اسرائیل کی شام میں فوجی تنصیبات پر بمباری، 10افراد ہلاک

راکٹ حملوں کے بعد گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی ٹینک گشت کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے گولان کی پہاڑیوں پر راکٹ حملوں کے بعد شام کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس شام میں اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں شامی فوجیوں سمیت غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ اپنے خلاف کسی بھی کارروائی پر شام کی حکومت کو ذمہ دار قرار دیں گے۔‘
اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی اس پالیسی کو دہرایا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی کارروائی کا قوت سے جواب دیں گے۔‘

اس سے قبل اتوار کی صبح شام کی حکومت نے کہا تھا کہ اس کی افواج نے اینٹی ائر کرافٹ گن سے حملہ آور میزائل کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سنیچر کو دیر گئے شام نے ماؤنٹ ہرمن پر دو راکٹ داغے جن میں سے ایک اسرائیلی حدود میں گرا۔ ’اس حملے کے جواب میں فوج نے شام کے توپ خانے اور نگرانی کرنے والی کئی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔‘
اتوار کو جاری اس میں بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران شام کے اینٹی ائر کرافٹ کی فائرنگ کے بعد اسرائیل نے اپنا فضائی دفاعی نظام فعال کیا جس کی وجہ سے کوئی بھی راکٹ اسرائیل کی زمین پر گر کر نہیں پھٹا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے راکٹ حملوں کے بعد شام کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ ’ہم اپنی زمین پر کسی حملے کو برداشت نہیں کریں گے۔‘

شیئر: