تیزاب پھینک کر تین خواتین کو ہلاک کرنے والے کو پھانسی

’اشرف کو موت کی سزا تیزاب پھینکنے پر نہیں بلکہ تین قتل کرنے کے جرم میں ہوئی۔‘
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی سنٹرل جیل میں ایک ایسے مجرم کو پھانسی دی گئی ہے جس نے تین خواتین پر تیزاب پھینک کر انہیں ہلاک کر دیا تھا۔
لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ اعجاز اصغر کے مطابق اشرف نور نامی مجرم کو مقامی مجسٹریٹ کی موجودگی میں بدھ کی صبح تختہ دار پر لٹکایا گیا۔
لاہور پولیس کے مطابق تیزاب گردی کا یہ واقعہ مستی گیٹ کے علاقے میں 2002 میں پیش آیا تھا جب اشرف نے آسیہ نامی خاتون سے تیسری شادی کی۔ اشرف کی تیسری شادی کا علم ہونے پر آسیہ نے اس کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا اور طلاق مانگ لی۔ اس کا بدلہ لینے کے لیے اشرف نے آسیہ سمیت گھر کی خواتین پر تیزاب سے حملہ کر دیا۔

اشرف نے آسیہ سمیت گھر کی دیگر خواتین پر تیزاب سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین خواتین ہلاک ہو گئی تھیں۔

اس حملے میں کل سات خواتین زخمی ہوئیں جبکہ تین خواتین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ادیبہ، عائشہ اور ارم شامل تھیں۔ ملزم پر قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور ٹرائل کورٹ نے اسے موت کی سزا سنائی جسے ایپلٹ کورٹس نے بھی بحال رکھا۔ 
جب اشرف نے اس جرم کا ارتکاب کیا اس وقت پاکستان میں تیزاب گردی سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں تھا۔ لہٰذا ان پر قتل کرنے، زبردستی گھر میں گھسنے اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمات چلائے گئے اور تقریباً تمام مقدموں میں قصور وار ٹھہرا کر الگ الگ سزائیں سنائی گئیں۔ 

تیزاب گردی کے واقعات میں کمی

پاکستان میں تیزاب گردی کے شکار افراد کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ایسڈ سروائیورز فاونڈیشن‘ کے مطابق تیزاب سے جھلسانے کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تنظیم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2018 تک پاکستان میں تیزاب گردی کے کُل 1160 واقعات رپورٹ ہوئے۔
فاؤنڈیشن کے 2012 کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی پنجاب میں چھ سالوں میں سب سے زیادہ تیزاب پھینکنے کے واقعات ہوئے۔ جنوبی پنجاب کا ضلع ملتان ان واقعات میں پہلے نمبر پر رہا جہاں کل 64 تیزاب گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ گذشتہ چھ سال میں وسطی پنجاب میں سب سے زیادہ تیزاب پھینکنے کے واقعات ضلع لاہور میں ہوئے جن کی تعداد 43 ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے کم تیزاب گردی سے متاثر ہونے والا صوبہ بلوچستان ہے جہاں گذشتہ چھ سالوں میں نو ایسے واقعات رپورٹ ہوئے۔ 

تیزاب گردی کا قانون متاثرہ شخص کی بحالی اور تیزاب کی کُھلےعام فروخت کے حوالے سے خاموش ہے۔

موت کی سزا حل نہیں؟

’ایسڈ سروائیورز فاونڈیشن‘ کی سربراہ ولیری خان نے لاہور میں پھانسی کی سزا پانے والے اشرف کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ گذشتہ ایک دہائی سے تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کام کر رہی ہیں اور انہیں اس بات کا فخر ہے کہ موت کی سزا کے بغیر ہی 2015 سے ان واقعات میں 50 فیصد کمی آئی ہے۔
’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ دیکھیں 2015 سے پہلے پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے سالانہ اوسطاً 400 واقعات رپورٹ ہوتے تھے، 2015 کے بعد سے ان کی تعداد میں اوسطاً 50 فیصد کمی آئی ہے‘ انہوں نے کہا کہ اشرف کو موت کی سزا تیزاب پھینکنے پر نہیں بلکہ تین خواتین کو قتل کرنے کے جرم میں ہوئی۔ ’میں کبھی بھی موت کی سزا کے حق میں نہیں رہی۔ سزا کا ایک بین الاقوامی اصول ہے کہ سزا سخت ہونے کے بجائے مؤثر ہونی چاہیے۔‘

تیزاب گردی پر قانون سازی

پاکستان میں پہلی مرتبہ تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے 2011 میں قانون بنایا گیا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ قانون متاثرین کی بحالی پر فوکس کرنے کے بجائے سزا کو فوکس کرتا ہے حالانکہ قانون متاثرین کی مدد کے لیے ہونا چاہیے۔ نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن خاورممتاز کا کہنا ہے کہ قانون کے بہت سے مثبت پہلو ہیں لیکن یہ ابھی بھی ناکافی ہے۔ ’قانون جس پہلو پر خاموش ہے وہ تیزاب کی کُھلےعام فروخت ہے، اسی طرح متاثرہ شخص کی بحالی کو کیسے ممکن بنایا جائے، قانون اس پر بھی خاموش ہے۔‘
ولیری خان کہتی ہیں کہ ’قانون میں ترمیم کا مسودہ جو ان نقائص کو دور کرتا ہے ابھی بھی سرد خانے میں پڑا ہے شاید حکومتوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔‘ 

شیئر: