Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رات کے وقت ایپس پر سکرولنگ زیادہ، رمضان کے دوران سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر رونق

برینڈ کے لیے سبق ہے کہ ٹائمنگ کا دھیان رکھیں اور کری ایٹرز کے لیے سبق ہے کہ مصدقہ کانٹینٹ بنائیں۔ (فوٹو: عرب نیوز)
دن کے وقت روزے کی وجہ سے روزمرہ کے کام متاثر ہوتے ہیں تو اس صورتحال میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر رات کے وقت گہما گہمی ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے شیڈول میں تبدیلی آتی ہے اور تراویح کی نماز کے بعد اور سحری سے قبل رابطوں میں تیزی آ جاتی ہے۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مقدس مہینے میں ڈیجیٹل ٹرانسزیکشنز اور ای کامرس میں خاص طور پر شام کے وقت تیزی دیکھنے میں آتی ہے۔ بالکل اسی طرح سوشل میڈیا کانٹینٹ میں بھی تبدیلی نظر آتی ہے۔
رات کے وقت ایپس پر سکرولنگ بڑھ جاتی ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز رات کے وقت بھرپور انگیجمنٹ دیکھتے ہیں جبکہ دوپہر کو اس میں کمی آ جاتی ہے۔
کانٹینٹ کری ایٹرز کو رمضان کے مہینے میں حکمت عملی تبدیل کرنا پڑتی ہے۔
ریاض سے تعلق رکھنے والی 26 برس کی لائف سٹائل کانٹینٹ کری ایٹر سارہ الحربی کہتی ہیں کہ ’میں اپنے روزمرہ کے شیڈول پر کام نہیں کرتی۔ اگر میں افطار کے بعد پوسٹ لگاتی ہوں تو اس پر انگیجمنٹ کم ہوتی ہے۔ تراویح کے بعد لوگ تازہ دم ہوتے ہیں۔ اس وقت انٹرایکشن بڑھ جاتا ہے۔‘
ٹائمنگ کا خیال کونٹینٹ کے حوالے سے رکھا جاتا ہے۔
رمضان میں کونٹینٹ بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ کھانے پینے کی پوسٹس زیادہ دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن عام دنوں میں ہونے والے ڈنر کے بجائے سحری کی پوسٹس زیادہ ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح پانی کی کمی کو پورا کرنے کی پوسٹس بار بار کی جاتی ہیں اور کچن کی سرگرمیوں کی بھی پوسٹس کی جاتی ہیں۔
فجر سے قبل جلدی سے بنائے جانے والے کھانوں کے شارٹ کلپ بڑے کانٹینٹ سے بھی زیادہ ویوز لے جاتے ہیں۔
اسی طرح مذہبی سرگرمیاں بھی ڈیجیٹل صورت اختیار کر جاتی ہیں جیسا کہ قرآن مجید کی مختصر تلاوت کرنا جس میں صارفین اپنے روزانہ کے اہداف شیئر کرتے ہیں جو رمضان کا ٹرینڈ بن جاتے ہیں۔

کچن یا مدھم لائٹ میں بنائی جانے والی ویڈیوز زیادہ اثر رکھتی ہیں۔ (فوٹو: عرب نیوز)

دمام یونیورسٹی کے 22 برس کے طالب علم حسن المطیری کا کہنا ہے کہ ’میں نے قرآن پڑھنے کے چیلنج میں اس وجہ سے حصہ لیا کہ وہ بار بار میں فِیڈ پر آ رہا تھا۔ روزانہ کی تلاوت کو پوسٹ کرنے سے مجھے ثابت قدم رہنے میں مدد ملی۔‘
اس سے قبل عرب نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ مملکت میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز رمضان کے مہینے میں اپنے عروج پر ہوتے ہیں جن کا زیادہ دارومدار موبائل ایپس اور ٹرانسزیکشنز پر ہوتا ہے۔
وہ رپورٹ تو کامرس کی تھی لیکن تبدیلی کانٹینٹ کری ایشن پر زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔ رات کے وقت ایپ کو زیادہ استعمال کرنے سے کری ایٹرز اور برینڈز کو زیادہ انگیجمنٹ ملتی ہے۔
ریستوران آدھی رات کو اپنی سحری کی آفرز کی تشہیر کرتے ہیں۔ فٹنس کے انسٹرکٹرز روزے کی مناسبت سے ورک آؤٹ پلان بتاتے ہیں۔ صحت کا خیال رکھنے والے اکاؤںٹ انرجی مینیجمنٹ اور نیند کے اوقات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ کیمپین کے اوقات روزمرہ کے آفس آورز کے بجائے نماز کے اوقات کے ساتھ مل جاتے ہیں۔
کری ایٹرز کے مطابق رات کے وقت ریکارڈ کیے جانے والا مواد باقاعدہ دھیان سے کی جانے والی کیمپینز سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔

جب رات کے وقت ہوتا ہے تو ایپس پر سکرولنگ بڑھ جاتی ہے (فوٹو: عرب نیوز)

کچن یا مدھم لائٹ میں بنائی جانے والی ویڈیوز زیادہ اثر رکھتی ہیں کیونکہ ان سے روزے کے دوران روٹین کی عکاسی ہوتی ہے۔
جدہ میں رہنے والی 31 سال کی سوشل میڈیا سٹریٹیجسٹ ریم العتیبی کہتی ہیں کہ ’رمضان میں انگیجمنٹ مختلف ہوتی ہے۔ بڑا مواد اکثر نہیں چلتا۔ سادہ اور موزوں ویڈیوز چل جاتی ہیں۔‘
یہ تبدیلی صرف کمرشل نہیں ہوتی بلکہ کمیونل ہوتی ہے۔
رمضان میں کومنٹ سیکشن میں اکثر صارف دعائیں بتاتے ہیں، اپڈیٹس پڑھتے ہیں اور موٹیویشنل پیغامات بھیجتے ہیں۔ دوسرے مہینوں کی نسبت رویے کافی نرم ہوتے ہیں۔
اکیلے رہنے والے یا بیرون ملک پڑھنے والے سعودی شہریوں کے درمیان سوشل میڈیا فاصلے کم کر دیتا ہے۔
المطیری کہتے ہیں کہ ’افطار کی پوسٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ آپ بھی سب کے ساتھ موجود ہیں۔ اگر آپ فیملی کے ساتھ نہیں ہوتے تو تب بھی اُن کے ساتھ ہونا محسوس ہوتا ہے۔‘
عالمی ڈیجیٹل ٹرینڈز کے برعکس رمضان میں سوشل میڈیا پر گہما گہمی مذہبی روایات کے گرد گھومتی ہے۔ روزہ رکھنے کے اوقات ورکنگ آورز کے مطابق ہوتے ہیں۔ جاگنے کے بعد پوسٹس کی جاتی ہیں۔
برینڈ کے لیے سبق ہے کہ ٹائمنگ کا دھیان رکھیں اور کری ایٹرز کے لیے سبق ہے کہ مصدقہ کانٹینٹ بنائیں۔
سعودی عرب میں رمضان کے دوران سوشل میڈیا پر گہما گہمی ایلگورتھم کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ یہ سیزن اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوتی ہے۔

 

شیئر: