سیمی فائنل تک رسائی، انڈیا کے جیتنے کی دعا کریں

1992 کے ورلڈ کپ کی طرح ایک بار پھر پاکستانی ٹیم اگرمگر کی کشمکش میں مبتلا ہو گئی ہے، ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے اگلے چاروں میچز اچھے مارجن سے جیتنا ضروری ہیں تب ہی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے، کسی ایک میچ میں شکست کے بعد ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہوجائے گی۔

آئی سی سی کی ویب سائیٹ کے مطابق انڈیا سے ڈک ورتھ ایںڈ لوئس قانون کے تحت 89 رنز سے شکست کے بعد پاکستان تین پوائنٹس کے ساتھ ٹورنامنٹ میں نویں نمبر پر آ گیا ہے۔ پاکستانی ٹیم اگلے چاروں میچز جیت کر کل 11 پوائنٹس حاصل کر سکتی ہے۔ پاکستان کا اگلے میچز میں جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے سامنا ہو گا۔

نہ صرف یہ بلکہ پاکستانی ٹیم کو ’اگر مگر‘ کی صورت حال کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستانی ٹیم کو اگر سیمی فائنل کھیلنا ہے تو آئندہ میچز میں اسے اچھے مارجن سے کامیابی حاصل کرنا ہوگی بصورت دیگر کم مارجن سے جیتنے پر اسے اگلے میچز میں نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کی ہار کی دعا کرنا پڑے گی۔ نیوزی لینڈ آنے والے میچز میں پاکستان کے علاوہ اگر تین میچز یا پھر دو میچز بڑے مارجن سے ہارے تو بھی پاکستان سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ویسٹ انڈیز کے اگلے میچز میں ایک مرتبہ شکست کا فائدہ بھی پاکستان کو پہنچے گا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے اگلے چار میچز انڈیا، نیوزی لینڈ، سری لنکا اور افغانستان سے کھیلنے ہیں۔


پاکستانی ٹیم کو اگر سیمی فائنل کھیلنا ہے تو آئندہ میچز میں اسے اچھے مارجن سے کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔ تصویر: اے ایف پی

اگر پاکستان کے میچ میں بارش ہوئی تو پوائنٹس ملنے سے بھی نقصان اٹھانا پڑے گا تاہم اگر دیگر ٹیموں کے میچوں میں بارش ہوتی ہے تو پھر پوا ئنٹس ٹیبل کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔

 اب تک پاکستانی ٹیم نے چار میچز کھیلے ہیں۔ پہلے میچ میں اسے ویسٹ انڈٰیز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرے میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کو ہرایا جبکہ سری لنکا کے خلاف تیسرا میچ بارش کے باعث نہ ہو سکا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔ چوتھے میچ میں پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف شکست ہوئی۔ پانچویں میچ میں پاکستانی ٹیم انڈیا سے بھی ہار گئی جس کے بعد اب پاکستان کے پاس میچ ہارنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

شیئر: