ابوظہبی ایئرپورٹ پر غیر مسلموں کے لیے کثیر المذہبی عبادت گاہ کا افتتاح

ابوظہبی ایئرپورٹ کے احاطے میں پہلی کثیرالمذہبی عبادت گاہ کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اے ایف پی
متحدہ عرب امارات میں معاشرے میں رواداری کو فروغ دینے کے ادارے نے ابوظہبی ایئرپورٹ پر غیر مسلموں کے لیے کثیر المذاہب عبادت گاہ کا افتتاح کیا ہے۔ غیر مسلم ابوظہبی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنے عقائد کے مطابق اپنی عبادات انجام دے سکیں گے۔
اماراتی خبر رساں ادارے وام کے مطابقابوظہبی حکومت کے اس اقدام کا مقصد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے عقائد کے مطابق مکمل آزادی کے ساتھ مذہبی رسومات کی ادائیگی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
رواداری کے فروغ کے ادارے نے ابوظہبی ایئرپورٹ کمپنی کے تعاون سے چیئرمین شیخ محمد بن حمد بن طحنون آل نہیان کی موجودگی میں ایئرپورٹ پر عبادت گاہ کا افتتاح کیا۔ 
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں 2019 رواداری کا سال منایا جارہا ہے. مذکورہ عبادت گاہ کا قیام رواداری کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔

عبادت گاہ میں مختلف مذاہب کے پیروکار آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کرسکیں گے۔

غیر مسلموں کے لیےعبادت گاہ ایئر پورٹ کی بلڈنگ میں بسوں کے گیٹ کے قریب بنائی گئی ہے۔ امارات ایسا ملک ہے جہاں دنیا بھر سے لاکھوں افراد سیاحت، رہائش، روزگار اور سرمایہ کاری کے لیے آتے ہیں۔
ابوظہبی ایئرپورٹ پر عبادت گاہ کے قیام سے ٹرانزٹ کے مسافر، ایئرپورٹ پر کام کرنے والے غیر مسلم استفادہ کر سکیں گے۔
ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر مغیر الخییلی نے بتایا کہ عبادت گاہ کا ڈیزائن طویل غوروخوض کے بعد بنایا گیا۔ اس بات کو مدنظر رکھا گیا ہے کہ مختلف مذاہب کے افراد اپنے عقیدے کے مطابق کس طرح آسانی سے عبادت کر سکیں۔ اس عبادت گاہ کے افتتاح سے مختلف تہذیبوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان رواداری کو فروغ ملے گا۔
عبادت گاہ کے افتتاح سے مختلف تہذیبوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان رواداری کو فروغ ملے گا۔ 
 حکام کے مطابق عبادت گاہ کے افتتاح سے مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والوں میں رواداری کو فروغ ملے گا۔ 

 
الخییلی نے امارات الیوم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قیادت دنیا بھر کی اقوام کے ساتھ پیار و محبت کی کھڑکیاں کھولنے اور انہیں کھلا رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ’ہمارے قائدین چاہتے ہیں کہ تمام مذاہب اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ پیار محبت سے رہیں۔‘
خیال رہے کہ حال ہی میں ابوظہبی حکومت نے 19عبادت گاہوں کے قیام کے اجازت نامے جاری کیے تھے جن میں عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے 17 گرجا گھر اور ہندوﺅں کے لیے ایک مندر اور سکھوں کے لیے ایک گردوارہ شامل ہے۔

شیئر: