Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈرامہ ’پری زاد‘ کی شُوٹنگ کرپشن سے بنائے گئے ایک بڑے محل میں کی گئی: نیب حکام

نیب کے مطابق ’محل اور دیگر متعلقہ اثاثے ریکور کر کے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کر دیے گئے ہیں‘ (فائل فوٹو: سکرین گریب)
نیب حکام کے مطابق ڈرامہ پری زاد کی اسلام آباد میں واقع ایک ایسے محل میں شُوٹنگ کی گئی جو کرپشن سے بنائی گئی ایک جائیداد ہے۔
یہ انکشاف منگل کو نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر اور ڈائریکٹر آپریشنز امجد مجید اولکھ کی جانب سے دی گئی میڈیا بریفنگ میں ہوا۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشہور ڈرامہ پری زاد اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی گلبرگ گرین میں واقع ایک بڑے مکان میں شُوٹ کیا گیا تھا جسے نہایت وسیع اور پُرتعیش انداز میں تعمیر کیا گیا تھا۔
اردو نیوز کی جانب سے مزید معلومات حاصل کرنے پر ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے بتایا کہ یہ رہائش گاہ دراصل کوہستان سکینڈل سے حاصل ہونے والی مبینہ کرپشن کی رقم سے تعمیر کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ پری زاد ایک مقبول پاکستانی ٹیلی وژن ڈرامہ تھا، جس کی کہانی ایک عام اور کم آمدن والے شخص کی زندگی، سماجی ناہمواریوں اور طبقاتی فرق کے گرد گھومتی ہے۔ 
اس ڈرامے نے اپنی منفرد کہانی، مضبوط مکالموں اور مرکزی کردار کی اداکاری کے باعث ناظرین میں خاصی مقبولیت حاصل کی تھی۔ 
ڈرامہ پری زاد کے بہت سے مناظر اصل مقامات پر شُوٹ کیے گئے تھے، جن میں کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد شامل ہیں۔ 
نیب ہیڈکوارٹرز میں دی جانے والی میڈیا بریفنگ میں نیب کے اعلٰی حکام نے بتایا کہ کوہستان سکینڈل کا آغاز ایک کلرک سے ہوا، جس پر اربوں روپے کی خُردبرد کا الزام ہے اور جس کے خلاف نیب کی تحقیقات جاری ہیں۔
تحقیقات کے دوران اس کے بعض اثاثے اسلام آباد میں بھی سامنے آئے، جن میں گلبرگ گرین میں واقع ایک عالی شان رہائش گاہ بھی شامل تھی۔ 
نیب کے مطابق یہ محل اور دیگر متعلقہ اثاثے ریکور کر کے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ کوہستان سکینڈل بظاہر ایک چھوٹے پیمانے سے شروع ہوا، تاہم وقت کے ساتھ اس کی مالیت بڑھتے بڑھتے قریباً 40 ارب روپے تک جا پہنچی۔
انہوں نے اس سکینڈل کے بارے میں مزید انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ریکوری کے دوران فلمی انداز میں چھپائی گئی رقم برآمد کی گئی۔‘
ڈپٹی چیئرمین نیب کے مطابق دیواروں کے اندر سے، آٹے کے ڈبوں، گھی کے ڈبوں اور پینٹ کے ڈبوں سے بھی کروڑوں روپے کی ریکوری کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ ’نیب نے کوہستان سکینڈل میں ریکوری کے دوران فلمی انداز میں چھپائی گئی رقم برآمد کر لی‘ (فائل فوٹو: نیب)

میڈیا بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نیب نے اسی سکینڈل میں کرپشن سے حاصل کی گئی درجنوں لگژری گاڑیاں بھی برآمد کیں، جنہیں خفیہ طور پر مختلف مقامات پر چُھپا کر رکھا گیا تھا۔
اس کے علاوہ ٹرک ڈرائیوروں، بینک ڈرائیوروں اور دیگر غیر متعلقہ افراد کے اکاؤنٹس میں خفیہ طور پر کروڑوں روپے رکھے گئے تھے۔
ڈپٹی چیئرمین نیب نے صحافیوں کے سوال پر منی لانڈرنگ کے کیسز سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ شاید پاکستان منی لانڈرنگ کا سبب بن رہا ہے، لیکن حقیقت میں پاکستان اس کا شکار ہے۔
’جب منی لانڈرنگ کے کیسز میں عالمی اداروں یا دیگر ممالک سے رابطہ کیا جاتا ہے تو اکثر اوقات بروقت اور مثبت جواب نہیں ملتا، اور بعض اوقات سات سے آٹھ سال بعد جا کر جواب موصول ہوتا ہے، جس میں وہی معلومات دوبارہ مانگی جاتی ہیں جو پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہوتی ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ عرصے میں متعدد ممالک کے ساتھ ایم او یوز پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں امید ہے کہ منی لانڈرنگ کی ریکوری کے معاملات میں پیش رفت ہوگی۔
62 کھرب 13 ارب کی ریکوری
ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر نے ادارے کی مجموعی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں نیب نے مجموعی طور پر 62 کھرب 13 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی ہے جو اس کے قیام سے اب تک کی سب سے بڑی ریکوریوں میں شامل ہے۔

ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر نے کہا کہ ’2025 میں نیب نے 62 کھرب 13 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

نیب کے اعلٰی حکام نے بتایا کہ سندھ میں لاکھوں ایکڑ ایسی زمین بھی ریکور کر کے حکومت سندھ کے حوالے کی گئی، جس کے بارے میں متعلقہ اداروں کو علم ہی نہیں تھا کہ یہ سرکاری زمین ہے۔
اس کے علاوہ ملک بھر میں مجموعی طور پر 29 لاکھ 80 ہزار ایکڑ قابض سرکاری اور جنگلاتی اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت 59 کھرب 80 ارب روپے بنتی ہے۔
متاثرین کو رقوم کی واپسی اور اوورسیز پاکستانیوں کے خصوصی سیلز
ڈپٹی چیئرمین نیب کے مطابق نیشنل بینک کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت 2 ارب 80 کروڑ ارب روپے دھوکہ دہی سے متاثرہ 12 ہزار 892 افراد کے بینک کھاتوں میں براہِ راست منتقل کیے گئے۔
صحافیوں کو یہ بھی بتایا گیا کہ نیب نے اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کے لیے خصوصی سیلز قائم کیے ہیں۔اس کے علاوہ نیب میں کیسز کو اے آئی کی مدد سے بھی حل کیا جا رہا ہے، جبکہ بہت جلد ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے کے لیے ہیلپ لائن بھی شروع کی جائے گی۔
بریفنگ کے مطابق بہت جلد ایسا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے شہری کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سرمایہ کاری کرنے سے قبل ضروری معلومات حاصل کر سکیں گے۔‘
’نیب میں اس وقت ای فائلنگ سسٹم فعال ہے، جس کے باعث کاغذ کا استعمال کم ہو گیا ہے اور ماحول دوست اقدامات کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔‘

نیب حکام کے مطابق ’کسی بڑی شخصیت کے خلاف انکوائری بند نہیں کی، بلکہ کیسز دیگر اداروں کو منتقل کیے گئے‘ (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)

ڈپٹی چیئرمین نیب نے بتایا کہ عدالتوں میں قریباً 302 ریفرنسز زیرِ سماعت رہے، جبکہ قانون میں تبدیلیوں کے باعث 240 ریفرنسز دیگر اداروں کو منتقل کیے گئے۔
صحافیوں کے سوالات پر ڈائریکٹر آپریشنز امجد مجید نے یہ بھیی واضح کیا کہ نیب نے کسی بڑی شخصیت کے خلاف انکوائری بند نہیں کی، بلکہ اختیار ختم ہونے کے بعد متعلقہ کیسز دیگر اداروں کو منتقل کیے گئے۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا نیب قوانین میں ترامیم کرنا پارلیمان کا استحقاق ہے جبکہ ہم صرف ان قوانین پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔
نیب کی وصولیوں کے معاملے پر اب بھی سنجیدہ شکوک و شبہات موجود ہیں: کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم
اردو نیوز نے نیب کی ریکوریز کو مزید سمجھنے کے لیے سینیئر وکیل کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم سے گفتگو کی۔
اُنہوں اس تاثر کو بظاہر دُرست قرار دیا کہ اس وقت نیب میں سیاسی نوعیت کے کم مقدمات بنتے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم اُن کے مطابق ’نیب کی وصولیوں کے معاملے پر اب بھی سنجیدہ شکوک و شبہات موجود ہیں۔‘
’نیب کی جانب سے جن بڑی ریکوریز کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اُن کی بنیاد زیادہ تر جائیدادوں کی مالیت پر رکھی گئی ہے، یعنی یہ بتایا جاتا ہے کہ اتنی جائیدادیں ضبط کی گئیں اور اُن کی مجموعی مالیت اتنی ہے، جسے رقم کی ریکوری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم کہتے ہیں کہ ’پلی بارگین کے تحت وصول ہونے والی رقوم کی تفصیلات واضح ہونی چاہییں‘ (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)

کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم کا مزید کہنا تھا کہ ’نیب کے نظام کی شفافیت سے متعلق اب بھی اہم سوالات موجود ہیں جیسے کہ اصل ریکوری کی تفصیلات کیا ہیں؟‘
’کس فرد سے کتنی رقم براہِ راست وصول کی گئی، اور کون سا شخص کس کیس میں ملوث پایا گیا اور ایسی تمام معلومات عوام کے سامنے آنی چاہییں۔‘
’نیب کے کیسز عمومی طور پر دو اقسام کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن میں پلی بارگین کی جاتی ہے، جس کے بعد کیس نمٹا دیا جاتا ہے، اور ایسے معاملات میں ریکوری سے متعلق مکمل تفصیلات شائع ہونی چاہییں۔‘
اُن کے مطابق ’دوسری قسم کے کیسز وہ ہوتے ہیں جن میں نیب عدالت کی جانب سے جُرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ ایسے معاملات میں فوری طور پر حتمی تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔‘
’اس کی وجہ یہ ہے کہ عدالتی فیصلے میں بعد ازاں تبدیلی کا امکان موجود ہوتا ہے، تاہم پلی بارگین کے تحت وصول کی جانے والی رقوم کی مکمل تفصیلات بہرحال واضح ہونی چاہییں۔‘
کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم کہتے ہیں کہ ’نیب کو صرف جائیدادوں کی مالیت کو بنیاد بنا کر ریکوری ظاہر کرنے کے بجائے نقد رقم میں ہونے والی وصولیوں کی بھی واضح اور قابلِ فہم تفصیلات فراہم کرنی چاہییں۔‘
انہوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور کے ایک ایسے کیس کا حوالہ دیا جس کی سماعت کے دوران وہ خود عدالت میں موجود رہے۔
سینیئر وکیل کے مطابق ’نیب نے اس کیس میں خود تسلیم کیا تھا کہ متعدد اہم تفصیلات تاحال سامنے آنا باقی ہیں۔ یہ کرپشن کا ایک کیس تھا اور محض ملزم کی موت سے قانونی کارروائی خودبخود ختم نہیں ہو جاتی۔‘
’نیب نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس کیس میں مزید 18 بینک اکاؤنٹس کی نشان دہی کی گئی تھی، جن پر مزید تحقیقات ہونا تھیں، تاہم آج تک اس مقدمے کو حتمی طور پر منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکا۔‘

شیئر: