سرجری کے بعد انڈین نوجوان کے معدے سے 7 ٹوتھ برش اور 2 رینچ برآمد، ایسا ہوا کیسے؟
منگل 30 دسمبر 2025 11:41
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
انڈیا کے شہر جے پور کے ایک نجی ہسپتال میں چونکا دینے والا اور نایاب طبی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ڈاکٹروں نے ایک نوجوان کے معدے سے روزمرہ استعمال کی غیرمعمولی اشیا نکال کر اس کی جان بچا لی۔
نیوز 24 کے مطابق بھلواڑہ سے تعلق رکھنے والا 26 سالہ نوجوان 26 دسمبر کو شدید پیٹ درد کی شکایت کے ساتھ جے پور کے ایس آر کلّا میموریل ہسپتال پہنچا۔ مریض کی حالت تشویشناک دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے فوری طور پر مختلف طبی معائنے شروع کیے۔ جب پیٹ کی سونوگرافی کی گئی تو ڈاکٹر بھی دیکھ کر حیران رہ گئے، مریض کے معدے میں متعدد سخت اور نوکیلی اشیا موجود تھیں۔
ہسپتال کے سینیئر سرجن ڈاکٹر تنمے پاریکھ کے مطابق سونوگرافی میں واضح طور پر ٹوتھ برش اور لوہے کی پانے نما اشیا نظر آئیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر اینڈوسکوپی کی گئی، تاہم اشیا کے حجم کی وجہ سے انہیں اینڈوسکوپی کے ذریعے نکالنا ممکن نہ ہو سکا۔ بعض نوکیلی اشیا معدے کی دیوار تک پہنچ چکی تھیں جو کسی بھی وقت جان لیوا ثابت ہو سکتی تھیں۔
بالآخر ڈاکٹروں نے اوپن سرجری کا فیصلہ کیا۔ دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے دوران ڈاکٹروں نے مریض کے معدے سے سات ٹوتھ برش اور دو لوہے کے پانے (رینچ) کامیابی سے نکال لیے۔
اس پیچیدہ سرجری کی قیادت ڈاکٹر تنمے پاریکھ نے کی جبکہ اینستھیٹسٹ ڈاکٹر آلوک ورما اور او ٹی سٹاف کشال اور ہریندر بھی شامل تھے۔
ڈاکٹروں کے مطابق بعد ازاں مریض سے گفتگو میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہے، جس کے باعث وہ کھانے کے قابل نہ ہونے والی اشیا نگل لیتا تھا۔ یہی عمل اس خطرناک صورتحال کا سبب بنا۔
ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی اشیا نگلنا نہایت جان لیوا ہو سکتا ہے اور ایسی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک انڈین صحافی سرشٹی وشواکرما نے واقعے کے حوالے سے پوسٹ شیئر کی جس میں ممکنہ وجوہات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

وہ لکھتی ہیں ’ماہرینِ نفسیات کے مطابق اس طرح غیر معمولی اشیا نگلنا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک سنگین ذہنی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔ گورکھپور ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر امت شاہی کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں ایسی اشیا نگلنا دراصل اندرونی غصے اور ذہنی عدم توازن کا اظہار ہوتا ہے۔‘
ڈاکٹر امت شاہی کے مطابق اس کیفیت کو سائیکوسِس ڈس آرڈر (Psychosis Disorder) کہا جاتا ہے جس میں انسان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔ مریض حقیقت سے کٹنے لگتا ہے اور اس کا رویہ غیرمعمولی اور خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد اکثر اپنے عمل کے نتائج کا اندازہ نہیں کر پاتے جس کے باعث وہ خود کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مریضوں کے لیے صرف جسمانی علاج کافی نہیں بلکہ مسلسل نفسیاتی علاج اور نگرانی بھی نہایت ضروری ہوتی ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے جان لیوا واقعات سے بچا جا سکے۔
