا جاسکتا البتہ احتیاطی طور پر ان ڈاکٹروں کے سفر پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جن ڈاکٹر وں پر طبی غلطی کا الزام ہے انہیں معاملہ واضح ہونے تک کام سے روک دینا چاہیے۔
طبی شکایات
وزارت صحت کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال 3178 طبی شکایات ریکارڈ کی گئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈاکٹروں کی طرف سے تشخیص کے علاوہ علاج تجویز کرنے میں بھی غلطی ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ طبی غلطیاں ریاض، جبکہ دوسرے نمبر پر مکہ مکرمہ اور تیسرے نمبر پر مشرقی ریجن ہے۔
وزارت صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ5 سالوں کے دوران موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر3036 ڈاکٹروں پر سنگین غلطی ثابت ہونے پر کارروائی کی گئی۔ سب سے زیادہ غلطیاں بچہ زچہ کلینک میں ہوئیں، جبکہ دوسرے نمبرے پر دماغ اور اعصاب کی کلینکس ہیں۔
 اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ طبی غلطیاں مصری ڈاکٹروں نے کی ہیں۔ گزشتہ سال جن مصری ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی گئی ان کی تعداد278رہی۔ دوسرے نمبر پر سعودی ڈاکٹر ہیں جن کی تعداد115تھی۔ تیسرے نمبر پر پاکستانی ڈاکٹر ہیں جن کی تعداد44رہی۔ انڈین ڈاکٹر چوتھے نمبر پر تھے جن کی تعداد42تھی۔
غیر قانونی دواﺅں کا دھندہ زوروں پر
دوسری جانب سعودی عرب میں غیر قانونی ادویات کا کاروبار بھی بلندی پر ہے۔ 
سال رواں کے دوران سعودی عرب میں 223.2 ٹن غیر قانونی ادویات ضبط کی گئیں۔ محکمہ کسٹم کے ترجمان علی الجعفری نے سعودی عرب سے شائع ہونے والے جریدے الوطن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی قانون کسی بھی شخص کوغیر رجسٹرڈ ادویات لانے کی اجازت نہیں دیتا۔
ایسی ادویات کی درآمد پر بھی پابندی ہے جن پر مطلوبہ معلومات اور نرخ تحریر نہ ہوں۔ 
امور صحت کے ابلاغی مشیر فارماسسٹ صبحی الحداد نے بتایا کہ ہوائی اڈے یا بندرگاہ یا بری سرحدی چوکی سے صرف وہی ادویات لائی جاسکتی ہیں جن کا اندراج سعودی ایف ڈی اے کےریکارڈ پرموجود ہو۔
الحداد کے مطابق زیادہ تر لوگ اسقاط حمل ، توانائی حاصل کرنے والی ادویات اور سعودی ایف ڈی اے میں غیر رجسٹرڈ جڑی بوٹیاں اور دوائیں درآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سعودی مملکت میں فارمیسیوں کے مالک ڈاکٹرعلی النغموش کہتے ہیں کہ غیر قانونی ادویہ درآمد کرنے والوں کے تین بڑے اہداف ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ بھاری منافع حاصل کرلیا جائے، دوسرا سعودی ایف ڈی اے میں رجسٹریشن کی فیس ادا نہ کرنی پڑے اور تیسرا یہ کہ درآمد کرنے والوں کوغیرمعیاری ادویہ کی درآمد کا الزام نہ سننا پڑے۔

شیئر: