کیا پاکستان ایک نئی قسم کی ففتھ جنریشن وار میں الجھ چکا ہے؟ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ اسے کس طرح کاؤنٹر کیا جا سکتا ہے اور ایسے میں میڈیا، سول سوسائٹی، انٹیلیجنشیا کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ یہ وہ پہلو ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔ درحقیقت یہ ایک بڑی ڈیبیٹ کا موضوع ہے۔ لیکن کہیں سے بات کا سرا تو پکڑا جائے، سو کوشش کرتے ہیں، لیکن سب سے پہلے ففتھ جنریشن وار فیئر کے بنیادی تصور کو لیتے ہیں۔
اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ بعض اصطلاحات اپنی غیرمعمولی اہمیت کے باوجود متنازع ہو جاتی ہیں۔ ففتھ جنریشن وار فئیر کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہو گیا ہے۔ چار پانچ برس پہلے یہ اصطلاح اچانک نمودار ہوئی اور پھر تواتر سے دہرائی جانے لگی۔
دراصل تاریخ انسانی میں پہلی بار ایسے ٹولز یا ہتھیار ایجاد ہوئے ہیں جو خود کو پس منظر میں یا محفوظ رکھتے ہوئے لوگوں کی بہت بڑی تعداد پر اثرانداز ہو سکیں۔ ٹوئٹر، فیس بک، واٹس ایپ، ٹیلی گرام جیسی بلائیں پہلے کب تھیں؟
مزید پڑھیں
-
کیا پاکستان میں سیاست واقعی ختم ہو رہی ہے؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 897525
ایک فیک ویڈیو کے ذریعے لاکھوں، کروڑوں لوگوں تک پہنچا، ان کا ذہن بدلا جا سکتا ہے۔ ایسا پہلے کبھی ممکن نہیں تھا۔ آپ کہیں بیٹھ جائیں، کسی بھی آئی ڈی کے ساتھ کام شروع کر دیں، چند ماہ میں اچھی بھلی سرنگیں لگا لیں گے۔ اگرمقامی زبانیں آتی ہیں تو پھر کیا بات ہے۔ نہایت آسانی سے نوجوانوں کے کچے، پکے ذہنوں میں سرائیت کیا جا سکتا ہے۔
اس قسم کی جنگوں کے اہداف کیا ہیں؟
ہمارے جیسے ممالک میں یہ عوام کو مسلکی،علاقائی، گروہی اور نظریاتی طور پر تقسیم کرنے کا کام کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم کے بجائے سندھی، پشتون، بلوچ، پنجابی، سرائیکی قومیت پر اصرار۔
ہر ایک کو اپنی زبان، قبیلہ یا برادری، قومیت سے محبت ہوتی ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ ایسا کرتے ہوئے دوسروں کے لیے نفرت، ناپسندیدگی، بیزاری پیدا کرنا غلط ہے۔ ففتھ جنریشن وار لڑنے والے نفرت کے جذبات بڑی ہنرمندی سے پیدا کرتے ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ مشترک باتوں کو ہدف بنا کر ختم کیا جائے۔ مشترک چیزیں ہی ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔ پنجاب میں رہنے والے ایک شخص اور وزیرستان میں رہنے والے کسی قبائلی پشتون،کوئٹہ کے کسی بلوچ، سانگھڑ کے کسی سندھی، گلگت کے کسی رہائشی کے درمیان چند مشترک رشتے ہیں۔

یہ مشترک رشتے ہی قوت ہیں اور وہی کمزوری۔ پاکستان کے مفادات سب کو ایک کر دیتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا جیتنا نہال کر دیتا ہے۔ ان سب نے ایک خاص پاکستانی کلچر میں پروان چڑھا، اپنی زبانوں کے ساتھ قومی زبان اردو پڑھی، پاکستانی اخبار پڑھے، ٹی وی چینل دیکھے، سکول، کالج کے ایک خاص نصاب کو پڑھا، تحریک پاکستان کے قائدین سے انہیں محبت، عقیدت ہوئی۔ ریاست نے ایک خاص لاشعوری انداز میں ان کے مابین مشترک رشتے اورتعلق کی کئی جہتیں قائم کر دیں۔ سمجھدار قومیں ان رشتوں کو مضبوط کرتی ہیں۔
ہمارے ہاں دو غلط کام ہوئے۔ بیڈ گورننس کی وجہ سے عوام کا انتظامیہ، حکومت، ریاست سے اعتماد کم ہوا۔ ملک کے کسی بھی گوشے میں کوئی فرد، خاندان کسی بھی وجہ سے خوفزدہ ہو، مسائل کا شکار ہو تو وہ پولیس کی طرف جانے سے ڈرے گا۔ ریاست کا انتظامی چہرہ پولیس ہے۔ یہ ظالم خوفناک چہرہ اسے حکومت، ریاست کے قریب نہیں آنے دیتا۔ یہ سلسلہ طول پکڑتا ہے، صحت، تعلیم، روزگار، غرض ہر معاملے میں لوگوں کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ فوج یا اسٹیبلشمنٹ باہر رہ کر معاملات سدھارنے میں مدد کر سکتی تھی، جب مختلف مواقع پر اس نے حکومت سنبھال لی تو پھر معاملات بگڑ گئے۔
پاور پالیٹیکس میں اسٹیبلشمنٹ کی ٹکر سیاستدانوں سے ہوئی، جن کا عوام میں ووٹ بینک اور اثرورسوخ تھا۔ یوں سیاسی بنیاد پر خاص قسم کے تعصبات شروع ہوئے۔
جب اس قسم کے حالات بن جائیں تب سیاسی کارکن پھر حکومتی اداروں کی کہی بات کو اتنا سیریس نہیں لیتا۔ وہ ان میں چھپے معنی، سازش تلاش کرتے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تھوڑی بہت سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے، اخبار پڑھنے، ٹی وی دیکھنے والے نسبتا ہوشیار لوگ ہی سب سے زیادہ رائے سازی، ذہن بناتے ہیں۔ عام آدمی پر ان کی بات زیادہ اثر کرتی ہے۔

دوسرا بڑا فیکٹر علاقائی صورت حال، طاقتور پڑوسی، خطے میں عالمی قوتوں کی آویزش اور پڑوس میں وار تھیٹرز کا کھلنا رہا۔ کم ہی ممالک ایسے ہوں گے جنہیں اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑے، طاقتور ہمسایے کا سامنا ہو، اس کے ساتھ تین چار بڑی جنگیں لڑی جا چکی ہوں، جن میں سے ایک جنگ کے نتیجے میں وہ ملک آدھا ہوگیا ہو۔
دنیا کے کم ہی علاقے ایسے ہیں جہاں سپرپاورز ایک دوسرے سے باقاعدہ سینگ پھنسا کر لڑتی رہیں، لڑ رہی ہیں۔ کم ہی ممالک ایسے ہوں جن کے پڑوس میں 30 برس کے دوران کئی جنگیں لڑی جا چکی ہوں، کئی ملین لوگ وہاں سے مہاجر بن کر اس ملک میں آباد ہوجائیں۔
پاکستان بدقسمتی سے ان تینوں، چاروں بدترین منظرناموں کا حصہ ہے۔ تنقید کرنا بہت آسان ہے، لیکن اگر پاکستان کا دوسرے ممالک سے موازنہ کرتے ہوئے یہ بھی سوچا جائے کہ ان ممالک میں سے کتنے ہیں جن کا انڈیا جیسا پڑوسی ہے، جس کے ساتھ مشرقی پاکستان کا سانحہ ہوچکا، جس کے اردگرد سپر پاور ’لان ٹینس‘ کھیل رہی ہیں، جس کے مغربی پڑوس میں تین جنگیں ہوئیں، ایسا پڑوس جن کے عوام کبھی دوست اور کبھی دشمن بنتے رہے۔ ان سب کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
فالٹ لائنز کا استعمال
جہاں پہلے ہی سے بعض فالٹ لائنز موجود ہوں۔ مختلف صوبوں کے مابین عدم اطمینان، عدم تحفظ موجود ہو، وہاں جلدی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ جب ملکی ادارے پہلے ہی سے کسی حد تک متنازع بن چکے ہوں۔ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت ہو، عدلیہ پر جانبداری کے الزامات عائد کیے جارہے ہوں، سیاست میں شدید قسم کی پولرائزیشن موجود ہو۔ ایک جماعت کے ہیرو، دوسری کے ولن ہوں، ایسے میں دلوں کے اندر جلتے ناپسندیدگی کے الاؤ معمولی سی کوشش سے نفرت کے بھانبھڑ بن جاتے ہیں۔

یہاں پر ففتھ جنریشن وار فیئر بروئے کار آتی ہے۔ یہ درحقیقت سائبر وار ہے جو سوشل میڈیا کی مدد سے لڑی جاتی ہے۔ درحقیقت اس کے پیچھے بہت بار کوئی غیرملکی دشمن ریاست یا نان سٹیٹ ایکٹرز ہوتے ہیں۔ جو آئیڈیاز کی ایسی جنگ چھیڑتے ہیں جو عوام کو کنفیوز اور فکری طور پر منشتر کر دیں۔
فیک ویڈیوز، فساد پھیلانے والی فیس بک پوسٹیں، شر انگیز ٹوئٹس، اداروں کو متنازع بنانے کی سوچی سمجھی تحریر، مسلکی، لسانی اور علاقائی فساد پھیلانے کی سازشیں۔ یوں باقاعدہ جنگ چھیڑے بغیر ہی ایسی فتنہ انگیز، شکوک پیدا کرنے والی تحریریں وائرل کر دی جاتی ہیں تاکہ قوم کا مورال ڈاون ہوجائے۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ففتھ جنریشن وار فیئر صرف حکومت، اسٹیبلشمنٹ یا ایجنسیوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہمارا، ہم سب کا، پاکستانیوں کا مسئلہ ہے۔ ملک ہمارا ہے، خدانخواستہ اسے کوئی نقصان پہنچا تو وہ ہمارا نقصان ہے۔ ہم سب اس کے سٹیک ہولڈر ہیں۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ صرف سیاسی اختلاف کی وجہ سے ہم اپنے ملک کو داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف ہوسکتا ہے، مگر فوج بطور ادارہ ہماری محبت، سپورٹ کی حق دار ہے۔
یہ بھی ذہن میں رہے کہ ضروری نہیں کوئی غیرملکی ایجنٹ بن کر، پیسے لے کر ففتھ جنریشن وار فیئر کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے۔ کئی لوگ نادانستہ طور پر بھی استعمال ہوجاتے ہیں۔ بعض لوگ کسی معاملے میں غیرضروری جذباتیت، حساسیت کا شکار ہو کر بہت آگے چلے جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں بعض فقرے بڑی ہوشیاری، ہنرمندی سے تخلیق کئے جاتے ہیں، ایسے چبھتے ہوئے جملے، ون لائنر جو سننے والوں کو اچھے لگیں اور وہ انہیں بلا سوچے سمجھے آگے بڑھا دیں۔ ففتھ وار فیئر میں ان کی بنیادی اہمیت ہے۔ اگر کوشش کروں تو دو تین کالم ایسے سوچے سمجھے خطرناک جملوں پر لکھے جا سکتے ہیں،جو مکمل طور پر غلط اور کنفیوزنگ ہیں یا پھران میں سچ، جھوٹ کی ملاوٹ ایسے ہوئی کہ عام آدمی دھوکہ کھا جائے۔ چند ایک مثالیں دینا چاہتا ہوں۔
پہلی مثال یہ ہے ’یہ دہشت گردی فوج نے خود ہی شروع کرائی ہے، اس کے پیچھے وہی ہے۔‘

یہ نہایت احمقانہ جملہ ہے۔ یعنی ہزاروں فوجی جوان، افسر، کرنل، بریگیڈیئر سے لے کر جنرل کی سطح تک کے اعلیٰ افسر شہید ہوئے اور مارنے والے خود آپ ہیں۔ دنیا میں کون احمق ایسا ہو گا جو پریڈ لائن مسجد حملوں جیسے واقعات میں اپنے ہی بچوں پر گولیاں چلوائے؟ یاد رہے کہ اس حملے میں کورکمانڈر پشاور کا بیٹا شہید ہو گیا تھا یا پھر کمانڈوز کے میس میں خود کش حملے کرائے جائیں۔ ایسا کبھی کہیں ہوتا ہے؟
سابق فاٹا علاقوں میں ایک اور ہی جملہ بولا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتے ہیں کہ ’فوج جس نے جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کر کے اپنے سینکڑوں جوان شہید کرائے، آئے روز فوجی قافلوں پر حملے ہوتے رہے، تو خدانخواستہ ان حملوں کے پیچھے وہ خود ہیں۔‘ کاش ایسا زہریلا اور گھٹیا الزام لگانے والوں کے منہ میں کوئی خاک بھر دے۔ شہدا کے گھر والوں کو یہ کہا جائے کہ آپ نے اپنا بیٹا خود ہی مارا ہے تو پھران کا کیا حشر ہو گا؟
بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے عفریت کو قابوکرنے کے لیے مختلف اوقات میں کئی حربے آزمائے گئے۔ ان میں سے ایک مقامی قبائلی لشکر بنانا بھی تھا۔ ایک طریقہ ٹی ٹی پی کو تقسیم کر کے بعض گروپوں کو الگ کرنا بھی تھا۔ یہ سمجھ میں آنے والی حکمت عملی ہے کہ دشمن دہشت گردوں کو جس قدر ہو سکے علیحدہ اور کمزور کرو۔ جو گروپ تھک گئے انہیں امن کی طرف واپس آنے کا راستہ دیا جائے۔ دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے۔ برطانیہ جیسے ملک میں شمالی آئرلینڈ کے گوریلوں کو عام معافی دے کر ملک میں امن قائم کیا گیا۔ یہ باتیں مگر عام آدمی کو سمجھانے کی کوئی زحمت نہیں کرتا۔
ایک بیانیہ ہے کہ ’پشتون نشانہ بن رہے ہیں، آپریشن صرف پشتونوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔‘ اس پروپیگنڈے کا جواب بہت آسان ہے۔ ایسا کہنے والوں سے پوچھنا چاہیے کہ صوبہ خیبر پختون خوا کے آدھے سے زیادہ اضلاع جہاں 100 فی صد پشتون آبادی رہتی ہے، وہاں تو گذشتہ 10، 15 برسوں میں کوئی آپریشن نہیں ہوا۔ کیا وہ لوگ پشتون نہیں؟
صاف بات یہ ہے کہ آپریشن وہاں ہوئے جہاں شدت پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کے کلسٹر بن گئے اور وہ وہاں سیف ہیون بنائے بیٹھے تھے۔ وہاں آپریشن ہوئے۔ اور جہاں کہیں آپریشن ہوتا ہے، وہاں وہاں پوسٹ آپریشن مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسی نوعیت کے مسائل وزیرستان، باجوڑ وغیرہ میں بھی ہوئے۔
ان مسائل کو حل کیا جانا چاہیے، بیڈ گورننس اور حکومتی یا انتظامی نالائقی سے ان مسائل کو بروقت حل نہیں کیا گیا۔ ایک اورجملہ کہ ’فوج نے طالبان بنائے، اب وہی ہمیں مار رہے ہیں۔‘ یہ بات ہے ہی غلط۔ پاکستان نے کبھی ٹی ٹی پی کی حمایت نہیں کی تھی۔ البتہ افغان طالبان کی ضرور حمایت ہوئی، مگر ٹی ٹی پی اور بیت اللہ محسود کے خلاف تو سنہ 05-2004 سے مخالفت شروع ہو گئی اور پھر بتدریج مختلف مقامات پر آپریشنل کارروائیاں چلتی رہیں۔ ٹی ٹی پی کبھی فورسز کی اتحادی نہیں رہی، بلکہ یہ قائم ہی پاک افواج کے خلاف ہوئی۔

ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے پہلی بار افغان طالبان کی حمایت محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں شروع کی تھی جو سویلین حکمران اور سیکولر رجحانات رکھتی تھیں۔
ایک اور خطرناک فقرہ ہے کہ ’پنجاب میں اگر دہشت گردی ہو، لاشیں گریں، مسنگ پرسنز بنیں، تب آپ کو پشتون، بلوچوں کے ساتھ ہونے والا ظلم سمجھ آئے گا۔‘ یہ جھوٹ کی انتہا ہے، بلکہ یہ کہنا ظلم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پنجاب کے ہزاروں لوگ شہید ہوئے۔ بے شمار فوجی جوانوں کے علاوہ، اسلام آباد، پنڈی، لاہورمیں دہشت گردی کی متعدد وارداتیں ہوئیں۔ عام پنجابی نشانہ بنے۔
واہگہ بارڈر پر ہونے والا حملہ ہو یا چیئرنگ کراس پر خود کش حملہ، داتا دربار بم دھماکہ ہو یا مون مارکیٹ میں دھماکے سے جھلس کر ناقابل شناخت ہوجانے والی لاشیں، گلشن اقبال پارک میں مرنے والے عام شہری خاندان ہوں یا مختلف شہروں میں ہونے والی درجنوں وارداتیں۔ ان تمام وارداتوں میں استعمال ہونے والے دہشت گرد پشتون تھے۔ ان میں سے کئی خود کش بمبار محسود اور وزیرستان کے رہائشی تھے۔ اہل پنجاب نے مگر اپنے قاتلوں کو صرف دہشت گرد سمجھا۔
مسنگ پرسنز کا معاملہ بھی پنجاب میں کم نہیں۔ القاعدہ، کالعدم تنظیموں سے تعلق کے شبہ میں سینکڑوں لوگ غائب ہیں، ماورائے عدالت ہلاکت کے کیسز بھی بہت ہوئے، ملک اسحاق پنجابی ہی تھا ناں۔ صرف یہ ہوا کہ اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک حصہ، ادا کی جانے والی لازمی قیمت سمجھا اور کسی خاص زبان یا قومیت کے خلاف تحریک نہیں شروع کی گئی۔
ففتھ جنریشن وار فیئر ایسے ہی بظاہر بے ضرر نظر آنے والے جملوں، فقروں، جھوٹی کہانیوں اور فیک ویڈیوز کی مدد سے لڑی جاتی ہے۔ اسے کنٹرول کرنے کے لیے ان مغالطوں کو دور کرنا ہو گا۔ عام آدمی تک حقائق پہنچیں، حکومتی ادارے اپنی ساکھ بہتر بنائیں، ان کی کہی بات پر عوام یقین کریں تو یہ سب سازشیں ان شااللہ ناکام بنا دی جائیں گی۔












