پارلیمانی ورلڈ کپ،پی ٹی آئی ٹیم کو سوشل میڈیا کے باؤنسرز

سپیکر اسد قیصر پارلیمانی ورلڈ کپ کے افتتاح کے موقع پر کرکٹ کھیلتے ہوئے (فوٹو:نیشنل اسمبلی)
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے انٹر پارلیمانی ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ 26 رکنی ٹیم اور آفیشلز کو سوشل میڈیا کے خصوصی باؤنسرز اور یارکرز کا سامنا ہے۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد حکومت کی اعلان کردہ ٹیم نے یکے بعد دیگرے پھینکی گئی خطرناک گیندوں کا جواب بھی نہیں دیا تھا کہ فری ہٹ کی منتظر نظر آنے والی ٹیم کو کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سیلیکشن پر تندوتیز اعتراضات کا سامنا کرنا پڑگیا۔
سپیکر کے سیکرٹری اور ٹیم مینیجر شہریار خان کے دستخطوں سے جاری ہونے والے اعلان میں شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی زین حسین قریشی کو کپتان نامزد کیا گیا ہے۔
آٹھ جولائی سے 15 جولائی تک لندن میں منعقد ہونے والے انٹر پارلیمنٹری ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ ٹیم نائب کپتان ایم این اے علی زاہد، وکٹ کیپر ایم این اے امیر سلطان ہیں۔ ٹیم میں گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان، ایک سینیٹر اور پانچ اراکین صوبائی اسمبلی کے علاوہ باقی تمام کھلاڑی قومی اسمبلی کے اراکین ہیں۔
تحریک انصاف کی بیٹ کور کرنے والے اسلام آباد کے ایک صحافی ایاز اکبر کو ٹیم کوچ مقرر کیا گیا ہے جبکہ دو اسسٹنٹ کوچز بھی ٹیم کے ہمراہ ہوں گے۔
اعلان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا کے صارفین نے کہیں اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا تو کسی نے 26 رکنی دستے کی تعداد پر سوال اٹھایا۔ مرتضیٰ علی نامی صارف نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہ فرمان صاحب بھی کھیلنے جا رہے ہیں۔

بینظیر شاہ نامی ٹوئٹر صارف نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کو مخاطب کیا اور طنزاً کہا کہ ہماری دولت اچھے ہاتھوں میں ہے۔
اس معاملے پر ناپسندیدگی ظاہر کرنے والوں میں حکومتی جماعت کے حامی بھی شامل رہے۔ شاہ زیب نامی صارف نے کہا کہ وہ  وزیراعظم کے حامی ہیں، ان چیزوں کا سامنے آنا اچھا ہے، ہر بندہ عمران خان جیسا نہیں، بہتر ہے جرنلسٹ اپنا کام اسی طرح کرے۔
ٹیلی ویژن میزبان اجمل جامی بھی ٹوئٹر پر جاری گفتگو کا حصہ بنے۔ انہوں نے ٹیم کی تعداد کو سوال کا موضوع بنایا اور پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ غیر معمولی معاملہ ہو سکتا ہے۔
متعدد صارفین ٹیکس دہندگان کی رقم سے کیے جانے والے اس دورے پر ناراض دکھائی دیے۔ عثمان حنیف نامی صارف نے وزیراعظم عمران خان کا ٹوئٹر ہینڈل مینشن کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کے لیے ٹیکس نہیں دیں گے۔
حکومتی ٹیم کی مدد کے لیے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر میدان میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم ارکان نے اس دورہ کے لیے اپنے طور پر فنڈز جمع کیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث کے دوران یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خصوصی ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ 26 رکنی دستے پر کل کتنے اخراجات آئیں گے تاہم کچھ صارفین کا دعویٰ تھا کہ فی کس سات لاکھ روپے کی رقم خرچ ہو گی۔
گزشتہ چند روز میں یہ تیسرا موقع ہے جب حکومتی اخراجات اور کفایت شعاری کے متعلق اعلان کردہ پالیسی تنقید کا نشانہ بنی ہے۔
ایک روز قبل ایوان صدر میں طوطوں کے پنجرے کے لیے جاری کردہ ٹینڈر سوشل میڈیا پر شیئر ہوتا رہا تھا۔ تقریبا 19 لاکھ روپے لاگت کا پنجرہ بنانے کے پروگرام پر ہونے والی گفتگو کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا تھا۔

چند روز قبل مالی سال 2019-20 کے لیے اعلان کردہ بجٹ تجاویز کے بعد وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے لیے مختص کردہ بجٹ کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، سوشل میڈیا صارفین نے اسے حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسی کے منافی اقدام قرار دیا تھا۔

شیئر: