Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ، پروازیں عارضی طور پر معطل

امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد سے ایران خلیجی ممالک پر کئی حملے کر چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
دبئی کے میڈیا آفس کی جانب سے پیر کی صبح کو بتایا گیا کہ حکام ڈرون حملے کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹ کے قریب لگنے والی آگ سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایئر پورٹ کے قریبی علاقے سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم حکام کی جانب سے فوری طور پر ہلاکتوں یا دوسرے نقصان کے حوالے سے کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
میڈیا آفس کی ایکس پر کی گئی پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’فی الوقت حکام دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریبی علاقے میں اس آگ سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں لگی۔‘
بیان کے مطابق ’ہر کسی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
یہ حملہ ایران کی جانب سے دی گئی اس وارننگ کے بعد ہوا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کے تین بڑے ہوائی اڈوں کو خالی کرنے کا کہا گیا تھا اور پہلی بار پڑوسی ملک میں غیر امریکی اثاثے نشانہ بنانے کے خطرات ہیں۔
تہران کی جانب سے امریکہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں ’بندرگاہوں اور دوسرے ٹھکانوں‘ کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی تیل کے برآمدی ٹرمینل خرگ کے خلاف حملے شروع کر رہا ہے۔
اس کی جانب سے اس کا کوئی ثبوت مہیا نہیں کیا گیا جبکہ جنگ کے خاتمے کے بھی کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
متحدہ عرب امارات جو 2020  میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لایا تھا، کو ایران کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے تاہم ان سے تمام خلیجی ریاستیں متاثر ہوئی ہیں اور سب نے ہی ایران کی مذمت کی ہے۔
کویت کے نیشنل گارڈز نے اتوار کی صبح اطلاع دی تھی کہ 24 گھنٹے کے دوران دو ڈرونز کو روکا گیا جبکہ بحرین کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی حملے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 125 میزائل اور 212 ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے خلیجی عرب ریاستوں کو دو ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان میں نہ صرف امریکہ کے سفارتی مشنز اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ خلیجی ممالک میں تیل کے اہم انفراسٹرکچر، بندرگاہیں، ایئر پورٹس، ہوٹلز اور رہائشی و دفتری عمارات بھی شامل ہیں۔

شیئر: