Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا شدید خطرہ، امریکہ اور روس جلد نیا جوہری معاہدہ کریں: اقوام متحدہ

امریکی اور روسی صدور نے نیوسٹارٹ معاہدے پر 2010 میں دستخط کیے (فائل فوٹو: وِکی پیڈیا)
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور روس پر زور دیا کہ وہ جلد سے جلد ایک نئے جوہری معاہدے پر دستخط کرلیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انہوں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ’موجودہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ختم ہو رہا ہے جسے ’بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے نہایت تشویش ناک‘ کہا جا سکتا ہے۔‘
نیو سٹارٹ (New START) معاہدہ جمعرات کو ختم ہو جائے گا، جس کے بعد روس اور امریکہ دونوں اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر پر عائد متعدد پابندیوں سے باضابطہ طور پر آزاد ہو جائیں گے۔
انتونیو گوتریس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’نصف صدی سے زائد عرصے میں یہ پہلی بار ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا کا سامنا کر رہے ہیں جہاں روسی فیڈریشن اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سٹریٹجک جوہری ہتھیاروں پر پابندی کی کوئی بھی حد موجود نہیں ہوگی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ نیو سٹارٹ اور اسلحہ کنٹرول کرنے کے دیگر معاہدے ’دنیا بھر کے افراد کی سلامتی کے لیے بہت بہتر ثابت ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے امریکہ اور روس پر زور دیا کہ وہ ’بلا تاخیر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور ایک نئے متبادل فریم ورک پر اتفاق رائے قائم کریں۔‘
روس اور امریکہ دنیا کے 80 فیصد سے زائد جوہری وار ہیڈز پر کنٹرول رکھتے ہیں، لیکن دونوں کے درمیان اسلحہ کنٹرول کے معاہدے وقت کے ساتھ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
نیو سٹارٹ معاہدہ کیا ہے؟
نیو سٹارٹ معاہدہ سابق امریکی صدر براک اوبامہ اور روسی صدر دمتری میدویدیف کے درمیان 2010 میں طے پایا تھا۔ 

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ختم ہوتا رہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے لیے نصب تزویراتی جوہری وار ہیڈز کی حد 1550 مقرر کی گئی تھی جو 2002 میں طے کی گئی سابقہ حد کے مقابلے میں قریباً 30 فیصد کم تھی۔
یہ معاہدہ فریقین کو ایک دوسرے کے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر کا موقع پر جا کر معائنہ کرنے کی اجازت بھی دیتا تھا، تاہم کورونا کی وبا کے دوران یہ معائنے معطل کر دیے گئے تھے اور تاحال بحال نہیں ہو سکے۔
نیو سٹارٹ معاہدہ سرد جنگ کے بعد جوہری اسلحہ کنٹرول کے سلسلے کی آخری کڑی تھا جس میں ایک سال توسیع کی تجویز گذشتہ برس ستمبر میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے دی تھی۔
اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر مثبت ردِعمل کا اظہار کیا تھا، تاہم اس کے بعد اس حوالے سے کوئی باضابطہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔
صدر ٹرمپ کا بعد میں یہ کہنا تھا کہ ’اگر یہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ختم ہوتا رہے اور زور دیا کہ معاہدہ بہتر شکل میں ہونا چاہیے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ’صدر ٹرمپ جوہری ہتھیاروں کی حد بندی کے کسی بھی نئے معاہدے میں چین کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس حوالے سے اپنا موقف واضح کریں گے۔‘

 

شیئر: