عازمین حج کا سامان ان کی رہائشگاہ پرمگرپاکستانی لسٹ سے باہر کیوں؟

سعودی وزارت حج و اوقاف اور محکمہ کسٹم نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت جدہ حج ٹرمینل پر آنے والے عازمین کا سامان براہ راست ان کی رہائش پر منتقل کر دیا جائے گا۔
معاہدے کے مطابق پہلے مرحلے میں 8 ممالک کے عازمین حج کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے جس میں انڈیا ، ترکی، مراکش، الجزائر، تیونس، کویت ، متحدہ عرب امارات اور بحرین شامل ہیں۔ معاہدے کا مقصد عازمین حج کو بہتر سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ حج ٹرمینل پر انہیں سامان کے لیے زیادہ وقت انتظار نہ کرنا پڑے ۔

پاکستان اس فہرست میں شامل کیوں نہیں؟
ترجمان عمران صدیقی نے کہا کہ   اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت مذہبی امور کہ گو کہ پاکستان کو اس سہولت میں شامل نہیں لیکن پاکستان سعودی حکومت کے پروگرام ’روڈ ٹو مکہ‘ میں شامل ہے جس کے تحت اس سال پاکستانی حجاج کی امیگریشن اور کسٹم مرحلے اسلام باد ایئرپورٹ پر ہی مکمل کر لیے جائیں گے اور انہیں جدہ میں ان مراحل سے نہیں گزرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سال یہ سہولت پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر صرف اسلام آباد ایئر پورٹ پر ہی میسر ہو گی مگر اگلے سالوں میں باقی ایئر پورٹس تک اس کو پھیلایا جائے گا۔
وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق جن ممالک کے حجاج کو سامان ہوٹل تک پہنچانے کی سہولت دی گئی ہے ان کی آبادی کم ہے ۔ پاکستان سے اس سال دو لاکھ حجاج فریضہ حج ادا کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت آٹھ ریال کی ادائیگی پر پہلے ہی یہ سہولت سرکاری حج کر نے والے زائرین کو مہیا کر رہی ہے جن کا سامان ایئر پورٹ سے براہ راست ہوٹل پہنچا دیا جاتا ہے۔
واضح رہے جدہ حج ٹرمنل دنیا کا واحد ٹرمینل ہے جو حج سیزن میں سب سے مصروف ہوتا ہے۔ ٹرمینل ازخود ایک چھوٹا شہر ہے جہاں تمام سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔

عازمین حج کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا اپنے سامان کے حوالے سے ہوتا ہے جب وہ لائنوں میں لگ کر اپنے سامان کو کسٹم سے گزارتے ہیں اور اس میں کافی وقت لگتا ہے ۔ محکمہ کسٹم سے نکلنے کے بعد عازمین کا سامان ٹرالیوں پر لوڈ کرکے ان کے ملکوں کے سفارتی نمائندوں کی موجودگی میں بسوں میں لوڈ کیاجاتا ہے۔
سامان لوڈ ہونے تک عازمین حج کو انتظار گاہ میں کئی گھنٹے بیٹھنا پڑتا ہے۔ وزارت حج کی جانب سے سامان کی براہ راست عازمین کی عمارتوں میں ترسیل سے صورتحال میں بہتری آئے گی۔

شیئر: