ایران کے خلاف ایک اور امریکی بحری بیڑا روانہ

امریکہ نے ایران کی جانب سے مبینہ خطرات سے نمٹنے کے پیش نظر دفاعی میزائل سسٹم پیٹریاٹ اور ایک اور جنگی بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ بھیجا جانے والا بحری بیڑا یو ایس ایس آرلنگٹن خلیج فارس میں پہلے سے موجود یو ایس ایس ابراہم لنکن سے جا ملے گا۔
گذشتہ جمعہ کو امریکی فضائیہ نے بی۔52 بمبار طیارے قطر میں واقع اپنی ایئر بیس پہنچا دیے تھے۔
واشنگٹن بارہا کہتا آرہا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق ایران خطے میں کسی قسم کے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
تاہم واشنگٹن نے ایران کی جانب سے مبینہ خطرات کی وضاحت نہیں کی ، امریکہ پر یہ تنقید بھی ہو رہی ہے کہ وہ اس معاملے پر ضرورت سے زیادہ سخت ردعمل دکھا رہا ہے اور خطے میں غیر ضروری کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔

دوسری طرف ایران کی ایک خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کے ڈپٹی ہیڈ یداللہ جوانی نے جمعہ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ’ایران اپنے دشمن امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا اور امریکہ ہمارے خلاف فوجی کارروائی کی بھی ہمت نہیں کرے گا۔ ہماری قوم امریکہ کو ایک ناقابل اعتماد ملک کے طور پر دیکھتی ہے۔
واضحہ رہے کہ جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایرانی رہنما انہیں فون کریں اور جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات میں بات چیت کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ برس ایران کے ساتھ اس یادگار جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا جس پر امریکہ اور دیگر ممالک نے سنہ 2015 میں اتفاق رائے کیا تھا۔
گذشتہ ماہ امریکہ کی جانب سے ایران سے تیل کی خریداری پر پانچ ممالک بشمول چین، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی کو دیا گیا عارضی استثنیٰ ختم کرنے کا کہا گیا تھا۔
امریکہ کی طرف سے لگائی گئی ان پابندیوں نے ایران کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادہ ہے۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے عالمی مبصرین کو ایران پر امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے 60 دن کا وقت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ایران یورینیم کی پیداوار میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی حد تک اضافہ کرنا شروع کر دے گا۔
ایرانی صدر کے اس بیان کے جواب میں اقوام متحدہ نے ایران کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنے کی تلقین کی تھی۔

شیئر: