اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس، اعلامیے کی تیاری

جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کے لیے حزب اختلاف کی جماعتیں آج سر جوڑ کر بیٹھیں گی۔ کل جماعتی کانفرنس جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں ہوگی۔
کانفرنس میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں شرکت کریں گی۔
  کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کرنے والی سیاسی جماعتوں کا حکومت مخالف تحریک چلانے کے حوالے سے مختلف موقف دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سڑکوں پر حکومت مخالف تحریک چلانے کے حامی نظر آتے ہیں تو پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کو اپنی مدت پوری کرنے دینے کی حامی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمیں بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کے لیے پیپلزپارٹی کا پانچ رکنی وفد تشکیل دے دیا ہے۔ جس سید یوسف رضاگیلانی، میاں رضا ربانی، سید نئیر حسین بخاری، شیری رحمن اور فرحت اللہ بابر شامل ہیں۔  شروع میں بلاول کی اے پی سی میں شرکت کے حوالے سے شکوک و شہبات تھے تاہم آج انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں اے پی سی میں شرکت کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ وہ آج بجٹ سیشن اجلاس میں بجٹ کٹوتی کی تحریک میں بھی حصہ لیں گے۔  بلاول کی اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ پیپلز پارٹی کے پارلیمنٹ ہاؤس منعقد ہونے والے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔

 مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے سربراہوں کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ فوٹو اے ایف پ

خیال رہے گذشتہ ماہ بلاول بھٹو کی میزبانی میں اپوزیشن رہنماؤں کے افطار ڈنر میں عید کے بعد کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
بلاول بھٹو کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے سیکرٹری فرحت اللہ بابر اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری توجہ اے پی سی کے ساتھ ساتھ بجٹ اجلاس پر بھی ہے۔
بجٹ اجلاس میں بھی ہماری موجودگی بھی انتہائی ضروری ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کر کے حکومت کو واک اوور دے دیں۔
 مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے سربراہوں کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان کے مطابق پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، سینیٹر حاصل بزنجو، سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، اسفندیار ولی اور آفتاب خان شیرپاؤ کو بھی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔  جے یو آئی کے ترجمان کے مطابق متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں کے سربراہان کو بھی دعوت نامے بھجوائے گئے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق، ساجد نقوی، ساجد میر اور اویس نورانی کو بھی کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تاہم ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق انہوں نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اے پی سی میں شرکت پر مشروط رضا مندی ظاہر کی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی نے کل جماعتی کانفرنس کے لیے ایجنڈے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

سردار اختر مینگل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے تحفظات مولانا اسعد محمود کے ذریعے مولانا فضل الرحمن تک پہنچا دیے ہیں، تحفظات دور ہونے کی صورت میں اے پی سی میں شرکت کریں گے۔

کل جماعتی کانفرنس کا ایجنڈا کیا ہوگا؟

پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے ’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اے پی سی میں مختلف نظریات کی حامل جماعتیں شرکت کر رہی ہیں جن میں ’ہمارے سابقہ سیاسی حریف بھی موجود ہیں اور ہر جماعت کا الگ الگ موقف ہے‘۔ پیپلز پارٹی تین ایشوز کے ساتھ کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کرے گی جن میں حکومت کی ناقص معاشی پالیسی، جمہوری روایات پر قدغن اور انسانی حقوق کے مسائل شامل ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے ’اردو نیوز‘ کو بتایا کہ کل جماعتی کانفرنس کے حوالے سے منگل کو مشاورتی اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ ن نے کل جماعتی کانفرنس کے لیے ایجنڈے کو حتمی شکل دی۔ احسن اقبال نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ کانفرنس بدھ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگی۔
 

حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میں رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ فوٹو ٹویٹر

پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا کہ ملک میں عدلیہ پر دباو، آزادی صحافت اور شمالی وزیرستان میں حالیہ کشیدہ صورتحال تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور حکومت کی کمزور معاشی پالیسیوں کے باعث آنے والے مہنگائی کے طوفان پر اپنے تحفظات کل جماعتی کانفرنس میں رکھیں گے۔
نفیسہ شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن کا مثبت کردار ادا کرتی رہے گی ۔ 'ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے قطعا نظر اس بات سے کہ وزیراعظم اور کابینہ اپنا وقت پورا کرتے ہیں یا نہیں۔ اس سطح پر اتنا احتجاج نہیں کریں گے جس سے جمہوری نظام کو کوئی خطرہ ہو۔' نفیسہ شاہ نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اسمبلی سے استعفے دینے کے آپشن پر بھی غور نہیں کر رہی۔

شیئر: