Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں 18 گھنٹے کا ٹریفک جام، صنعتکار کو ہیلی کاپٹر سے منتقل ہونا پڑا

ڈاکٹر سدھیر مہتا ای کے اے موبیلیٹی اور پینیکل انڈسٹریز کے چیئرمین ہیں (فوٹو: ڈاکٹر سدھیر مہتا ایکس)
انڈیا میں ممبئی، پونے ایکسپریس وے پر ایک گیس ٹینکر کے حادثے کے باعث بدھ کو شدید ٹریفک جام ہو گیا جس کے نتیجے میں لاکھوں مسافر گھنٹوں سڑک پر پھنسے رہے۔ واقعے کے بعد معروف صنعتکار ڈاکٹر سدھیر مہتا کو تقریباً آٹھ گھنٹے تک ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے پونے منتقل کیا گیا۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق ڈاکٹر سدھیر مہتا ای کے اے موبیلیٹی اور پینیکل انڈسٹریز کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی طویل قطاروں کی فضائی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ صرف ایک گیس ٹینکر کے حادثے کے باعث لاکھوں افراد 18 گھنٹوں تک شدید مشکلات کا شکار رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایکسپریس وے پر مختلف مقامات پر متبادل راستے (ایگزٹس) کی منصوبہ بندی ضروری ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر گاڑیوں کو واپس جانے کی اجازت دی جا سکے۔
ڈاکٹر مہتا نے ہنگامی صورتحال میں ہیلی پیڈز کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہیلی پیڈ بنانے پر دس لاکھ روپے سے بھی کم لاگت آتی ہے اور اس کے لیے ایک ایکڑ سے کم کھلی جگہ درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپریس وے کے قریب مختلف مقامات پر ہنگامی انخلاء کے لیے ہیلی پیڈز کا ہونا لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
حادثے کی تفصیلات
حکام کے مطابق یہ صورتحال منگل کی شام تقریباً پانچ بجے اس وقت پیدا ہوئی جب راگڑ ضلع میں ادوشی ٹنل کے قریب آتش گیر پروپیلین گیس سے بھرا ایک ٹینکر الٹ گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹینکر تیز رفتاری کے باعث ڈھلوان پر قابو کھو بیٹھا اور سڑک پر الٹ گیا۔
حادثے کے فوراً بعد گیس کے اخراج کا انکشاف ہوا، جس کے پیشِ نظر پولیس نے احتیاطی اقدام کے طور پر ممبئی کی جانب جانے والی ٹریفک فوری طور پر بند کر دی۔ اس کے نتیجے میں ممبئی، پونے ایکسپریس وے اور پرانی ممبئی، پونے شاہراہ (این ایچ-48) پر آمدورفت شدید متاثر ہوئی۔
مسافر رات بھر مشکلات کا شکار
ٹریفک جام 15 گھنٹوں سے زائد جاری رہا، جس کے باعث سینکڑوں گاڑیاں رات بھر سڑک پر کھڑی رہیں۔ خواتین اور بچوں سمیت مسافروں کو خوراک، پینے کے پانی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔

 

شیئر: