’امریکہ میں مسلمانوں سے کم دشمنی یہودی رکھتے ہیں‘

امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ملک میں مسلمانوں سے سب سے کم عداوت رکھنے والے یہودی ہیں ۔
امریکی یونیورسٹی جارج ٹاؤن کے تعاون سے سماجی سیاست اور مفاہمت کی امریکی تنظیم نے تازہ ترین رپورٹ میں 11 چشم کشا حقائق پیش کیے ہیں ۔
سعودی روزنامہ سبق نے ’’الحرۃ چینل ‘‘کے حوالے سے بتایا ہے کہ تنظیم امریکہ میں ’’اسلام فوبیا‘‘ پر رپورٹ جاری کرتی ہے ۔ یہ تنظیم بتاتی ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں سے خوف کا تازہ ترین منظر نامہ کیا ہے ۔ یہ جاننے کے لیے مختلف مذاہب کے پیروکاروں سے ان کے سیاسی، سماجی اور مذہبی رجحانات دریافت کیے جاتے ہیں ۔
’’اسلام فوبیا بڑھ رہا ہے‘‘
سنہ 2018 کے مقابلے میں امسال امریکہ میں مسلمانوں سے خوف کے ماحول میں اضافہ ہوا ہے ۔
قدامت پسند انجیلیکل افراد اسلام فوبیا میں سب سے آگے ہیں ۔ تاہم عیسائیوں کے اس فرقے کے مطابق امریکی مسلمانوں کے ان کے بارے میں خیالات کافی بہتر ہیں ۔
لاطینی نژاد امریکی یہودی امریکہ میں دیگر مذاہب کے پیروکاروں میں مسلمانوں سے متعلق زیادہ سلجھی ہوئی رائے رکھتے ہیں ۔ امریکی مسلمان بھی امریکی یہودیوں کے بارے میں مثبت نقطہ نظر رکھتے ہیں ۔ یہودی کہتے ہیں کہ وہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں میں مسلمانوں کو زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں ۔
امریکہ میں فرقہ واریت
 جائزے میں شامل 40 فیصد مسلمانوں نے بتایا کہ وہ فرقہ واریت اور متعدد مذاہب کے ماننے والوں کی طرف سے امتیاز کا شکار ہیں ۔ امریکی مسلمانوں میں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ امتیاز کا شکار افریقی نژاد امریکی مسلمان ہیں ۔ ان کے بعد عرب نژاد مسلمانوں کا نمبر آتا ہے ۔
سب سے زیادہ شکوہ کس کو ہے؟
امریکہ میں مذہبی یا فرقہ وارانہ یا قومی امتیاز کا شکوہ کرنے والے سب سے زیادہ مسلمان ہیں ۔ مسلمانوں میں بھی مردوں کے مقابلے میں خواتین کو زیادہ شکایات ہیں ۔
امریکہ میں بیشتر شکایات مذہبی پیشوائوں کے حوالے سے کی جاتی ہیں ۔ جنسی ہراسانی کے واقعات سے دوچار ہونے والوں میں بھی مسلمان شامل ہیں ۔ دیگر مذاہب کے پیروکاروں میں اس طرح کی زیادہ تر شکایات مسلمان ہی درج کرا رہے ہیں۔
مساجد میں جمہوریت کا پرچار؟
امریکی مساجد سے متعلق ایک اچھی بات یہ ریکارڈ پر آئی ہے کہ جو لوگ پابندی سے مساجد جاتے ہیں وہ ایسے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ جمہوریت پسند ہیں جو مساجد کا رخ نہیں کرتے یا شاذو نادر ہی مساجد میں حاضری دیتے ہیں ۔ اسکالرز کا خیال ہے کہ امریکی مساجد جمہوریت کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں ۔ انتہا پسندانہ افکار کے پرچار سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔
جائزے سے  یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مرد و زن کے درمیان مساوات کی حمایت کرنے والوں میں امریکی مسلمان مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مقابلے میں زیادہ پیش پیش ہیں ۔ یہ اس سلسلے میں عیسائی مذہب کے تمام فرقوں پر برتری حاصل کئے ہوئے ہیں ۔ مسلمانوں سے اس معاملے میں صرف یہودی آگے ہیں ۔ مسلمان مردوں کے مقابلے میں مسلم خواتین مساوات کے تصور کی زیادہ حامی ہیں ۔
امریکہ میں مسلمانوں پر پابندی
جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی سے انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کو خاص فائدہ نہیں ہو گا ۔ وجہ یہ ہے کہ اس بنیاد پر امیدواروں کی حمایت صرف اور صرف قد امت پرست انجیلی فرقہ ہی کرتا ہے کوئی اور نہیں ۔ اس کے برعکس اس قسم کا فیصلہ مسلم اور یہودی ووٹروں کو امیدواروں سے متنفر کر دے گا۔
مسلمان اور یہودی ڈیموکریٹک
امریکہ کے مسلمان ریپبلکن پارٹی کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کو پسند کرتے ہیں۔
مسلمان ووٹرز کا رجحان یہودیوں جیسا ہے ۔ وہ بھی ڈیموکریٹک امیدواروں کو ریپبلکن امیدواروں کے  مقابلے میں زیادہ ترجیح دیتے ہیں ۔ حالیہ انتخابات کا نتیجہ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

شیئر: